تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ضلع چترال کو درپیش خطرات کے باعث لوکل ایڈیپٹیشن پلان آف ایکشن (لاپا) کو آخری شکل دے دی گئی

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) سوئس فاونڈیشن برائے ترقی وتعاون (ایس ڈی سی ) کا ادارہ انٹرکواپریشن نے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ضلع چترال کو درپیش خطرات کے باعث لوکل ایڈیپٹیشن پلان آف ایکشن (لاپا) کو آخری شکل دے دی ہے جس کے نتیجے میں چترال ملک بھر کے ان معدودے چند ضلعوں میں شامل ہوگئی جہاں یہ منصوبہ عمل تیار کرلی گئی ہے تاکہ آنے والے وقت کے ساتھ مطابقت پیدا کرکے مشکلات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ ڈپٹی کمشنر کے کانفرنس روم میں منعقدہ اس ورکشاپ میں انٹرکواپریشن کے کنٹری ڈائرکٹر ڈاکٹر ارجمند نظامی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جوکہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیر کے اثرات کی زد میں ہے اورچترال کا ضلع ان پانچ اضلاع میں سے ایک ہے جوکہ سب سے ذیادہ قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات میں لاپا کے ذریعے ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جن سے آنے والی موسمیاتی سے مطابقت پیدا کرکے پانی کی دستیابی اور زرعی پیدوار کو مطلوبہ مقدار کے مطابق رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ مختلف ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتائج سے نمٹنے کے لئے مقامی طور پر ایکشن پلان ترتیب دیتے ہیں اور چترال میں اس سلسلے میں محکمہ موسمیات اور زرعی یونیورسٹی پشاور کی تعاون سے اس کام کو سرانجام دیا گیا جس کے لئے انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی کوششوں اور تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ نے کہاکہ چترال میں گلوبل وارمنگ واقعی ایک حقیقی مسئلہ ہے جس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے لاپا کی صورت میں مربوط کوششوں اور اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے الگ ورکشاپ منعقدکرکے ان کے شعبہ جات سے متعلق مطابقتی لائحہ عمل ترتیب دینے پر بھی زور دیا اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ملک کے معروف ماہر موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف نے کہاکہ درجہ حرارت میں ہرسال اضافہ مشاہدے میں آرہا ہے اور مون سون کی بارشیں بھی اب ملک کے بالائی علاقوں کا رخ کرنے لگے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ سال چترال میں بڑے پیمانے پر سیلاب آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں صاف پانی اور خوراک کی قلت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ ابھی سے لاپا کے ذریعے ان مشکلات کو پہلے سے ہی مقابلہ کرنے کے لئے سامان پیدا کیا جائے۔ انٹرکواپریشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جواد کے علاوہ زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد جمال خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد ذولفقار، اغا خان فاونڈیشن کا ادارہ فوکس کے پروگرام منیجر امیر محمد اور محکمہ زراعت کے ڈاکٹر فخر الدین نے بھی اپنے مقالات پیش کئے۔ سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن کے ایکیسن انجینئر مقبول اعظم، ایس آرا یس پی کے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر طار ق احمد، ضلع کونسل کے رکن شہزادہ خالد پرویز، ڈی۔ ایف۔ او فارسٹ سلیم خان مروت، اے کے آرایس پی کے منیجر فضل مالک، ڈسٹرکٹ افیسر فنانس نورالامین ، ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بھی موجود تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق