نئی صدی کی ضرورت کے عین مطابق پاکستان ائیر فورس کے تعلیمی ادارے گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

نئی صدی کی ضرورت کے عین مطابق پاکستان ائیر فورس کے تعلیمی ادارے گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے تعلیم کو حکومت کی کل وقتی ذمہ داری اور انتہائی سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر قومی ترقی کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ جن معاشروں میں تعلیم کا پائیدار نظام اور روایات مضبوط نہ ہو وہا ں برائیوں کی گنجائش موجود ہوتی ہے بدقسمتی سے ہمارا کمزور تعلیمی نظام اکیسوی صدی کے چیلنجز کا مقابلہ نہ کر سکا۔جس کے پاس بھی اختیارات آئے اس نے اداروں کو بڑی بے دردی سے لوٹا اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اپنی نسلوں کے مستقبل کی کسی نے بھی فکر نہ کی۔موجودہ صوبائی حکومت ماضی کے تباہ حال اداروں کی مضبوطی کے لئے کام کر رہی ہے۔ہم امیر اور غریب کے درمیان خلاء ختم کرنے کے لئے سب کو تعلیم کے یکساں مواقع دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ سرکاری سکولوں میں basic english شروع کر چکے ہیں تا کہ غریب کے بچے کو بھی مقابلے کے لئے تیار کیا جاسکے جبکہ تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے لئے یکساں تعلیمی نظام بھی پلان کررہے ہیں۔ وہ فضائیہ کالج آف ایجوکیشن برائے خواتین پشاور کے چھٹے کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ Image may contain: 2 people, people sitting, people standing, table and indoorوزیراعلی نے محنت اور لگن سے شاندار کامیابی حاصل کرنے پر ہونہار طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ ائیر فورس نے ہمیشہ سے قوم کی لازوال خدمت کی ہے۔ نئی صدی کی ضرورت کے عین مطابق پاکستان ائیر فورس کے تعلیمی ادارے گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پا کستان ائیر فورس اپنی منفرد صلاحیتوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں تعلیم کے فروغ کے لئے جدوجہد جاری رکھے گا اور قومی تعمیر میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا۔وزیراعلیٰ نے تعلیمی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو معاشرے اپنے تعلیمی نظام پر توجہ نہیں دیتے وہ فساد اور تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کمزور تعلیمی نظام سے سسٹم چلتا رہا۔ مگر یہ اکیسوی صدی کے چیلنجز اور بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کا مقابلہ نہ کر سکا۔ جس کی وجہ سے نظام کے دشمن مخصوص ٹولوں نے انہیں استعمال کیا۔ قوم کے لئے کسی نے نہ سوچا۔ رہی سہی کسر غیر معیاری اور طبقاتی نظام تعلیم نے پوری کر دی۔ کیونکہ اس طبقاتی نظام تعلیم سے مفاد پرست ٹولے کے مفادات وابستہ تھے۔ حالانکہ مہذب معاشروں میں تعلیم کو ہمیشہ اولین ترجیح حاصل رہی ہے کیونکہ تعلیم افراد کی تہذیب کرتی ہے۔ Image may contain: 6 people, people standing, hat and suitیہی تہذیب قوموں کی ترقی کا زینہ بنتی ہے اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطاء کرتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تو تعلیم سمیت تمام شعبے تباہ حال تھے ان کی حکومت نے اداروں کی مضبوطی پر کا م شروع کیا تمام اداروں میں قابل عمل اصلاحات لائے تعلیم کا شعبہ شروع دن سے صوبائی حکومت کی اولین ترجیح رہا ہے ۔ ہماری حکومت نے صوبے میں معیار تعلیم کے فروغ کے لئے وسائل اور توانائیاں وقف کیں اور ہمارے ٹھوس اقدامات کی بدولت نہ صرف سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہو ابلکہ 35000 طلبہ و طالبات کے والدین اپنے بچوں کو نجی سکولوں سے نکال کر سرکاری سکولوں میں منتقل کر چکے ہیں۔ ہم صوبے کے ہر بچے کو بہترین تعلیمی ماحول دینے کی لئے پر عزم ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بد قسمتی سے سکولوں میں بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہ تھیں۔ ہم 70 سال کے تباہ حال سرکاری سکولوں کو پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے برابر لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سرکاری سکولوں میںmissing facilities کو پورا کر رہے ہیں جو بہت بڑا ٹاسک ہے ۔ پہلے مرحلے میں صوبے کے کل 28000 پرائمری سکولوں میں سے 15297 سکولوں کو سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ بجٹ کا بڑا حصہ اس مقصد کے لئے خرچ کیا گیا۔ ان سہولیات میں 10045 باؤنڈری وال، 5359 لیٹرین 3611پانی کے کنکشن ،4260 اضافی کلاس رومز، 418سولر پینلز اور دیگر شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں شامل 12637 سکولوں میں سے 77 میں سہولیات مکمل جبکہ 13011 میں فراہمی کا عمل جاری ہے جوحکومت کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا۔ پرایؤیٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیشن کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی بل بطور ایکٹ پاس ہو چکا ہے۔ آئندہ مئی میں اس پر عمل در آمد شروع کر دیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بہتری کیلئے بھی اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ کے ذریعے یونیورسٹیوں کو خود مختاری دی جارہی ہے۔ اضلاع کی سطح پر کالجز اور یونیورسٹی کیمپس کا قیام عمل میں لایا جار ہا ہے۔Image may contain: 49 people, people smiling, people standingپرویز خٹک نے کہا کہ وہ بچوں کو قابل اساتذہ دینے کے لئے پر عزم ہیں۔ میرٹ پر اساتذہ کی بھرتیا ں عمل میں لائی گئی ہیں۔ 40000 قابل اساتذہ سسٹم میں شامل ہوچکے ہیں پہلے سے موجود اساتذہ کی تدریسی مہارت میں اضافہ کے لئے تربیتی پروگرام شروع ہے جس کے تحت 83000 اساتذہ کو فنی تدریس خصوصا موثر طریقے سے انگریزی کی تدریس پر تربیت دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی ترقی اور خوشحالی میں جس قدر آج تعلیمی کردار و عمل کی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ہم دور جدید کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب ہمارے پاس نبوی میراث یعنی تعلیم وتدریس سے مخلص اور پر عزم اساتذہ موجود ہونگے۔انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت تعلیم کی روشنی سے محروم غریب عوام کو تعلیم کے معیاری اور یکساں مواقع دینے کے لئے انتہائی مخلص ہے۔ وزیراعلیٰ نے مشترکہ عزم ، وسائل اور مہارت کے ذریعے تعلیم کے فروغ کے لئے باہمی شراکت کی توثیق کرتے ہوئے جہالت کے خاتمے اور کوالٹی ایجوکیشن کیلئے ایک دوسرے کے ہاتھوں کومضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیااور کہا کہ قوم کو باشعور اور تعلیم یافتہ مستقبل دینے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام “ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ بدھ کے روز اختتام پذیر ہوا،چترال سکاؤٹس نے فائنل جیت لیا

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام “ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ بدھ کے روز ...


دنیا بھر سے