ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد ……….سیاسی تجربات

………….ڈاکٹرعنایت للہ فیضیؔ ………..

جماعت اسلامی نے جے آئی یو تھ کے انٹرا پارٹی الیکشن کا شیڈول جاری کیا تو قارئین میں سے اکثر کو وطن عزیز میں دہرائے گئے کامیا ب اور ناکام سیاسی تجربات یا د آگئے خد ابخشے مرحوم نوابزادہ نصر اللہ خان سیاسی تجربات کے ما ہر مانے جاتے تھے مگر ان کے تجربات کامیاب نہیں ہوئے انہوں نے کئی اتحاد بنائے یو ڈی ایف بنایا ،پی این اے بنایا ،ایم ار ڈی بنایا اور مختلف ناموں سے درجن بھر دوسرے اتحاد بنائے لیکن کامیابی ان کے حصے میں نہیں آئی ائیر مارشل اصغر خان،پیر پگاڑا ،شیخ رشید اور آفتا ب احمد خان شیر پاؤنے سیاسی میدان کئی تجربے کئے پُرانی شراب کو نئے بوتل میں ڈال کر نئے لیبل کے ساتھ متعارف کرانے کی کوشش کی مگر کامیابی محض جزوی رہی کبھی ایک آدھ سیٹ ملی کبھی وہ بھی نہ ملی ائیر مارشل کے حصے میں کچھ بھی نہیں آیا مولانا سمیع الحق نے افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران دفاع پاکستان کونسل ،ملی یک جہتی کونسل اور دوسرے ناموں سے نئے نئے تجربے کئے سیاسی میدان میں یہ تجربے ناکام ہوئے بلکہ بے نقاب کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جنر ل مشرف کے دور میں دینی جماعتوں نے مل کر ایم ایم اے قائم کیا تجربہ بے حد کامیاب ہوا مگر جنرل مشرف نے جب ہاتھ کھینچ لیا تو اتحاد پار ہ پارہ ہو گیا ’’ایک دل کے ٹکرے ہزار ہوئے کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا سب سے انوکھے تجربہ قاضی حسین احمد اور عمران خان نے کئے قاضی حسین احمد مرحوم نے جماعت اسلامی کا نام اور جھنڈا تبدیل کر کے پاکستان اسلامی فرنٹ بنایا مقصدیہ تھا کہ جو لوگ کہ جو لوگ جماعت اسلامی کو پسند نہیں کرتے وہ نہیں پارٹی ،نئے کام اور نئے جھنڈے کے نیچے آجائینگے یہ مائنِس مو دودی کا کا فارمولا تھا کامیاب نہیں ہوا اسی طرح اسلامی جمیعتہ طلبہ کی جگہ شبا ب ملی کا نام سے نوجوانوں کی ایسی تنظیم بنائی جو اسلامی پابندیوں سے آزاد ہومگر یہ تجربہ بھی کامیاب نہیں ہواقاضی حسین احمد نے سیاست میں دھرنا متعارف کرایا جو ناکامی سے دو چار ہوا عمران خان سیاسی جماعت کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن کا پیچیدہ اور کنجلگ طریقہ متعارف کر ایا انٹرا پارٹی لیکشن کی وجہ سے پنجاب اور سندھ میں تحریک انصاف نے دم توڑدیا خیبر پختونخواکے اندر پارٹی تین دھڑوں میں تقسیم ہوگئی سیاسی طاقتوں اور قوت کمزور ہوگئی بعد میں پارٹی چیئرمین کو اس غلطی کا احساس ہوا تو یہ طریقہ ختم کر ادیا ناکام تجربے کو دہرانے کا فائدہ نہیں تھا اب جماعت اسلامی کے ’’دھرنے‘‘پر عمران خان نے قبضہ کر لیا ہے دھرنے سے محروم ہونے کے بعد جماعت کے اکابرین نے انٹرا پارٹی الیکشن کا تجربہ پاکستان تحریک انصاف سے مستعار لیا ہے کہتے ہیں ایک من نقل کے لئے 100 من عقل کی ضرورت ہے جماعت اسلامی 200 من عقل استعمال کر کے انٹر ا پارٹی الیکشن کا ناکام تجربہ جے آئی یو تھ کے اندر دہرانا چاہتی ہے جے آئی یوتھ بھی شباب ملی اور اسلامک فرنٹ کا چربہ ہے یہ اسلامی جمیعتہ طلبہ کا متبا دل ہے پاکستان تحریک انصاف ،پیپلز یوتھ ارگنائزیشن اور پختون زلمے سے ناراض ہونے والے نو جوانوں کو جے آئی یوتھ میں جگہ دی گئی ہے ایک سال کے مختصر عرصے میں جے آئی یوتھ کا فی مضبوط تنظیم بن چکی ہے اکتوبر کے مہینے میں پشاورکے قریب اضا خیل کے مقام پر جماعت اسلامی کا اجتماع جے آئی یوتھ کا پہلا ٹیسٹ تھا اندازہ یہ تھا کہ 2018 کے الیکشن میں جے آئی یوتھ فعال تنظیم بن کر سامنے آئے گی اور جماعت اسلامی کے لئے ہر اول دستے کا کام دے گی اب اخبارات میں جی آئی یوتھ کے انٹرا پارٹی الیکشن کی خبر آگئی ہے شیڈول بھی آگیا ہے انٹرا پارٹی الیکشن کا طریقہ کار ہو بہو عمران خان کا دیا ہوا طریقہ ہے ریڑننگ افیسر بھی اُسی طرز کے ہیں الیکشن کے خلاف اپیلوں کے سماعت کا طریقہ بھی وہی ہے الیکشن ٹریبونل کا طریقہ کا ر بھی وہی ہے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا خیال بھی شاید یہ ہے کہ عمران خان کے پاس پیسہ تھا تنظیمی صلاحیت کی کمی تھی اس لئے تجربہ نا کام ہوا ہمارے پاس پیسہ بھی ہے تنظیمی صلاحیت بھی عمران کی پارٹی سے بہتر ہے اس لئے ہم اس نا کام تجربے کو کامیاب کر کے د کھائینگے جو شیڈول سامنے آیا ہے یہ کم از کم چھ مہینے کا شیڈول ہے جو ن 2017 تک اپیلوں کو نمٹایا جائے گا اور انٹر اپارٹی الیکشن کا مرحلہ طے ہوگا اس کے بعد یونین کونسل کے سطح پر جے آئی یوتھ کی تنظیمیں اپنا کام سنبھالینگی اور 2018 کے انتخابات کی تیاری کرینگی یہ خو شنما تصور ہے اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو کیا ہوگا ؟اگر خدا نخواستہ ایسا نہیں ہوا تو وہی ہوگا جو پاکستان تحریک انصاف کیساتھ ہوا جے آئی یوتھ کے جو دھڑے انتخابات میں ناکام ہونگے وہ انٹرا پارٹی الیکشن کی رنجش ،ضد اور کینہ پروری کو ساتھ لیکر اپنی الگ دکان لگا ئینگے جے آئی یوتھ کے آگے بڑھنے سے پہلے دوحصوں میں بٹ جائیگی 2016 کا سال نئے سیاسی تجربات کے لئے ساز گار سال ثابت نہیں ہوا ایم کیو ایم کے سربراہ الظاف حسین نے پاک سر زمین پارٹی بنا کر اپنے آپ کو مہاجر ین کے لئے قابل قبول بنا نے کا تصور دیا نیا جھنڈا دیا نیا نعرہ دیا مگر اس کے نتیجے میں ایم کیو ایم چار دھڑوں میں تقسیم ہوگئی بعض اوقات سیاسی تجربات ناکامی سے دو چار ہو جاتی ہیں سیا سی جماعت کے لئے کسی نئے تجربے کی ناکامی بہت مہنگی پڑتی ہے جماعت اسلامی نے اگر انٹرا پارٹی الیکشن کے ناکام تجربے کو کامیاب کرکے دکھایا تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نیا باب ہوگ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق