تازہ ترینشعروشاعری

رُموز شادؔ ۔۔ ارشاد اللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال …غزل

ڈھلنے لگی ہے شب بخیر اندھیروں کی گود میں
ہر طرف اک دیپ مالا لگانے کو جی چاہتا ہے

انجان سی آوازپا جو آتی ہے دور دراز سے
بے تأمل اُس دشت میں جانے کو جی چاہتا ہے

ان کوہ پیکر کی دامن میں سوئے سکوت کو
کر کے شور شرابا ڈرانے کو جی چاہتا ہے

ان پانیوں میں خوب نہانے کو جی چاہتا ہے
سارے غموں کا بوجھ بُھلانے کو جی چاہتا ہے

وہ شخص جس سے ان بن کے جدا بہت ہوئے
اس کی بستی کی دھول اڑانے کو جی چاہتا ہے

شادؔ یہ خلاصہ تو بے ذوق بے دام سا رہا
قصیدہ کوئی طویل سنانے کو جی چاہتا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق