شیر جہان ساحل

فرعون ، موسیؑ اور نوازشریف کی کہانی

…………..۔۔۔۔۔۔۔۔ شیر جہان ساحل

تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ موسیؑ اور فرعون کے قصے میں بھی کچھ یوں ہی راز کارفرما تھے جو آج کل وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو سامنا ہے۔  فرعون کے دربار میں ایسے کئی درباری موجود تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ فرعون کی بادشاہت جب تک قائم ہے تب تک یہ لوگ بھی جی سکیں گے اور جس وقت فرعون کو کچھ خطرہ لاحق ہوا اور سلطنت خطرے میں پڑ گیا تو یہ درباری بے روزگارہونگے۔ اسلئِے وہ (درباری) فرعون کو مشورہ دے ڈالے کہ وہ نجومیوں کے ذرئعے معلوم کریں کہ کہیں اس کی بادشاہت کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں۔ ان کی باتوں پرعمل کرکے فرعون نے نجومیوں سے پوچھا تو جواب ملا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس سے فرعون کی فرعونیت کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے بعد نجومی چلے گئے اور دربارویوں نے واپس فرعون کو یہ مشورہ دئیے کہ خطرہ پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کرنا ضروری ہے اور اسیلئے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے تمام بچوں (لڑکوں) کو مار دیا جائے۔ بس یہاں سے موسیؑ اور فرعون کی کہانی شروع ہوتی ہے اور انجام سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ فرعون کو غرق دریا ہونا پڑا۔

جی ہاں یہ حقیقت ہے کہ فرعون کی طرح ہمارے وزیراعظم کے دربار میں بھی ایسے کئی درباری موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وزیراعظم کی چھٹی پکی ہوئی تو یہ درباری بھی ہمیشہ کے لئے بے روزگار ہو جائیں گے اور بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ اور اسیلئے وہ ہر قیمیت پر یہ کوشش کرتے ہیں کہ کچھ بھی ہو میاں صاحب کی کرسی برقرار رہے اور وہ اس مقصد کے لئے وزیراعظم کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ استعفی دینے سے گریز کریں ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ کو چلینج کریں گے۔ اور ٹکر لینے کی سیاست شروع کریں گے۔ مگر وزیراعظم کی کم عقلی دیکھئے کہ وہ بھی ان کی باتوں پر عمل کرچکے ہیں اور استعفی کے بجائے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ مگر میاں صاحب کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اخلاقی طور پر اس قابل رہ گئے ہیں کہ اس ملک پر مزید حکومت کریں، مگر اس ملک میں اگر کوئی چیز معنی نہیں رکھتی وہ ہے اخلاقیات!! اور یہ ہم سب کو معلوم ہے کہ جو قوم اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ کرتی ہے اس کی بقا خطرے سے دوچار ہوتی ہے۔  اور میاں صاحب کوچائیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیکر اس پر غٔور کریں تاکہ بقا برقرار رہے۔ اگر اس بار میاں صاحب دربارویوں کی باتوں میں اکر استعفی دینے سے گریز کیا تو انجام تو عبرت ناک ہوگی مگر تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غلط الفاظ میں یاد کئے جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اس کے خاندان کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس ملک  کی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑے۔ اسی لئے یہ وزیراعظم اور اس کے خاندان والوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے اور دوسری طرف درباریوں کا وہ ٹٔولہ شور مچانے میں مصروف ہے کہ وزیراعظم کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ہم ہر میدان میں میاں صاحب کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ مگر میاں کو چائیے کہ وہ حالات کی نزاکت کو جاننے کی کوشش کریں اوراس ملک کی نہ سہی کم از کم  اپنے اوراپنے خاندان کی وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر جرائت مندانہ فیصلہ کریں تاکہ اس کے خاندان کی سیاسی وجود برقرار رہے اور اگر درباریوں کے بہکاوے میں اکر میاں صاحب کوئی غلطی کر بیٹھے۔ تو فرعون کی طرح غرق دریا ہونے کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق