گستاخ کے بعد اہلیان چترال اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی ۔۔۔۔۔۔            ایک جائزہ – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

گستاخ کے بعد اہلیان چترال اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی ۔۔۔۔۔۔            ایک جائزہ

………… ۔۔۔ شیرجہان ساحلؔ

29سبتمبر 1829ء کو لندن میں سر رابرٹ پیل کی سربراہی میں نیو اسکاٹ لینڈ یارڈ کا قیام عمل آیا۔ سر رابرٹ پیل نے اس مقصد کے لئے “یوجین فرینکوئس ویڈوک ” کی خدمات حاصل کیا تھا۔ ویڈوک، جو کہ ایک فرانسیسی مجرم تھا اور جرائم سے تائب ہو کر فرانس کی نیشنل سیکورٹی میں شامل ہو گیا تھا اور دنیا کی پہلی جاسوس ایجنسی کا ڈائریکٹر بن گیا تھا۔ میٹرو پولیٹن پولیس ایکٹ پاس کرانے سے پہلے سر رابرٹ پیل نے یہ فیصلہ کیا کہ ویڈوک کی خدمات حاصل کیا جائے تاکہ ایک ایسے اداراے کی بنیادرکھی جائے جو جرائم کےسدباب میں مدد گار ثابت ہو۔ یوں 1829ء میں میٹروپولیٹن پولیس ایکٹ برطانوی پارلیمنٹ سے پاس ہوا اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کا قیام بھی عمل آیا۔ سر پیل گو کہ اس وقت برطانیہ کا ہوم سیکریٹری تھے اور بعد میں دو مرتبہ برطانیہ کا وزیراعظم بھی رہے۔ مگر تاریخ میں وہ ایک اچھے پولیس آفیسر کے نام سے بھی یاد کئِے جاتے ہیں کیونکہ انہی کی کمالات سے میٹرو پولیٹن پولیس کا قیام ممکن ہوا اور اسکاٹ لینڈ یارڈ جیسی ادارے کی تشکیل بھی انہی کی سربراہی میں ہوئی ۔ کیونکہ یہ سرپیل ہی تھا جو ایک عادی مجرم کو بھی ایک نیک مقصد کے لئے استعمال کیا اور اصلاحی قدم اٹھایا اور ایک ذمہ دار انتظامیہ کا مثال قائم کیا اور اصلاح کا طریقہ کار بھی واضح کیا۔ مگر ہمارے ہاں انتظامیہ الگ ہی طرز کا ہوتا ہے۔وہ یوں کہ پچھلے دنوں چترال میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ جس میں ایک ملعون شخص توہین مذہب کا مرتکب ہوا اور لوگوں کو اشتعال میں لایا۔ اس کے فوراً بعد خطیب نے اسے پولیس کے حوالہ کیا اور لوگ جذباتی ہو کر تھانے سامنے احتیجاج شروع کئے۔ جو کہ ایک فطری عمل تھا۔ کیونکہ توہین مذہب کی اجازت کسی بھی معاشرے میں ناقابل برداشت ہے اور اگر کہیں ایسا ہوتا ہے تو لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور احتجاج شروع ہوتا ہے۔ جو قطعاً جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ کیونکہ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے تھے اور سرکار سے وہ یہ اپیل کر رہے تھے کہ جلد از جلد مجروم کو ان کے حوالے کریں یا قانون کے مطابق کاروائی کی یقین دہانی کرے۔  “قانون جو بناتے ہیں وہی قانون توڑتے ہیں اور جن کا ذمہ قانون کی رکھوالی ہو وہ اس کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں”۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس واقعے کے بعد چترال کا عام عوام اور علماء کرام نے جو مثالی کردار ادا کیے، جس کی نظیر بہت کم ہی ملتی ہو گی۔ کیونکہ ایک انتہائی پریشان کن واقعے کے بعد سب ملکر یک زبان و یک قدم ہو کر امن و امان کی بحالی کے لئے قدم اٹھائے اور ایسے میں سیاسی موقع پرست بھی کسی حد تک تکلف کئے اور بیانات داغ ڈالے اور اب یہ چترال کی ضلعی انتظامیہ کا فرض تھا کہ وہ امن و امان کی بحالی کے لئے علماء کرام اور سیاسی قائدین سے ملاقات کرکے معاملہ جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کرتے اور اصلاحی اقدامات اٹھا کر وہ بھی علما کرام کی طرح مثالی کردار ادا کرتے۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی ازل سے رہی ہے کہ ہمارے افیسر شاہی ہمیشہ سے کام چور، غافل، غیر ذمہ دار اور کرپٹ جیسی صفات سے پہچانے جاتے رہے ہیں اور جس کی واضح مثال چترال کی ضلعی انتظامیہ ہے اور حالیہ واقع میں اس کی کردار اور اقدامات سے واضح ہوئے کہ وہ بھی مندرجہ بالا صفات پر پورا اترتے ہیں۔   چترال پولیس مظاہریں سے نمٹنے کے لئے تمام ہتھکنڈے استعمال کئے مگر جو روایتی بے انصافی اور ستم ظریفی کا مظاہرہ کیا وہ شاید ہی کہیں ہوا ہو۔ وہ یوں کہ اس واقعے کے بعد احتجاج کرنے والے لوگوں کو گرفتار کیا اور رپورٹ جاری کہ 150 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ ڈیرھ سو افراد کو ایک ہی واقعے میں، ایک ہی دن، ایک مقام پر ،ایک ہی جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے اور ان میں جو اثررسوخ والے تھے انہیں رہا کیا جاتا ہے اور جو پیچھے بے بس مجبور 22 افراد رہ گئے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ ٹھوک دیا گیا اور باقیوں کی رہائی کس قانون کے تحت ہوا؟ اور دوسری بات یہ کہ ان 22 افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کیا گیا اور سب کو علم ہے کہ اس جیل میں انتہائی مطلوب دہشت گرد موجود ہیں اور ان افراد پر اس کا کیا اثر ہو گا یہ ایک الگ بحث ہے مگر جسطرح کی بے ہسی کا مظاہرہ ضلعی انتظامیہ نے کیا، جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اور اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ چترال میں بدامنی پھیلانے میں غیر ملکی عناصر کا ہاتھ ملوث ہے مگر میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ کیونکہ جب تک غیرذمہ دار اور بے انصاف لوگ انتظامی امور سر انجام دیتے رہیں گے تو معاشرے میں بدامنی، انتیشار اور بے چینی پھیلانے کے لئے کسی بیرونی قوت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جو کہ ہمارا انتظامیہ کر رہی ہے۔

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔