وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت خیبرپختونخوا انرجی اینڈ پاور ڈویلپمنٹ فنڈکے بورڈآف ڈائریکٹرزکا اجلاس – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت خیبرپختونخوا انرجی اینڈ پاور ڈویلپمنٹ فنڈکے بورڈآف ڈائریکٹرزکا اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت خیبرپختونخوا انرجی اینڈ پاور ڈویلپمنٹ فنڈکے بورڈآف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں 15 ارب روپے بورڈ فنڈزمیں واپس منتقل کرنے کی منظوری دی گئی ۔بورڈ نے صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق تیز رفتار صنعتی ترقی کیلئے Image may contain: 7 people, people sitting, table and indoorدرال خوڑ اور مچئی کے منصوبوں سے پیدا ہونے والی 76 میگاواٹ بجلی نسبتاً سستے نرخوں پر صنعتی استعمال کیلئے فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر خزانہ مظفر سید، وزیر تعلیم و توانائی محمد عاطف خان، چیف سیکرٹری عابد سعید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعظم خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، چیف منیجر سٹیٹ بینک، ایم ڈی بینک آف خیبر، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر آئل اینڈ گیس کمپنی نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور منٹس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سولر پاور پراجیکٹ کے تحت ایک ہزار مساجد میں شمسی توانائی کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈ کی منظوری پہلے سے دی جا چکی ہے اور مختص رقم انرجی ڈویلپمنٹ فنڈ کو منتقل ہو چکی ہے ۔ اجلاس میں لکی بلاک کی کھدائی سے بھی اتفاق کیا گیا جس میں تیل کی خاطر خواہ پوٹنشل موجود ہے ۔ اجلاس نے لکی بلاک کے جیولوجیکل سروے کی بھی منظوری دی اور دیر پا نتائج کا حصول یقینی بنانے کیلئے بھر پور توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ منصوبے کا مجوزہ تخمینہ لاگت 5 ارب روپے ہے جس کیلئے ابتدائی رقم کی منظوری بورڈ پہلے سے دے چکا ہے ۔بورڈ نے seepage اور پوٹینشل کی موجودگی کی رپورٹ پر مغل کورٹ اور متنی پر کھدائی اور مجوزہ تخمینہ لاگت کیلئے پی سی ون تیار کرنے سے بھی اتفاق کیا۔اس سلسلے میں فیزبیلٹی رپورٹ کے بعد باضابطہ فیصلہ کیا جائے گا۔ ان ذخائر کو استعمال میں نہ لانے کی وجہ سے ماحول کیلئے خطرات پیداہو رہے ہیں ۔اجلاس میں آئندہ مالی سال میں ہائیڈل پاور فنڈ میں وسائل شامل کرنے سے بھی اتفاق کیااور مختلف طریقوں سے وسائل میں اضافہ کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیر اعلیٰ نے مختلف اے ڈی پی سکیموں کو وسائل کی فراہمی کیلئے وسائل پیدا کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے صوبے میں جاری شجرکاری مہم کو تیز تر کرنے کیلئے بلین ٹری سونامی منصوبے کو دو ارب روپے دینے سے بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے کہاکہ اُن کی حکومت عوام دوست ایجنڈا رکھتی ہے جس کی تکمیل کیلئے توانائی اور وسائل کی ضرورت ہے ۔وہ اپنے تبدیلی کے ایجنڈا پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔وہ یکساں ترقیاتی حکمت عملی کو لیکر آگے بڑھیں گے کیونکہ یہ بعض علاقوں کیلئے بہت اہمیت رکھتی ہے جن کو ماضی میں ترقی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑا گیا ۔وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا اُن کی ذمہ داری ہے اوریہ دیکھنا بھی اُن کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ ان وسائل سے ضرورت مند عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ وقت اور وسائل کی قدرکریں اور ان کا صحیح استعمال یقینی بنائیں۔صحیح وقت پر وسائل کا صحیح جگہ پر شفاف اور نتیجہ خیز استعمال یقینی ہونا چاہیئے تاکہ صوبے کو ان وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے اور عوام بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ صوبے میں وسائل کی بھر مار ہے اور سرمایہ کار خیبرپختونخو امیں سرمایہ کاری کیلئے اپنی آستینیں چڑھا چکے ہیں۔ موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا سرمایہ کاری کا کل وقتی مرکز بننے جارہا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ صوبے میں صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیلئے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کیلئے پن بجلی کی استعداد کے منصوبوں کو بڑی اہمیت دیں گے ۔انہوں نے صوبے میں پن بجلی اور رن آف دی ریور منصوبوں سے بجلی پیدا کرنے کیلئے مختلف بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ طے پانے والے متعدد معاہدوں کا ذکر کیا تاہم انہوں نے صوبے کے تیل اور گیس کی پیداوار کے فوائد کا خصوصی حوالہ دیا جس میں مستقبل قریب میں بڑی سرمایہ کاری آنے والی ہے ۔ہم ذخائر تلاش کر چکے ہیں جن کو صوبے کی تیز رفتار ترقی کیلئے استعمال میں لانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے صوبے میں سرمایہ کاروں کو حکومت کی طرف سے دی گئی پرکشش مراعات کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ اُن کی حکومت نے ماضی کی سیاسی بیان بازیوں اور دعووں کی روایت ختم کر دی ہے ۔ اُن کی حکومت عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے اور عملاً کام کر رہی ہے جو صوبے کو ترقی کی راہ پر ڈال کر اس کے مستقبل کو محفوظ بنائے گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

دنیا بھر سے