بزم فاران: گوگل نقشہ جات اور چترالی – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

بزم فاران: گوگل نقشہ جات اور چترالی

ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرنا انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھتی گئی ویسے ویسے سفر بھی دور دراز علاقوں تک ہونے لگا۔ ہر دور میں جس بندے کو راستوں اور سمتوں کا صحیح اندازہ ہوتا تھا اسے بہت اہمیت دی جاتی رہی، کیونکہ اسی کے رہبری میں سمندروں، صحراؤں، پہاڑوں اور میدانوں میں قافلے سفر کیا کرتے تھے۔ ویسے بھی جنہیں راستوں اور منزلوں کا علم ہو وہی رہبر بنتے ہیں۔ خیر انسان نے اس سارے نظام کو آسان سے آسان تر کرنے کے لئے اس پر بہت غور و فکر کیا۔ پہلے سورج، چاند اور خاص طور پر ستاروں سے سمت معلوم کی جاتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کئی قسم کے نقشے اور سمت معلوم کرنے والے آلے یعنی قطب نما (Compass) بنائے گئے۔ خیر وقت بدلتا گیا اور سائنس دن بدن ترقی کرتی گئی

آج کے جدید ذرائع نقل و حرکت مثلاً جہاز اور گاڑی وغیرہ میں بہت اعلیٰ معیار کی سمتی و نقشہ جاتی نظام (Navigation System) والی مشینیں نصب ہیں، جن کی مدد سے منزل اور راستے کی مکمل معلومات نہایت آسانی سے ملتی ہے۔ اور تو اور سمارٹ فون کی صورت میں چھوٹی سی مشین حضرت انسان کی پہنچ میں آ چکی ہے۔ جس کی بدولت صرف دنیا سے رابطے ہی استوار نہیں ہوتے بلکہ اب تو سمارٹ فونز میں قطب نما، نقشہ جات اور جی پی ایس (GPS) کی سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ اس جدید نظام میں راستے، سمتیں اور فاصلے تو کیا، زمین کے چپے چپے کی معلومات بلکہ حقیقی تصویر موجود ہے۔ محض چند منٹوں میں پوری دنیا کے نقشے کھنگالے جا سکتے ہیں۔

سمتی و نقشہ جاتی نظام (نیویگیشن) کی سہولت رکھنے والے سمارٹ فونز یا دیگر مشینوں میں قطب نما اور جی پی ایس کا ہارڈویئر لگا ہوتا ہے۔ عام طور پر سمت تو قطب نما سے معلوم ہو جاتی ہے لیکن اگر قطب نما کا ہارڈویئر نہ لگا ہو تو پھر سفر کرتے ہوئے جی پی ایس سے بھی سمت معلوم ہو جاتی ہے۔ جی پی ایس ایک وقت میں کم از کم چار سیٹلائیٹس سے رابطہ قائم کر کے کام کرتا ہے اورکسی مقام کی نشاندہی، سطح سمندر سے بلندی اور رفتار وغیرہ بتاتا ہے۔ اس کے علاوہ جغرافیائی معلومات اور نقشے یا تو پہلے سے مشین میں نصب کر لیے جاتے ہیں یا پھر ساتھ ساتھ بذریعہ انٹرنیٹ مختلف کمپنیوں یا اداروں سے حاصل کئے جاتے ہیں۔

آج کل مختلف ادارے جغرافیائی معلومات اور نقشوں کی سہولیات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں قابل ذکر گوگل،یاہو، مائیکروسافٹ بنگ اور وکی میپیا وغیرہ ہیں۔ یوں تو یہ سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں مگر گوگل جہاں اپنی دیگر منفرد سہولیات کے باعث چھایا ہوا ہے، وہیں پر گوگل میپس (Google Maps) اور گوگل ارتھ (Google Earth) جیسے سافٹ ویئرز کی بدولت اس میدان پر بھی راج کر رہا ہے۔ گوگل میپس جیسا کہ نام ظاہر ہے کہ یہ بنیادی طور پر نقشہ جات کے متعلق ہے جبکہ گوگل ارتھ جغرافیہ سے متعلقہ ایک ایسا سافٹویئر ہے جس میں سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر کی مدد سے بالکل حقیقی زمین کی طرح کرہ ارض بنایا گیا ہے۔ اس میں نقشوں سمیت جغرافیہ کی بہت ساری معلومات ملتی ہے۔

جس طرح دنیا کی کئی ایک سروسز جیسے سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائیٹ، وکی پیڈیا اور یوٹیوب وغیرہ عوامی تعاون سے پروان چڑھی ہیں یعنی عام لوگ تھوڑا تھوڑا حصہ ڈالتے گئے اور وہ سروس دن بدن بڑھتے بڑھتے ایک بہت بڑے ادارے کی صورت اختیار کر گئی، بالکل ایسے ہی گوگل ارتھ اور میپس میں بھی عوام کا بہت بڑا حصہ موجود ہے۔ شروع میں گوگل نے زمین کا ایک سرسری سا نقشہ بنایا ، جس میں کچھ ممالک، شہروں اور مقامات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ چند شہروں اور سڑکوں کے نقشے بھی بنا دیئے۔ اس کے بعد چند ایسی سروسز شروع کیں کہ جن کے ذریعے کوئی بھی اپنا حصہ ڈال سکتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال گوگل میپ میکر، پینورامیو (Panoramio) اور ”سکیچ اپ“ ہیں۔ گوگل میپ میکر کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے والا کوئی بھی بندہ نقشے بنا اور مختلف مقامات کی نشاندہی وغیرہ کر سکتا ہے۔ مزید پینورامیو کے ذریعے کسی بھی مقام کی تصویر اپلوڈ اور سکیچ اپ کے ذریعے کسی عمارت کا 3D نقشہ بنایا جا سکتا ہے۔ گوگل میپ میکر، پینورامیو اور سکیچ اپ کے ذریعے شامل کیے جانے والے نئے مواد کو گوگل کے ماڈریٹر چیک کرتے ہیں اور درست ہونے کی صورت میں اس مواد کو گوگل میپس اور گوگل ارتھ وغیرہ میں شامل کر دیتے ہیں۔ بہرحال عوام نے اس سارے کام میں یعنی نقشے بنانے اور تصاویر اپلوڈ کرنے میں بڑے شوق سے حصہ لیا۔ گوگل ارتھ/میپ کے اتنے جدید ہونے کے پیچھے صارفین اور نقشہ سازوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ آج وہ وقت ہے کہ جب اکثر سڑکوں اور مقامات کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ گوگل کے نقشے بنانے میں جہاں دیگر دنیا کے لوگوں نے حصہ لیا وہیں پر پاکستانی بھی پیچھے نہ رہے۔

زمینی نقشہ جات اور جغرافیہ سے متعلقہ معلومات کے لئے گوگل ارتھ/میپس اس وقت بہت مشہور ہے۔ یہ کمپیوٹر کے تقریباً تمام آپریٹنگ سسٹمز کے ساتھ ساتھ اکثر سمارٹ فونز کے لئے بھی دستیاب ہیں۔ گاڑیوں کے نیویگیشن سسٹم تک گوگل میپ سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ مختلف مشینوں یعنی کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ میں مختلف ہارڈویئر ہونے کی وجہ سے گوگل ارتھ/میپس مختلف سہولیات فراہم کر پاتا ہے۔ یعنی اگر مشین میں قطب نما (کمپاس) اور جی پی ایس کا ہارڈویئر لگا ہو تو تب ہی سمت اور مقام کی نشاندہی وغیرہ ہو سکتی ہے۔ خیر ابھی گوگل ارتھ/میپس کی چند اہم سہولیات کو دیکھتے ہیں۔

”گوگل میپس“ بنیادی طور پر نقشہ جات کا ایک مکمل پروگرام ہے۔ اس کی مدد سے مختلف قسم کے نقشے، کسی مقام کی تلاش، ایک مقام سے دوسرے تک کا فاصلہ، راستہ اور درکار وقت معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اگر مشین جیسے سمارٹ فون وغیرہ میں جی پی ایس کی سہولت موجود ہو تو پھر یہ پروگرام سٹیلائیٹ سے مواد لے کر موجودہ مقام اور سفر کرتے ہوئے سمت وغیرہ بھی بتا دیتا ہے اور اگر پہلے سے گوگل میپس کو بتایا ہو کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک جانا ہے تو سفر کرتے ہوئے ساتھ ساتھ بتاتا جاتا ہے کہ اب فلاں طرف مڑ جائیں یا سیدھا جائیں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ مختلف سڑکوں پر موجود ٹریفک وغیرہ کے متعلق بھی اپڈیٹ دیتا ہے۔ گوگل میپس میں کوئی بھی صارف اپنے پسندیدہ مقامات کی نشاندہی کر کے محفوظ کر سکتا ہے تاکہ بوقت ضرورت تلاش کرنے کی بجائے فوری معلوم ہو سکے۔ یاد رہے گوگل میپس یا ارتھ میں اپنے پسندیدہ مقام کی نشاندہی یا راستہ بنانا ”گوگل میپ میکر“ میں بنائے گئے نقشے سے مختلف چیز ہے۔ میپ میکر میں جو کچھ بنایا جاتا ہے، آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گوگل اسے اپنے سافٹ ویئرز میں شامل کرے اور وہ دوسروں کو بھی نظر آئے جبکہ یوں ”ارتھ یا میپ“ میں اپنے پسندیدہ مقام کی نشاندہی کر کے جو کچھ محفوظ کیا جاتا ہے وہ صرف بنانے والے کو ہی نظر آتا ہے یا پھر اسے نظر آتا ہے جس سے وہ خود شیئر کرے۔

”گوگل ارتھ“ نقشہ جات اور خاص طور پر جغرافیہ سے متعلقہ ایک زبردست سافٹ ویئر ہے۔ گوگل ارتھ میں گوگل میپس کی تقریباً تمام سہولیات ہونے کے ساتھ ساتھ کئی اضافی سہولیات بھی شامل ہیں۔ اس میں سٹیلائیٹ سے لی گئی تصاویر کی مدد سے بالکل حقیقی زمین کی طرح کرہ ارض بنایا گیا ہے۔ جیسے پہلے گلوب (Globe) کی صورت میں نقشے ہوتے تھے اور انہیں گھما پھرا کر زمین دیکھی جا سکتی تھی، بالکل ایسے ہی بلکہ گوگل ارتھ اس سے بھی کافی آگے کی چیز ہے۔ اس کے ذریعے زمین کو کسی بھی زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے اور پہاڑ وغیرہ بالکل ایسے ہی بلند نظر آتے ہیں جیسے حقیقت میں ہوتے ہیں۔ گوگل ارتھ میں کسی مقام کی سطح سمندر سے بلندی، اس کا طول بلد (Longitude) اور عرض بلد (Latitude) معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس وقت کہاں دن اور کہاں رات ہے۔ گوگل ارتھ میں جن گلیوں کا مواد شامل ہو چکا ہے وہ سٹریٹ ویو کے ذریعے ایسے دیکھی جا سکتی ہیں جیسے کوئی خود ان گلیوں میں چل رہا ہو۔ میپ میکر سے بنے نقشے، پینورامیو کے ذریعے کسی جگہ کی اپلوڈ کی گئی تصاویر اور سکیچ اپ کے ذریعے بنائی گئی عمارتیں بھی گوگل ارتھ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مزید موسم، سمندر اور کسی مقام کے متعلق عالمی اداروں کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات بھی باآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نظامِ شمسی، چاند اور مریخ کا مشاہدہ تک کیا جا سکتا ہے۔

جب گوگل ارتھ میں کسی مقام کو بڑا (زوم ان) کر کے دیکھا جاتا ہے تو اس مقام سے متعلقہ مختلف قسم کی معلومات کے نشانات ظاہر ہو جاتے ہیں پھر جس کی تفصیل چاہیئے ہو اس کے نشان پر کلک کر کے حاصل کر لی جاتی ہے۔ یہ کسی مقام کی مختلف قسم کی اتنی زیادہ معلومات دیتا ہے کہ اگر سارے نشان ظاہر ہوں تو نیچے سے نقشہ دیکھنا مشکل ہو جائے۔ اس لئے جب گوگل ارتھ انسٹال کیا جاتا ہے تو تمام معلومات کی تہیں (Layers) منتخب نہیں ہوتیں۔ بعد میں اپنی ضرورت کے مطابق مختلف تہیں منتخب یا ختم کی جا سکتی ہیں۔

گوگل ارتھ/میپس اس وقت دنیا بھر میں تمام شعبہ جات سے وابستہ لوگ اور خاص طور پر مسافر، سیاح اور جغرافیہ کے طالب علم اسے بہت استعمال کر رہے ہیں۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کو جغرافیہ کا بہت شوق ہوتا ہے اور اکثر مختلف قسم کے نقشے الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے گوگل ارتھ ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوا ہے۔ اب تو وہ وقت آ چکا ہے کہ جب لوگ کسی مقام کا پتہ سمجھانے کی بجائے گوگل ارتھ یا میپس میں اس مقام کی نشاندہی کر کے اس کی فائل/کوڈ بذریعہ ای میل بھیج دیتے ہیں۔ جب دوسرا بندہ اس فائل کو گوگل ارتھ میں کھولتا یا کوڈ کو گوگل میپس میں دیکھتا ہے تو اسے اس مقام کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے بلکہ وہی فائل یا کوڈ اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ دنیا کے چپے چپے کی نشاندہی ہو چکی ہے اور آج زمین گوگل کی آنکھ سے دیکھی جا رہی ہے۔

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔