صوبائی وزیر مال شکیل احمدایڈوکیٹ نے چترال کو 2 اضلاع میں تقسیم کی منظوری کوچترالی عوام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے تحفہ قرار دیا – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | صوبائی وزیر مال شکیل احمدایڈوکیٹ نے چترال کو 2 اضلاع میں تقسیم کی منظوری کوچترالی عوام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے تحفہ قرار دیا

صوبائی وزیر مال شکیل احمدایڈوکیٹ نے چترال کو 2 اضلاع میں تقسیم کی منظوری کوچترالی عوام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے تحفہ قرار دیا

پشاور (نمائندہ چترال ایکسپریس خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مال شکیل احمد ایڈوکیٹ نے چترال کو 2 اضلاع میں تقسیم کی منظوری کو وہاں کے عوام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے چترال کے عوام کی پسماندگی دور ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ضلع چترال سے آنے والے عوامی جرگے کو چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے حوالے سے نوٹیفیکشن حوالے کرنے کے موقع پر کیا۔ جرگے کی قیادت ممبر صوبائی اسمبلی وزیرزادہ اور پی ٹی آئی چترال کے ضلعی صدر عبداللطیف کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر علاقہ عمائدین اور پارٹی عہدیداران بھی موجود تھے۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ما ل نے کہا کہ ضلع چترال کے عوام کے لئے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے پسماندہ اضلاع کو دیگر اضلاع کے مساوی ترقی دینے کیلئے جامع پالیسی کے تحت اقدامات کرہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع چترال رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہونے کے علاوہ قدرتی وسائل سے مالامال اور سیاحتی اعتبار سے پرُکشش علاقہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ماضی میں کسی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی جس سے علاقے کے عوام کے احساس محرومی میں اضافہ ہوا۔ شکیل احمد نے کہا خیبر پختونخوا حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے چترال کے عوام سے کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ضلع چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکشن جاری کردیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

تورکہو روڈ کی خستہ حالی ڈرائیور یونین کی طرف سے تین روز سے پایہ جام ہرتال

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)تورکہو روڈ کی انتہائی خستہ حالی کی وجہ سے ڈرائیور برادری کا ہرتال تیسرے ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔