میرا صوبہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ اور خیبرپختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ اور خیبرپختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے اتھارٹی کے تعمیری کام اور اس کے پراجیکٹ بس ریپڈ ٹرانزٹ کے لئے درکار ضروری سٹاف بھرتی کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں تعمیری پلان میں معمولی ترامیم کے ساتھ کوریڈور کے تین پیکجز کی منظوری دی گئی۔ پہلا پیکج مین بس ٹرمینل چمکنی سے قلعہ بالا حصار، دوسرا امن چوک تک اور تیسرے پیکج کا اختتام حیات آباد پر ہوتا ہے۔۔ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد وزیر، وزیراعلیٰ کے مشیر مشتاق غنی، ایم پی اے، وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کے چیئرمین حاجی دلروز خان، چیف سیکرٹری عابد سعید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محمد اعظم خان اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ اجلا س میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تعمیر کے سلسلے میں سابقہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی منظوری دی گئی اوران پر عمل درآمد سے آگاہ کیا گیا جس پر اجلاس نے اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے منصوبے کے تعمیری پلان میں معمولی ترامیم کے ساتھ کوریڈور کے تین پیکجز کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبے کے اصلی ڈیزائن میں معمولی تبدیلیاں پراجیکٹ کی بھر وقت تکمیل میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیءں۔ انہوں نے منصوبے پر بروقت عملدرآمد اور اسکی تکمیل کے لئے کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ انکا جنون ہے وہ اس منصوبے کی بروقت اور میعاری تعمیر پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اس سلسلے میں کسی تاخیری حربے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بنک کی طرف سے تیار کردہ اصلی ڈیزائن کی درستگی کی تیسری پارٹی کے ذریعے تصدیق کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ اجلاس کو منصوبے کے انجنیئرنگ ڈیزائن ، رنگوں کے امتزاج، منصوبے کی لمبائی اور چوڑائی اور بس سٹیشنوں کی مجوزہ توسیع پر بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو منصوبے کی نوعیت کے ملک میں دیگر منصوبوں کے مقابلے میں اس کی انفرادیت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ ایک منفرد ڈائریکٹ سروس آپریشنل ماڈل ہوگا۔ مین کوریڈور 26 کلومیٹر طویل ہے۔ جس میں 6 کلو میٹر ایلیو یٹڈ اور5کلو میٹر ٹنل شامل ہے۔ منصوبے کے تحت 32 سٹیشنز ہوں گے جن میں سے 5 ایلیویٹڈ اور ایک زیر زمین ہوگا۔ منصوبے کے مذکورہ 26 کلومیٹرمین کوریڈور کے علاوہ 68 کلو میٹر طویل سات رابطہ روٹس ہوں گے جس کی وزیر اعلیٰ نے منظوری دی۔ فیڈر روٹس پر بھی شیلٹر کے ساتھ150 اعلیٰ معیار کے بس سٹاپس ہوں گے ۔61 کنال کمرشل ایریا ڈویلپمنٹ کے علاوہ 6 منازل پر مشتمل پارکنگ پلازہ، بائک شیئر سسٹم، کوریڈور کے ساتھ پیدل چلنے والوں کیلئے علیحدہ انفراسٹرکچر ، بس سٹاپس اور دیگر اضافی فیچرز بھی شامل ہیں جن کی اجلاس میں منظوری دی گئی۔وزیر اعلیٰ نے پشاور ریپڈبس ٹرانزٹ کا پنجاب اور اسلام آباد کے منصوبوں سے موازنہ کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت کو پنجاب اور اسلام کے برعکس اس منصوبے کے لئے سبسڈی نہیں دینا پڑے گی۔ پشاور سے روزانہ تقریباً 5 لاکھ افراد مستفید ہوں گے جبکہ پنجاب اور اسلام آباد سے صرف ایک لاکھ مستفید ہورہے ہیں۔ پشاور بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے کی خصوصیت اس کو اس طرح کے دوسرے ملکی اور بین الاقوامی منصوبوں سے ممتاز بناتی ہے۔ اس میں بہت سے ایسے فیچرز ہیں جو لاہور، اسلام آباد اور ملتان کے میٹرو بس منصوبوں میں موجود نہیں ہیں۔ پشاور بس ریپڈ پہلا گولڈن سٹینڈرڈ تھرڈجنریشن بی آرٹی سسٹم ہوگا۔ پشاور بس ریپڈٹرانزٹ کے مین کوریڈور 26 کلو میٹر طویل کی مجوزہ لاگت 33 ارب روپے ہے جو 1.270 ارب فی کلومیٹر بنتی ہے۔ اسکے برعکس ملتان کے صرف 18.2 کلومیٹر طویل روٹ کی لاگت 29 ار ب روپے ہے جو 1.566 ارب روپے فی کلومیٹر ہے جو پشاورسے 23 فیصد زیادہ ہے اسی طرح اسلام آباد کے 23.2 کلومیٹر طویل روٹ کی لاگت50 ارب روپے ہے جو 2.155 ارب روپے فی کلو میٹر ہے یہ بھی پشاور بی آر ٹی سے 70 فیصد زیادہ ہے جبکہ لاہورمیٹرو سروس کے صرف 27 کلو میٹر طویل روٹ کی لاگت 60 ارب روپے ہے جو 2.222 ارب روپے فی کلومیٹر ہے اور پشاور بی آر ٹی کے مقابلے میں 75 فیصدزیادہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کے انجنیئرنگ ڈیزائن سے اتفاق کرتے ہوئے اسکی منظوری دی اور ہدایت کی کہ منصوبے کےPC-I کو فوری طورپرحتمی شکل دی جائے اور عندیہ دیا کہ PC-I کو سی ڈی ڈبلیو پی سے کلیئر کرانے کیلئے وہ خود وفاقی حکومت سے بات کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کے تحت شاپنگ پلازوں کی تعمیر، مجموعی ٹریفک پلان اورٹینڈر کیلئے متعین تاریخوں کی بھی منظوری دی۔ منصوبے کے تینوں پیکجزکا ٹنڈر 30 ۱پریل تک یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ پہلے دو پیکجز کا ٹنڈر15 اپریل اور تیسرے پیکیج کا ٹنڈر 30 اپریل تک یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں مختلف یوٹیلٹیزاور کوریڈور کی کشادگی جبکہ منصوبے کیلئے 31 سٹیشنوں کی بھی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر بی آر ٹی کے استعمال میں آنے والے موجودہ سٹرکچر کو متوازن بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے حیات آباد اور ڈبگری گارڈن میں اڈوں اور سٹیشنوں کیلئے زمین کی منتقلی کی بھی منظوری دی اور ہدایت کی کہ اس عمل میں چند دن لگنے چاہیءں۔ انہوں نے چمکنی کے مین بس ٹرمینل کیلئے مطلوبہ اراضی کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے کیلئے درکا 117کنال اراضی فوری حاصل کریں اس ہفتے وسائل دستیاب ہوں گے۔ جبکہ چمکنی کا مین بس ٹرمینل900 کنا ل اراضی پر مشتمل ہوگا۔ پرویزخٹک نے پراجیکٹ سے متاثر ہونے والوں کیلئے معاوضے کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کا پورا عمل شفاف ہونا چاہئے ۔ وزیر اعلیٰ نے منصوبے کے تحت پلوں، سٹیشنوں وغیرہ کی اونچائی حقیقت پسندانہ رکھنے اور پراجیکٹ کو فاسٹ ٹریک پر ڈالنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے موجود انفرسٹرکچر کو بھی مضبوط کرنے کی ہدایت کی جو جزوی طور پر بی آر ٹی کے لئے استعمال ہو گا۔وزیر اعلیٰ نے منصوبے کے تعمیراتی پلان اور رنگوں کے امتزاج کی بھی منظوری دی اور کہا کہ منصوبے کے تحت کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ دیر پا اور نفع بخش بن جائے گا۔انہوں نے محکمہ پولیس، مواصلات و تعمیرات، ایریگیشن اور دیگر محکموں کو اجلاس منعقد کرکے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے جولائی کے آخر تک منصوبے کا مالی ماڈل تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مالی ماڈل میں آپریشنل لاگت اور اصل رقم کی واپسی کے طریق کار کی نشاندہی ہونی چاہئے۔انہوں نے 15مئی سے پہلے مکمل فزیبلٹی تیار کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آنے والے وقت میں ٹائم اہم فیکٹر ہو گا۔ مسافی سفری سہولیات پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ جو سہولت پہلی فرصت میں دستیاب ہو گی اسکو ترجیح دیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس پراجیکٹ کو پورے وسطحی اضلاع کے مسافروں کے لئے بنا رہے ہیں اور اسی طرح یہ پورے صوبے کو بھی باہم مربوط کرے گا اس لئے ہم نے مستقبل کی ضروریات کو بھی مد نظر رکھنا ہے۔یہ پراجیکٹ سفری سہولیات کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے اسکو دیکھ کر آگے پورے صوبے کے لئے سفری سہولیات کو آسان اور دیرپا بنانا ہے۔اس منصوبے کے انتظام و انصرام اور اسکو چلانے کے لئے استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے جسکے لئے تربیت دی جائے گی۔ یہ آئندہ نسلوں کا پراجیکٹ ہے اور اسی تناظر میں پیش رفت ہوتی چاہئے۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ کو گریٹر پشاور سرکلر ریلوے پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی اور منصوبے پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے سرکلر ریلوے پراجیکٹ کو پورے مستقبل کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے ڈبل ٹریک بچھانے اور دیرپا سسٹم وضع کرنے کی ہدایت کی جو مستقبل کی ضروریات کو بھی پورا کر سکے۔ یہ منصوبہ مشرقی و مغربی دو مرحلوں پر مشتمل ہو گا پہلے مرحلے میں چار اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان کو منسلک کیا جائے گا جبکہ دوسرا مرحلے میں کرنل شیر خان موٹر وے کے مقام پر صوابی اور دوسری طرف درگئی سے مربوط کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریلوے ٹریک کے لئے زمین کے حصول کے عمل پر کام شروع کرنا چاہئے۔ وفاق سے ایسی جگہوں جہا ں موجودہ ریلوے ٹریک دستیاب ہے اسکے استعمال پر اجلاس ہو گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا گرچہ یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے تاہم اسے بیجنگ روڈ شو میں بھی شوکیس کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ صوبے کے لئے ایسے پراجیکٹس لائیں گے جو قابل عمل ہو ں اور ان میں سرمایہ کاری ہو اور وہ صوبے کے لئے بوجھ نہ بنیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق