پی ٹی آئی چترال کا دریائے کابل کانام دریائے چترال رکھنے اور ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ بڑھانے کی قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | پی ٹی آئی چترال کا دریائے کابل کانام دریائے چترال رکھنے اور ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ بڑھانے کی قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع

پی ٹی آئی چترال کا دریائے کابل کانام دریائے چترال رکھنے اور ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ بڑھانے کی قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع

پشاور ( نمائندہ چترال ایکسپریس) تحریک انصاف چترال نے دریائے کابل کا نام تبدیل کر کے دریائے چترال رکھنے کی اور ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ بڑھا کر پانچ فیصد کرنے کی قرار داد صوبائی اسمبلی میں جمع کرا دی ۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی وزیرزادہ نے دریا ئے کابل کا نام تبدیل کردریائے چترال اور اقلیتوں کا کوٹہ بڑھا کر پانچ فیصد کرنے کی الگ الگ قرارداد صوبائی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کر ادی اس موقع پر پی ٹی آئی چترال کے صدر عبداللطیف بھی موجود تھے ۔قراداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دریائے کابل کا نام تبدیل کر کے دریائے چترال رکھا جائے ‘قرار داد کے مطابق چونکہ مذکورہ دریا چترال کے پہاڑوں سے وجو د میں آتا ہے اور افغانستان کے صوبہ بدخشاں کا بہت قلیل پانی اس میں شامل ہوتا ہے اور یہ سینکڑوں کلو میٹر کا فاصلہ چترال کے سر زمین سے طے کرتے ہو ئے افغان صوبہ کنڑمیں داخل ہوتا ہے اور وہاں سے دوبارہ صوبہ خیبرپختونخوا میں داخل ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے اس لئے اس دریا کو دریائے کابل کا نام دینا کسی طور بھی قابل فہم نہیں لہذا صوبائی اسمبلی قرار داد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کرے کہ مذکورہ دریا کا نام دریائے چترال رکھا جائے اور اسی نام سے پکار ا اور لکھا جائے ‘یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی چترال کے ایک ورکر نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ کے ذریعے مذکورہ دریا کا نام دریائے چترال رکھنے کامطالبہ کر چکے ہیں ۔ دوسری قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں اقلیتوں کو بہتر مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ملازمتوں میں ان کا کوٹہ بڑھا کر پانچ فیصد کیا جائے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

مرغی اور خوشحالی کا باہمی تعلق

…….محمد شریف شکیب…… وزیراعظم کے دیسی مرغیوں والے بیان پر سوشل میڈیا اور سیاسی پلیٹ ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔