آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ چترال میں تین روز ہ سائنس، ٹیکنا لوجی اور آرٹس مقابلے اختتام پذیر  – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ چترال میں تین روز ہ سائنس، ٹیکنا لوجی اور آرٹس مقابلے اختتام پذیر 

آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ چترال میں تین روز ہ سائنس، ٹیکنا لوجی اور آرٹس مقابلے اختتام پذیر 

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ چترال میں تین روزہ سائنس،ٹیکنالوجی اور آرٹس مقابلے اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس مقابلے میں چترال کے ۴۱ سکول اور کالجز کے تقریباً۲۵ پروجیکٹس رجسٹرڈ ہوئے اور ۳۳۱ طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔
ان مقابلوں کی وزٹ آغا خان یونیورسٹی کے پرووسٹ کارل آمرہین، ڈائریکٹر پرووسٹ آفس ڈاکٹر روس لینڈ، ایکٹنگ ڈائریکٹر اے کے یو ائی ای ڈی ڈاکٹر ساجد علی،اسپیشل ایڈوائزر ٹو پرووسٹ ڈاکٹر صدر الدین پردھان،ایگزیکٹیو افیسرآف دی پرووسٹ سلیمہ پنچوانی،ڈائریکٹر اے کے ایف صغریٰ چودھری کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں سرکاری اور غیر سرکاری افیشلز، اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے کی۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم اور صدر محفل کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل معین الدین جبکہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اس تقریب کے اعزازی مہمان تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ان مقابلوں میں سائنس کے ساتھ ساتھ آرٹس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے تقریب کے دوران طلباء کے پروفارمنس کو دیکھتے ہوئے کہا کہ اس سکول کے بچے اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی ایڈونس ملک کے بہترین سکول کے طلباء سے کم نہیں۔انہوں نے اس طرح کے مقابلوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مقابلے باقاعدگی سے ہونے چاہیئے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیا رہے۔
کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل معین الدین نے اپنے صدارتی خطاب میں آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ کے اسا تذہ اور طالب علموں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے حوالے سے جدید دنیا کی جو سوچ ہے آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول اس سوچ کی مکمل غمازی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا میں ذاتی طور پر تعلیم کو محض معلومات کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ طلباء کی اخلاقی،نفسیاتی،سماجی اور معاشرتی حوالوں سے تربیت کا قائل ہوں۔ اور یہ تربیت مجھے اس سکول میں نظر آئی ہے۔
تقریب کے اعزازی مہمان ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے پروگرام کے حوالے سے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال کے اساتذہ اور طالب علموں کی صلاحیتوں اور کاوشوں کو سراہا اور کہا آج کی تقریب میں طلباء نے جن صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیا وہ حیران کن تھے۔
اسکول ہذا کے پرنسپل طفیل نواز نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے پروگرام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعدسائنس، ٹیکنا لوجی اور آرٹس مقابلوں میں حصہ لینے والے سکولوں کے پرنسپل صاحباں میں سرٹیفیکیٹ اورجیتنے والے طلبا و طالبات میں شیلڈ،میڈل،ٹرافی اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے گئے۔
سائنس مقابلوں کے کیمسٹری کیٹیگری میں ایف۔سی۔ پی۔ایس چترال کے طلبہ عاریشہ رفیع، حماد اللہ اور مہین معین نے پہلی،آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول کوراغ کی طالبات رخسار امیر اور شازیہ دوسری اور آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال کے طلباء سید توصیف علی شاہ،آفاق علی داد اور احمد فراز تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
ریاضی میں گورنمنٹ گرلزڈگری کالج چترال کی طالبات شگفتہ نظیم، تحریم الرحمنٰ اور ثنا جبار نے پہلی پوزیشن، آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال کے طلبا ء یزدان علی، عاکف منصور اور علیان خان دوسری، ایف۔سی۔پی۔ایس دروش کی حامنہ بشیر، عروش اقبال اور شافیہ حسام او رآغاخان ہائیر سیکنڈری سکول کوراغ کی شہلا امیر اوربنشفہ سید نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
فزکس مقابلوں میں ایف۔سی۔ پی۔ایس دروش کی محمد یونس کامران، نظام الدین اور لائبہ نے پہلی پوزیشن، آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال کے اویس علی،تشفین علی اورسید اسد علی شاہ دوسری، ایف۔سی۔پی۔ایس چترال کی عالیہ صبور، رہا مسعو اور شہباز علی نیتیسری پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ کمپؤٹر سائنس میں آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال حنیف علی، مسرور علی اورعبدالحمید نیپہلی پوزیشن، ایف۔سی۔پی۔ایس دروش کی مروہ اکبر اور لامیہ امتیاز دوسری اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چترال کے وجاہت اللہ اور فہیم جان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
بیالوجی میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چترال کے فصیح الدین، عامر زیب سلطان اور توصیف احمد نے پہلی پوزیشن، آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال وسیم اقبال اور مظہر علی دوسری اور گورنمنٹ گرلزڈگری کا لج کی مہر انگیز اور افسہ سجادنے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح آرٹس مقابلوں میں آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول کوراغ کی ساروش علی تاج اور عظمی ٰ جمیل نے پہلی پوزیشن، ایف۔سی۔پی۔ایس دروش کے مظہر فہیم،انور الدین اور تنویر اللہ نے دوسری اور ڈاکٹر اے۔ کیو خان کی انجم شاہین، عظمی ٰ فاطمہ بتول اور زینت جہاں نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ کیلی گرافی میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چترال کے آفاق الیاس، فرحان اللہ اور بابر حیات نے پہلی پوزیشن، الناصر سکول گرم چشمہ کی نائلہ سرور، الکہ رانی اور مظہر الدین نے دوسری اور آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال کے مبشر ظفر، علیان سردار اور صریر احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور اسی طرح اسکیچ مقابلوں میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ چترال کے علیان الرحمنٰ اور پرویز الدین،جی ڈی سی بوائزکے دانیال اسلم، فرحان اللہ اور ایف سی پی ایس چترال کی خوش بخت انور، بلال اشرف اور عباس علی نے بالترتیب پہلی، دوسری او ر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ججز کے فرائض ،چترال یونیورسٹی کے مسعود انور، محسن الملک صدیقی،شاہ فہدعلی خان، ظہور الحق دانش،مطیع الرحمنٰ اور فتح الباری،ڈگری کالج چترال کے محمد صابر،لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کے عطا و? اللہ، تریچمیر سکول کے اعجاز خان، چترال کالج آف ایجوکیشن کے فصیحہ جمال،گورنمنٹ اسکول کے رمضان علی کے ساتھ ساتھ معروف آرٹسٹ نثار احمد نے سرانجام دیئے۔
اختتامی تقریب میں آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول سین لشٹ چترال کے میوزک کلب اور ڈرامہ کلب کے ممبراں نیاپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے ناظرین کومختلف خاکوں اور ملی نغموں اور اردو و کھوار موسیقی کے ذریعے محظوظ کراتے رہے۔ اختتام پر فیکلٹی ممبر نور شمس الدین نے مہمانوں، مختلف سکولز اور کالجز سے آئے ہوئے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کاشکریہ ادا کیا۔
بعد آزاں مہماناں گرامی مہمان خصوصی کے ہمراہ طالبہ و طالبات کے لگائے گئے پروجیکٹز کا بھی دورہ کیا اور طلبا و? طالبات کی تخلیقی کاموں کو دیکھنے کے بعد طلباو? طالبات کے کام کو سراہا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں آفیشلز،اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

تورکہو روڈ کی خستہ حالی ڈرائیور یونین کی طرف سے تین روز سے پایہ جام ہرتال

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)تورکہو روڈ کی انتہائی خستہ حالی کی وجہ سے ڈرائیور برادری کا ہرتال تیسرے ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔