تازہ ترینشیر جہان ساحل

چترال میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر۔

ضلع چترال میں ان دونوں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔بے چینی کا یہ عالم ہے کہ ہر سیاسی وابستگی رکھنے والا شخص اقتدار کا مزہ چکنے اور کرسی پر براجمان ہونے کا خواب دیکھنے میں مصروف ہے۔ دنیا میں جہان کہیں بھی مفاد پرستی اور شخصی املاک کی تحفظ کی سیاست ہوتی ہے وہاں ہمیشہ سے لیڈر شب کا فقدان ہوتی ہے اور پاکستان بھی انہی ممالگ کی صف میں کھڑا ہے جہاں لیڈر شب کا فقدان روز اول سے رہا ہے۔ یہاں اقتدارسے باہر کھڑے سیاستدان اقتِدار حاصل کرنے کےلئِے ہاتھ پیر مار رہے ہوتے ہیں اور اقتِدار کی کرسی پر براجمان لوگوں کی تمام تر کوششیں اگلے بار کی نشست کے حصول تک محدود ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہ قول بلکل درست ہے کہ ایک کامیاب لیڈر کی سوچ اگلی نسل ہوتی ہے اور ناکام سیاستدان کی سوچ اگلی الیکشن تک محدود ہوتی ہے۔ اور چترال میں ان دنوں انہی اصولوں کے تحت جدوجہد جاری ہے۔ کرسی پر براجمان لوگ اگلی بار کی حصول اور کرسی سے باہر لوگ کرسی تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف دیکھائی دیتے ہیں۔ اور اسی مقصد کے لئے چترال کی ہوٹلوں میں سیاسی جوڑ توڑ کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ اور کچھ لوگ اپنے آپ کو اس دوڑ میں کامیاب ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اور کچھ مایوسی میں مبتلا دیکھائی دیتے ہیں۔

پچھلے دنوں جماعت علماء اور جماعت اسلامی کے دو اہم کارکنان پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور پشاور میں پارٹی کے کو چیرمین جناب آصف علی ذرداری کی موجودگی میں باقاعدہ ہار پہنا کر پیپلز پارٹی میں خوش آمدید کہا گیا اوریوں جماعت علماء کے حاجی غلام محمد اور جماعت اسلامی کے انجینئر فضل ربی باقاعدہ طور پر  پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اس کے آنے والے الیکشن پر کیا اثر ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر سیاسی کارکنانان اسے پیپلز پارٹی کی ضلعی صدر کی اہم کامیابی قرار دیتے ہیں۔ اور اب پیپلز پارٹی کے کارکنان کی نظریں ٹکٹون کی تقسیم پر مرکوز ہیں کیونکہ پی۔کے 89 کے حلقے میں پارٹی کی ضلعی صدر الیکشن لڑیں گے اور این۔اے۔ 32 اور پی۔کے۔ 90 کے لئے امیدواروں کا چنائو کن اصولوں کےتحت کرتے ہیں یہ پارٹی کی ضلعی قیادت کے لئے  کڑا امتحان ہے۔

دوسری طرف جماعت اسلامی نے ایک صوبائی اور قومی اسمبلی کے نشست کے لئے امیدواروں کا اعلان کر رکھا ہے جس میں مولانا عبدولاکبر چترالی این۔اے۔32 کے لئے  حسب روایت امید وار ہونگے اور پی۔کے۔89 کےلئے اس بار نیا چہرہ سامنے لایا جارہا ہے۔ اور موجودہ ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کا نام  حتمی لیسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ مگر پی۔کے۔ 90 کے لئے اب تک کسی ایک امیدوار کے نام پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ دینی جماعتوں کی اتحاد  کے لئے  کوششیں جاری ہیں اور اتحاد ہونے کی صورت میں اپر چترال یعنی کہ پی۔کے۔90 کے لئے امیدوار جماعت علماء نامزد کرے گی اور ضلعی ناظامت بھی جماعت علماء کے حصے میں آئے گی۔

ادھر صوبے میں حکمران جماعت اب تک بیغر کسی ضلعی سیٹ اپ کے چل رہا ہے اور پارٹی چیرمین اور صوبے کے وزیراعلی کے حالیہ  ناکام اور بے مقصد دورے کے باوجود ضلعی کابینہ کی تشکیل اب تک ممکن ہی نہ ہوسکا ہے۔ ایک طرف دوسری جماعت کے لوگ آنے والے الیکشن کے لئے اپنے امیدواروں کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کرکے ابھی سے کوششیں شروع کر رکھے ہیں تو وہیں تحریک انصاف کےکارکنان اب تک ضلعی کابینہ  سے محروم مایوسی کے عالم میں مبتلا دیکھائی دے رہے ہیں اور یوں لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت  چترال کو ثانوی اہمیت دے رہی ہے اور اسکا یہ رویہ آنے والے الیکشن پر کسطرح اثراندوز ہوگی یہ وقت ہی بتائے گی۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انصاف ٹائیگرز اب تک یہ فیصلہ نہ سکے پارٹی کی ضلعی قیادت کب اور کس کے حوالے کرنی ہے اور کن اصولوں کے تحت کرنی ہے ، تو آنے والے الیکشن میں پارٹی ٹیکٹس کس طرح تقسیم ہونگے کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ پارٹی کے ٹائیگرز صرف نظریاتی امیدواروں کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ اور جو نظریاتی کارکنان ٹیکٹ کے لئے اہل تصور کئے جاتے ہیں ان میں لوئر چترال سے اسرارالدین صبور اور سجاد شامل ہیں جبکہ اپر چترال سے عبدوالطیف اور رحمت غازی چیف شامل ہیں۔مگر اس کے علاوہ جو لوگ پارٹی ٹیکٹ کے شوقین ہیں ان میں عبدولوالی ایڈوکیٹ، بی بی فوزیہ، شہزادہ سکندر وغیرہ شامل ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے علاوہ چترال دوست پینل کی طرف سے اس بار پھر سے ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے جس میں چترال کے تھنک ٹنک شامل ہیں اور ان کی کوشش یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہو کر   اس بار کسی آزاد امیدوار کو سامنے لایا جائے جو دیانتداری اور ایمانداری سے چترال اور چترالی عوام کی خدمت کرے۔ اور یہ دعوی بھی کیا جارہا ہے کہ آزاد امیدوار کو ہی جتوانا چائیے کیونکہ ہر بار اپوزیشن میں رہنا چترال لئے نقصان کا باعث بنتا ہے۔اور اس مقصد کے لئے مختلف نام زیر غور ہیں۔

اسطرح مسلم لیگ ن ، عوامی نیشنل پارٹی ، جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے ضلعی سیٹ اپ کی تشکیل اور امیدواروں کی چنائو باقی ہے۔ تاہم امیدوروں کی ایک  اچھی خاصی تعداد اب بھی مختلف  پارٹی ٹیکٹوں کی حصول کے لئے  سرگرم دیکھائی دیتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کون ٹیکٹ کی حصول میں کامیاب ہوتے ہیں اور کون رسک لیکر آزاد قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ البتہ منظر یوں ہے کہ دلہن ایک ہے اور دلہا کئی!! اور ایسے میں خاندان کے سربراہ  پر یہ ذمہ داری عائد  ہوتی ہے کہ وہ دلہن کی  قسمت کا فیصلہ کن اصولوں کے تحت کرتی ہے ۔ البتہ معاشرے موجود لالچ  اور مفاد کے بڑھتے ہوئے محرکات دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہ ہوگا کہ دلہے کی کردار، وفاداری ، عقلی اور اخلاقی لیول سے زیادہ کہیں اس کی مالی حالت اور ذاتی تعلقات کو ترجیح دی جائے گی۔ مگر عوام خصوصاً نوجوانون کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ۔۔۔۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر      ۔۔۔۔۔۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق