پاکستان کے غیر شفاف حکمرانی کے نظام اور کرپٹ سیاسی قیادتوں کی وجہ سے بیرونی ممالک میں ملک کی مجموعی تصویر غلط جارہی ہے.وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | پاکستان کے غیر شفاف حکمرانی کے نظام اور کرپٹ سیاسی قیادتوں کی وجہ سے بیرونی ممالک میں ملک کی مجموعی تصویر غلط جارہی ہے.وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک
Premier Chitrali Woolen Products

پاکستان کے غیر شفاف حکمرانی کے نظام اور کرپٹ سیاسی قیادتوں کی وجہ سے بیرونی ممالک میں ملک کی مجموعی تصویر غلط جارہی ہے.وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، معاشی استحکام اور دیرپا ترقی کیلئے ملک کا پرسیپشن ٹھیک کرنے کیلئے شفافیت اور میرٹ بیسڈ فیصلہ سازی ناگزیر ہے۔ہمارے صوبے نے اس شفافیت کو دیر پا ترقی کی بنیادبنانے کیلئے رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون متعارف کرایا۔یہ پہلا صوبہ ہے جس نے بین الاقوامی معیار پر تسلیم شدہ قانون کے ذریعے اچھی حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی،عوام کے حقوق کی واگزاری اور انصاف کے پورے نظام کو سہل بنانے کیلئے بنیاد فراہم کی ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ مختلف سرکاری اداروں میں 10575 لوگوں نے معلومات حاصل کرنے کیلئے درخواستیں دی ہیں جن میں سے 6788 شہریوں کو مطلوبہ معلومات فراہم کردی ہیں۔اسی طرح آر ٹی آئی کمیشن کو 3749 درخواستیں موصول ہوئیں ۔3229 درخواستوں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے جبکہ مزید 520 شکایات پرعمل درآمد مختلف مراحل میں ہے جو سرکاری معلومات تک عوام کی رسائی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی بہتر ین کارکردگی کا مظہر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں 107 ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ متعلقہ صوبائی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان کے غیر شفاف حکمرانی کے نظام اور کرپٹ سیاسی قیادتوں کی وجہ سے بیرونی ممالک میں ملک کی مجموعی تصویر غلط جارہی ہے۔جب اقتدار کے ایوانوں پر قابض سیاستدان اپنا سرمایہ پاکستان سے باہرانویسٹ کرنے کو ترجیح دیں تو بیرون ملک سے پاکستانی یا غیر ملکی اپنا سرمایہ یہاں لاکر کیوں انویسٹ کریں گے۔ہمارے اربوں پتی اورسیز پاکستانی واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں مگر اُنہیں ہماری قیادت پر اعتماد نہیں ہے۔ہمیں نظام کی شفافیت کے ذریعے اس اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔صوبائی حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سال عوامی توقعات کے مطابق اپنے تبدیلی کے ایجنڈے پر پوری ایمانداری سے کام کیا ہے۔اداروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق آزاد اور با اختیار بنا کر ایک فول پروف سسٹم کی بنیاد رکھی دی ہے۔زیادہ ترصوبائی محکموں میں آزاد اور بااختیار کمپنیاں اور اتھارٹیاں بنائی گئی ہیں جن میں نجی شعبہ کو زیادہ نمائندگی دی گئی ہے۔ہمارے اقداما ت کے مثبت اثرات نچلی سطح پر عوام تک پہنچ رہے ہیں۔تحریک انصاف کی طرف عوام وخواص کا بڑھتا ہوا رجحان ہماری کارکردگی کا ثبوت ہے۔عام تاثر یہی ہے کہ برسراقتدار پارٹی کے آخری سال میں لوگ بھاگتے ہیں مگر صوبے کی تاریخ میں پہلی دفع تاریخ بدلنے جارہی ہے۔صوبے میں کسی جماعت نے بھی متواتر دو بار حکومت نہیں بنائی مگر اس کے برعکس تحریک انصاف نے عوام کی شمولیت واضح کرتی ہے کہ عوام ماضی کی طرح اس حکومت سے نالاں نہیں ہیں کیونکہ اُنہیں سہولیات میسر ہیں اور وہ تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ شروع دن سے ہم نے کوشش کی ہے کہ اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے خود کار نظام وضع کیا جائے ۔اس مقصد کے لئے 200 کے قریب قوانین ، متعدد ترامیم عمل میں لائی گئیں۔ہم نے کنفلکٹ آف انٹرسٹ قانون پاس کرکے سب سے پہلے خود کو بطور حکمران جوابدہ بنایا۔صوبائی محکموں میں رشوت کی حوصلہ شکنی کیلئے وسل بلوئر قانون پاس کیاجس کے تحت کرپشن کی مخبری کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے ریکور کی گئی رقم کا 30 فیصد بطور انعام مخبر کو دیا جاتا ہے۔خدمات تک رسائی کے قانون میں 16 کے قریب اہم خدمات شامل کی گئی ہیں۔متعلقہ حکام مقررہ وقت میں خدمات کی فراہم کے پابند ہیں۔بصورت دیگر ذمہ دار کو اپنی جیب سے درخواست گزار کو جرمانہ دینا پڑتا ہے۔پرویز خٹک نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہمارا بلدیاتی نظام کا دیگر صوبوں سے موازنہ کریں تو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ہم نے نہ صرف اختیارات دیئے بلکہ صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد لوکل گورنمنٹ کو دیا۔ہم تاریخ میں پہلی بار اختیارات اور وسائل کو ویلج کونسل تک لے گئے تاکہ ہر گلی اور ہر کونے میں اس کے اثرات پہنچ سکیں۔44 ہزار کے قریب منتخب عوامی نمائندے ہیں۔ اس قانون کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کا مقامی سطح پر حل آسان ہوا ہے اور بہتری آرہی ہے۔خیبرپختونخوا احتساب کمیشن پر اعتراضات کو وزیراعلیٰ بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ کمشنرز اور ڈی جی میں اختلافات کی وجہ سے ڈی جی نے خود استعفیٰ دیا تھا۔ہم نے ڈی جی کی تقرری کیلئے سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی ۔اس مجموعی عمل میں مزید شفافیت لانے کیلئے اب ڈی جی کی تعیناتی کا اختیار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو دے دیا ہے۔عدالت میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔حکومت کی طرف سے ڈی جی کی مستقل تعیناتی نے کوئی رکاوٹ، تاخیر یا مداخلت نہیں ہے۔حکومتی مداخلت سے متعلق سوچ بالکل غلط ہے۔وزیراعلیٰ نے شعبہ پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے کہاکہ اُن کی حکومت نے صوبے میں پہلی بار انٹیلی جنس ادارہ سی ٹی ڈی قائم کیااور پولیس کی ٹریننگ کیلئے سکول بنائے۔پہلے اڑھائی سال بغیر قانون سازی کے تمام اختیارات پولیس کے حوالے کئے۔اب قانون پاس کرکے محکمہ پولیس کو مکمل آزاد اور بااختیار فورس بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ان اصلاحات سے پہلے دن میں 30 سے زائد شکایات موصول ہوتی تھیں مگر اب سال بھر میں بھی 30 شکایات نہیں آتیں۔وزیراعلیٰ نے دیگر صوبوں کو بھی تجویز دی کہ پولیس کو با اختیار بنائیں کیونکہ یہ ہماری غلام نہیں ہے۔پولیس نے ہمیشہ بڑی قربانیاں دی ہیں اور خطرات کے خلاف فرنٹ لائن پر کھڑی رہتی ہے۔پرویز خٹک نے کہاکہ تعلیم اور صحت کو ہر حکومت نے اپنی پہلی ترجیح کہا ہے مگر عملی طور پر ان شعبوں میں خدمات پر توجہ نہیں دی گئی ۔صوبائی حکومت نے حقیقی معنوں میں تعلیم اور صحت کو ترجیح دی اور غریب عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے اربوں روپے خرچ کئے۔ اس وقت صوبے کے سکولوں اور ہسپتالوں میں سو فیصد عملہ اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔غریب کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا۔ پچھلے سال 14 لاکھ مستحق خاندانوں کارڈ فراہم کئے گئے ۔ اس سال مزید 10 لاکھ کو کارڈ فراہم کریں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے بلین ٹری سونامی کے تحت ایک ارب درخت اُگائے گئے۔60 فیصد خود لگائے جبکہ 40 فیصد قدرتی اُگاؤ ممکن بنایا گیا۔ونڈ فال قانون کے نام پر جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ بند کیااور سائنسی طریقے سے کٹائی کا قانون لارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے شعبہ توانائی میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً4000 میگاواٹ کے حامل رن آف دی ریور منصوبے رواں سال گراؤنڈ پر ہوں گے ۔اس کے علاوہ 150 میگاواٹ کے پن بجلی کے 356 چھوٹے منصوبوں میں سے 80 فیصد مکمل ہو چکے ہیں۔ بیروزگاری کے حوالے سے سوال کو جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ بیروزگاری پر قابو پانے کیلئے زراعت اور صنعت کو ترقی دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔ ہزار ہا نوجوانوں کے لئے سرکاری نوکریاں کافی نہیں ہوتیں ۔صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے صنعتوں کی بحالی اور کارخانوں کے قیام میں مصروف عمل ہے۔ایک وقت تھا کہ ہمارا صوبہ سرمایہ کاری کے لئے فیزیبل نہیں تھامگر سی پیک خصوصاً مغربی روٹ کی وجہ سے اب دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ فیزیبل ہے اور دُنیا بھر سے سرمایہ کار یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ ہمارا صوبہ پنجاب ، افغانستان ، وسطی ایشیاء اور واخان کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے توصوبے کا ریونیو 30 ارب روپے تھا اب 60 ارب روپے ہو چکا ہے۔ہم اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی، گیس اور پٹرول پیدا کرتے ہیں مگر وفاق صوبے کے حقوق دینے میں کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا۔صوبائی حکومت نے پہلی بار اپنے حقوق منوائے اور کافی حد تک حاصل کر چکے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر میں عوامی شکایات کی فوری ازالے کے لئے قائم کردہ کمپلنٹ ریڈرسل (سی آر سی ) کا افتتاح

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید مظہر الاسلام شاہ نے ڈپٹی کمشنر چترال ...