تازہ ترینشیر جہان ساحل

انتہا پسندی سے چٹکارا ممکن ہے

 ۔ ۔ ……….. شیر جہان ساحلؔ

مئی 1945ء کی دس اور گیارہ تاریخ کی درمیانی شب امریکی شہر لاس اینجلس میں ٹارگیٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایٹمی حملے کے لئے جاپان کے اندر ٹارگیٹ مقرر کرنا تھا۔ اس اجلاس میں جاپان کے کئی شہر زیر غور رہے جسمیں کیوٹو، ہیروشیما، یوکوہوما، کوکورا اور ناگاساکی ممکنہ ہدف قرار پائے۔ ہیروشیما صنعت و حرفت کا مرکز اور جاپانی فوج کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کی وجہ سے اولین ٹارگیٹ قرار پایا۔ اس کے بعد 6 اگست 1945ء کو امریکی طیارہ بی۔29 بحرالکاہل میں واقع تیانمین کے ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور تقریبا صبح ساڑھے آٹھ بجے یورینم 235 کے حامل “لٹل بوائے” نامی ایٹم بم چھ سو فٹ کی بلندی سے ہیروشیما پر گرادیا گیا اور تین دن بعد یعنی 9 اگست کو پلوٹونیم 239 کے حامل “فیٹ مین” نامی ایٹم بم ناگاساکی پر گرادیا گیا۔ تباہی اور بربادی ہرطرف پھیل گیا اور انسانیت کی ایک ایسی توہین کی گئی جس کی نظیر تاریخ میں ملنا ممکن نہیں اور مستقبل میں بھی اگر دہرایا گیا تو انسانیت کا بقا شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس حملے کے بعد جاپان پر امریکی فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ۔ حاپان نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیا اور امریکی فوج کے سربراہ جنرل میک آرتھر نے 40 مبینہ جنگی قیدیوں کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا جسمیں جاپان کے وزیر اعظم ہیندیکی توجو بھی شامل تھا۔

اس ایٹمی حملے میں جو لوگ بچ گئے تھے ان کو جاپانی زبان میں ہیباکوشا (یعنی بم سے شناسا لوگ) کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ جنگ کے بعد جاپان کے اندار حالات انتہائی ابتر ہوئے ۔ جاپانی نوجوانون نے یہ طئے کر لیئے کہ جہان امریکی نظر آئے وہیں اسے گھاڑ دو اور خود کو بھی اڑا دو۔ جاپان پر قبضہ کرنے کے بعد کی صورت حال امریکی فوج کے لئے سردرد بنا کیونکہ جاپانی نوجونون کے سامنے صرف اور صرف ایک ہی مقصد تھا کہ اپنے ان معصومون کے خون کا بدلہ لینا ہے جو ناحق بہایا گیا اور ذمہ دار امریکہ ہے اور یہ ان کی زندگی کا مقصد بن چکا تھا اور ان کے ذہن میں نفرت جنم لے چکی تھی۔ اور یہ فاتح جنرل کے لئے ایک چیلنج سے کم نہ تھا کیونکہ ایک جیتا ہوا جنگ ہارنے کے خطرے سے دوچار ہو رہا تھا اور امریکی فوج یا کسی امریکی شہری مورچے سے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو رہا تھا۔  جاپانی نوجوانون کے ذہن میں موجود اس انتہا پسندی کا بغور جائزہ لینے کے بعد جنرل میک آرتھر نے ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دی جو اس سارے صورت حال کو تبدیل کرکے رکھ دی۔ جنرل میک آرتھر جانتا تھا کہ اس نفرت اور انتہاپسندی کا خاتمہ طاقت سے ممکن نہیں ہے، لہذا کوئی اور حل نکالا جائے۔ اس کے فوراً بعد جنرل موصوف نے جاپانی اکابرین جن میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، کا ایک اجلاس بلایا اور ان کو یہ باوار کروایا کہ اس نفرت کا انجام سوائے ذلالت اور رسوائی کے کچھ نہیں ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ جاپانی نوجوانون کے ذہن میں موجود اس نفرت کو ختم کیا جائے اور انہیں علم کی طرف لوٹایا جائے تاکہ امن و امان بحال ہوسکے اور باقی لوگ سکون سے رہ سکیں۔ جاپانی اکابریں بھی اس نفرت سے تنگ آچکے اور آئے روز اپنے پیاروں کی لاشین اٹھا اٹھا کر تھک چکے تھے۔ انہوں نے جنرل میک آرتھر کو بھر پور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور نوجوانون کی اصلاح شروع کی گئی۔ جنرل میک آرتھر امریکی تعلیمی اداروں میں جاپانی اسٹوڈنٹس کےلئے فری تعلیمی سہولیات مہیا کروائے اور جاپان کے اندار نصاب کو تبدیل کروا کر تعلیمی اداروں کی معیار کو بہتر کئے اور یوں نوجونون کو علم کی راہ میں ڈال دیا گیا اور ان کے لئے اگاہی پروگرامز منعقد کروائے گئِے اور جاپانی نوجوانون کا ذہن ہتھیاروں سے نکال کر علم کی راہ میں ڈال دیا گیا اورجاپانی نوجوان نفرت چھوڑ کر محنت شروع کئے اور جاپان دن دوگنی اور رات چوکنی ترقی کرتا گیا اور آج جاپان کی ٹیکنالوجی سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچ رہی ہے اور خود امریکہ بھی کئی ایک الیکٹرانک ٹیکنالوجی کے حوالے سے جاپان کا محتاج بن گیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ نفرت سے آج تک انسان اور انسانی معاشرے کو نقصان کے سوا کچھ بھی نہیں ملا ہے کیونکہ انسان کی تخلیق ہی محبت کے واسطے ہوئی ہے اور نفرت ایک شیطانی فعل ہے ۔

ہمارے معاشرے میں بھی آجکل نفرت اور انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے۔ آئے روز انسانیت ذلیل ہو رہی ہے نفرت کا درس کھلے عام دیا جا رہا ہے۔ ریاست ناکامی سے دوچار ہے کیونکہ جو ریاست اپنے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کرسکے اسے ناکام ریاست کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ نوجوان انتہاپسندی کے راستے پر گامزن ہو چکے ہیں۔ خود کش حملے معمول بن چکے ہیں۔ ہر مکتب فکر کے لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں کہ مارنے والے کو شہد کہیں یا مرنے والے کو!!! ہر طرف اضطراب بڑھتا جارہا ہے۔ مایوسی بڑھتی جارہی ہے اور ہر فرد نہ امیدی سے دوچار ہے۔

چونکہ یہ ہم سب کو معلوم ہے کہ مایوسی گناہ ہے اور امید رکھنا ایمان کا تقاضا۔ اسلئے ضروری ہے کہ مایوس ہونے کے بجائے حکمت عملی سے کام لیں اور انتہاپسندی او نفرت کی اندھروں سے بھری ظلمت کی ان تاریک راتوں کو امید کی کرنوں سے اجالا کرکے شکست سے دوچار کریں جو امید کی جگہ مایوسی اور محبت کی جگہ نفرت عام کررہے ہیں۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ جنرل میک آرتھر کی پالیسی اپنائی جائے اور حکومت معاشرے میں موجود اکابرین اور دانشوارون کو ساتھ ملا کر حکمت عملی واضح کردے اور انتہا پسندی کی خاتمے کے لئے اقدامات کریں۔ کیونکہ انتہاپسندی کو اس وقت ختم کیا جا سکتا ہے جب اس کے کوئی پیروکار نہیں ہونگے۔ اور معاشرے میں موجود تمام لوگ اسے نفرت کریں گے۔ اس طرح معاشرے میں استحکام پیدا ہو گی اور انسانیت کی فلاح ممکن ہوسکے گی ورنہ یہ انتہا پسندی ہمیں لے ڈوبے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق