صوبائی حکومت تعلیمی ایکٹ کے خلاف اسلامی جمعیت طلباء چترال کے زیر اانتظام ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | صوبائی حکومت تعلیمی ایکٹ کے خلاف اسلامی جمعیت طلباء چترال کے زیر اانتظام ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا
Premier Chitrali Woolen Products

صوبائی حکومت تعلیمی ایکٹ کے خلاف اسلامی جمعیت طلباء چترال کے زیر اانتظام ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) 10اکتوبر کو اسلامی جمعیت طلباء چترال کے زیر اانتظام ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی میں ڈگری کالج چترال کے طلباء نے بڑے پیمانے میں شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاکر ڈگری کالج سے ہوکر پی آئی اے چوک میں جلسہ کیا ۔ریلی سے ناظم اسلامی جمعیت طلباء برادر اشفاق احمد خان ، صدر بزمِ شاہین اقبال الدین ، ڈگری کالج کے ناظم برادر حاجی اکبر اور عابد الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی مسائل اور حالیہ صوبائی حکومت تعلیمی ایکٹ کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تعلیمی مسائل کے حوالے سے اسلامی جمعیت طلباء خیبر پختونخواہ کے21نومبر کو پشاور میں تہماس خان اسٹڈیم میں طلباء کنویشن کرنے کے حوالے سے بات کی گئی اور کہا طبقاتی نظام تعلیم ،اداروں میں سہولیات کی عدم دستیابی خاص کر پرائیٹیزیشن کے خلاف اساتذہ کرام کے کلاسوں کابائیکاٹ کرنے کی وجہ سے تعلیمی تسلسل میں روکاوٹ نے طلباء کے قیمتی وقت کو ضائع کرنے اور پریشانی کا باعث بنا ہیں ۔اسلامی جمعیت طلباء چترال نے پُرزور مطالبہ کیا کہ تعلیمی تسلسل کو دوبارہ بحال کرکے طلباء کے وقت کو ضائع ہونے سے بچائے اور ریلی کی توسط سے تمام طلباء کو یہ پیغام دیا کہ اسلامی جمعیت طلباء کے اسٹوڈنٹس کنونشن میں بھرپور شرکت کریں اور اس عظیم الشان کنونشن کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں ۔اُنہوں نے کہا کہ یکم نومبر کو چترال سے طلباء کا جام غفیر کنونشن میں شرکت کرنے کے لئے روانہ ہوگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

دروش کو تحصیل کا درجہ دینے پر آل فلائنگ کوچ ڈرائیور ایسوسی ایشن چترال کا خیبر پختونخوا صوبائی حکومت اور وزیر اعلی پرویز خٹک کا شکریہ

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) آل فلائنگ کوچ ڈرائیور ایسوسی ایشن چترال خیبر پختونخوا نے ...

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔