درو ش معروف ادبی شخصیت حاجی سلطان مراد کی دوسری تصنیف’’جب میں سو گیا تو قسمت جاگ اٹھی ‘‘ شائع – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | درو ش معروف ادبی شخصیت حاجی سلطان مراد کی دوسری تصنیف’’جب میں سو گیا تو قسمت جاگ اٹھی ‘‘ شائع
Premier Chitrali Woolen Products

درو ش معروف ادبی شخصیت حاجی سلطان مراد کی دوسری تصنیف’’جب میں سو گیا تو قسمت جاگ اٹھی ‘‘ شائع

لاہور (نمائندہ چترال ایکسپریس )درو ش معروف ادبی شخصیت حاجی سلطان مراد کی دوسری تصنیف’’جب میں سو گیا تو قسمت جاگ اٹھی ‘‘ شائع ہو گئی ہے ۔ادارہ نوائے چترال کی تعاون سے شائع ہونے والی یہ شاندار تصنیف عظیم ہستیوں کے عظیم واقعات ،سبق اموز حکایات اور مستند کتابوں کے اقتباسات پر مشتمل ہے اس شاندار کتاب کے بارے میں چترال کے معروف ادیب پروفیسر محمد نقیب اللہ رازی صاحب یو ں رقمطراز ہیں
زیرِ نظر کتاب حاجی سلطان مراد صاحب کی دوسری کتاب ہے۔اس سے پہلے ان کی ایک اور کتاب’’ برسائے ہوئے پھول جوہم نے چنے‘‘ چھپ کر مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔جس کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ ایک سال کے اندراندر اس کا پہلا ایڈیشن مکمل ختم ہوا اور اہلِ علم اور صاحبِ ذوق طبقوں کی طرف سے قابلِ قدر حوصلہ افزائی ہوئی۔تو قارئیں ہی کے اصرار پر اس کا دوسرا ایڈیشن لانا پڑا ۔اس قدرافزائی نے حاجی صاحب کو مزید حوصلہ دیا اور اسی نوعیت کی ایک اور کتاب چھاپنے پرآمادہ کیا۔
زیرِ نظر کتاب بھی ان کا حاصلِ مطالعہ ہے۔جس میں کئی بڑے بڑوں کے خیالات شامل ہیں اور ان کی زندگی کے تجربات ،حالات اور واقعات پرمبنی اہم نکات کا اقتباسات کی صورت میں نہایت مؤ ثر اور قابلِ استفادہ نچوڑ ہے۔کتابوں کے حوالات بھی دئے گئے ہیں،جن کی فہرست آخرمیں موجود ہے۔ظاہر ہے کہ بڑے لوگوں کی کتابوں میں چھوٹی باتیں نہیں ہوتیں،مگرہربات کی اہمیت کا مدار قاری کے معیارِ انتخاب پر ہے کہ وہ کس بات کو اہمیت دیتا ہے اور کیوں؟۔
زیر نظرکتاب میں تمام اقتباسات نہایت اہم ہیں ،لیکن یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ مؤلف نے کس ترغیب کے پیشِ نظر یہ اقتباس لیاہے؟،اس لئے کہ ایک واقعے کے اندر کئی عبرتیں اور مثالیں شامل ہوسکتی ہیں۔جبکہ اس میں خود ان کی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں شامل ہے۔تاہم اقتباسات کے عنوانات کا خوب انتخاب کیا گیا ہے جن سے مؤلف کی وجہِ انتخاب کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔محسوس ہوتا ہے کہ واقعی مؤلف نے سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوکر نہایت ہی اہم موتی چنے ہیں۔
مجھے امیدہے کہ یہ کتاب بھی مؤلف کی سابقہ کتاب’’ برسائے ہوئے پھول جوہم نے چنے‘‘ کی طرح مقبولیت سے سرفراز ہوگی۔اورقارئیں کی طرف سے اس کو بھر پور پذیرائی ملے گی۔
کتاب کا نام ’’ جب میں سوگیا ،توقسمت جاگ اٹھی‘‘ رکھا گیا ہے۔ جس کے بارے میں کتاب میں ہی مؤلف نے اپنا واقعہ لکھا ہوا ہے۔مؤلف کی قسمت جاگ اٹھنے کے بعد انھوں نے یہ کتاب بھی ترتیب دی ہے۔تو امید ہے کہ یہ کتاب اپنے قاری کی قسمت جگانے میں بھی کردار ادا کرے گی۔میرے نزدیک یہ کتاب بھی قسمت جگانے والی ہے۔توقسمت والوں کی ہی کے نصیب میں اس کا مطالعہ لکھا ہوا ہوگا۔تولیجئے آپ بھی اپنی قسمت جگانے کی کوشش کیجئے،اور کتاب خرید کر پڑھنے کی کوشش کیجئے ۔آپ سب سے امید ہے کہ آپ کتاب ضرور پڑھیں گے اور اپنے بچوں اور احباب کو تحفے بھی دیں گے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اس کے حق میں صدقہ جاریہ فرمائے،اٰمین۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

دروش کو تحصیل کا درجہ دینے پر آل فلائنگ کوچ ڈرائیور ایسوسی ایشن چترال کا خیبر پختونخوا صوبائی حکومت اور وزیر اعلی پرویز خٹک کا شکریہ

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) آل فلائنگ کوچ ڈرائیور ایسوسی ایشن چترال خیبر پختونخوا نے ...

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔