تازہ ترینشیر جہان ساحل

انصاف سرکار اور علمی معاشرے کی تشکیل

حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ تبدیلی خیالات سے آتی ہے حالات سے نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ تبدلی کے لئے سب سے پہلے خیالات اور سوچ کو بدلہ جا ئے تاکہ حقیقی تبدیلی ممکن ہوسکے۔ انسانی معاشرے میں ترقی کے بہت سے پہلو ہیں اور معاشرہ مجموعی طور پر ان تمام پہلووں پر عمل کرکے ہی صیح معنوں میں ترقی کرسکتی ہے ورنہ ترقی تو صرف ایک خواب بن کر ہی رہ سکتی ہے۔ ہمارے معاشرتی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان تمام مسائل کا جڑ ناخواندگی ہے اور یہ مسائل اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتے جب تک معاشرے کا ہر فرد تعلیم کے زیور سے آراستہ پیراستہ نہ ہو۔ جی ہاں ! اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسانی معاشرے کی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ترقی کے لئے ایک اہم اور لازمی جز ہے ۔ چونکہ اس بات کی وضاحت اپنے گذشتہ مضمون میں کرچکا ہوں کہ ترقی ایک کثیرالاجہتی عمل جسے حاصل کرنے کے لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسرے پہلووں پر بھی عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مگر اس وقت ہم صرف تعلیم کوہی لے لیتے ہیں کیونکہ ہماری حکومت کا دعوی ہے کہ وہ انسانوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں کیونکہ قومیں تب بنتی ہیں جب ان پر انویسٹ کیا جاتا ہے اور سڑکیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں۔چلو ایک لمحے کے لئے مان لیتے ہیں کہ ہماری حکومت کا موقف درست ہے اور تمام تر ذاتی اور سیاسی اختلافات کو بلائے طاق رکھ کر اتفاق کرتے ہیں کہ ہماری حکومت واقع میں انسانوں پر انویسٹ کررہی ہے اور ترقی کے لئے تعلیم کو ہی واحد راستہ تصور کرتی ہے اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے واسطے حکومت کی اقدامات کیا واقع درست ہیں جو حصول علم کو ممکن بنائیں۔
پچھلے دنون اپنے ایک دوست کے ساتھ کچھ کتابین لینے واسطے پشاور صدر جانے کا اتفاق ہوا اور پوچھنے سے کنفرم ہوا کہ کتابین سنہری جماعت کے سامنے والی گلی میں ملتے ہیں۔ چونکہ ہم کراچی میں رہائش پذیر تھے اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پشاور شفٹ ہوئے اور شہرسے تقریباً نا آشنا تھے اسی لئے رہنمائی لینے کی ضرورت پڑی۔ ذہن میں یہ خیال بھی تھا کہ کتابین ہمیں باآسانی دستیاب ہونگی اور قیمت بھی مناسب ہوگی کیونکہ تعلیم ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انسانون پر سرمایہ کاری منشور کا حصہ ہے اور علمی معاشرے کی تشکیل اولیت ہوگی وغیرہ کی سوچ ذہن میں لئے وہ جگہ پہنچ ہی گئے جہان کسی زمانے میں کتاب فروش ہوا کرتے تھے۔ یا پھر پشاور کا کسی حد تک اردو بازار بھی کہلاتا تھا۔ ہمیں یقین نہیں آیاکہ ہم لوگوں کے بتائے ہوئے اس صحیح جگہ پر پہنچ چکے ہیں جوکہ پشاور کا علمی مرکز ہوا کرتا تھا جہان پر علم دوست طبقہ علم کی پیاس بجھانے آیا کرتے تھے۔ پھر بھی میسر معلومات پر اکتفادہ کیا تو تصدیق ہوا کہ یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں پر کتابین دستیاب ہیں۔ گلی کے شروع میں ہی ایک گارمنٹس اور سامنے کباڑ کی دکان ہے اور تیسری نمبر پر اسٹیشنری مارٹ اور اسکے ساتھ ہی ایک اور بڑی شاب جس کے سامنے لگے بورڈ پر درج تھا کہ امتحان میں سوفیصد کامیابی کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔ دس سالہ پیپرز، گیس پیپرز اور گائیڈ اور پوکٹ گائیڈ بھی دستیاب ہیں۔ اس سے آگے گیا تو کارنر کی دکان پر ایک بزرگ تشریف فرما تھے جہاں دکان کی ایک سائیڈ پر کتابیں اور دوسری سائیڈ پر کیڈز یعنی بچگانہ گارمنٹس لگے ہوئے تھے۔ یہ چترالی روایت ہے کہ ہم بزرگون کی بے حد احترام کرتے ہیں اور ان کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں تو ہم بھی اسی بزرگ کی خدمت میں سلام کئے اور دکان میں داخل ہوئے بزرگ بھی احتراماً کھڑے ہوکر استقبال کیا کیونکہ ہم کراچی سے آئے تھے اور پینٹ شرٹ پہنے کے عادی تھے اور یہ پشتون کلچر کا حصہ ہے کہ وہ مہمانون کی بہت زیادہ عزت وافزائی کرتے ہیں۔ بزرگ سے رسمی گفتگو کے بعد ہم یہ جاننے پر اسرار کئے کہ کیا واقعی یہی پشاور کی علمی گلی ہے اور کتابیں اسی گلی میں ہی ملتی ہیں کیونکہ دیکھنے سے ہمیں یقین نہیں آرہا تھا ۔ اسرار کرنے پر بزرگ نے اثبات میں سر ہلایا اور حیرت بھری نگاہوں سے ہماری طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے آپ لوگ اسرار کیوں کررہے ہو؟؟ ہم نے عرض کئے کہ حاجی صاحب ہمارے ذہن میں علمی معاشرے کا وہ تصور موجود ہے جو ہماری حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ اس کی ساری توجہ تعلیم اور صحت پر مرکوز ہے اور یہاں آکر ہمیں یقین ہی نہیں ہورہا ہے کہ ان چند دوکانون سے !!! بزرگ نے قہقہ لگایا اور کہا کہ لگتا ہے کہ تم لوگ بھی سیاسی خُرافات پر یقین کرگئے ہو۔۔۔ کہنے لگے یہاں یہ چند دکانین باقی ہیں اور یہ بھی وہ لوگ ہیں جن کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ چند دکانیں بھی کب کا ختم ہوجاتے۔ یہاں کتابین کوئی نہیں خریدتا نوجوان پوکٹ گائیڈز پر گزارا کرتے ہیں اورکتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اس بات کی واضح ثبوت سرکاری پابندی کے باوجود مارکیٹ میں پوکٹ گائیڈز کی دستیابی ہے۔ بزرگ جذباتی ہوگئے اور کہنے لگے کہ ادبی سرقہ یہاں کوئی معنی نہیں رکھتا ہے او ر اسی کے تحت کتابیں چھاپتے ہیں اور لاہور سے کتابیں لاکر یہاں فروخت کئے جاتے ہیں اور بعد میں لوکل انتظامیہ حق تصنیف کے کیس میں کتاب فروشوں کو گرفتار کرتا ہے اور اسی وجہ سے زیادہ تر لوگ دوکانیں بند کرکے چلے گئے یا پھر دوسرے کاروبار سے منسلک ہوئے۔ بزرگ نے ایک لمبا سانس لیا اور ہاتھ پیشانی پر رکھ کر کرسی میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور ہم مایوسی کی حالت میں مزید کچھ کہے بے غیر وہاں سے نکل گئے۔
؂؂؂؂؂؂؂؂؂جی ہاں ! ہم سرکار کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ان کی ہمدردی اور لگاؤ کو بھی سراہتے ہیں مگر کب تک؟؟؟۔۔۔۔۔ کیونکہ چار سال مکمل ہوچکے ہیں مگر حکومت کی جانب سے کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا جسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ دعوی کیا جاسکے کہ تعلیمی انقلاب کی طرف حکومت کے اقدامات سنجیدہ ہیں تاکہ امید کی کوئی کرن نظر آسکے۔ کیونکہ ابتک جو ہوا ہے وہ صرف باتوں کی حد تک محدود ہے ۔ اور اسے علمی معاشرے کی تشکیل تو کجا!! بلکہ علم کے ساتھ مذاق کہا جا سکتا ہے اور یہ بات حقیقت ہے کہ جو قومیں علم کے ساتھ مذاق کرتے ہیں وہ عبرتناک انجام سے دوچار ہوتے ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق