تازہ ترین

چترال شہر کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک کھلی کچہری چترال تھانے میں منعقد ،منشیات کے خلاف پولیس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار

چترال ( محکم الدین ) چترال شہر کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک کھلی کچہری چترال تھانے میں منعقد ہوئی ۔ جس میں چترال پولیس کی طرف سے ڈی ایس پی فاروق جان اور عوام کی طرف سے ناظمین ،تجار یونین ، ڈرائیور یونین کے عہدہ داروں نے شرکت کی ۔ عوامی نمائندوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے منشیات کے خلاف پولیس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا ،کہ ڈی ایس پی فاروق جان کی تقرری کے بعد چترال میں منشیات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے ۔ اور پولیس کی غیر معمولی کارکردگی سے اب منشیات کے کاروباری گرفتار کئے گئے ہیں اور زیادہ تر نے یہ پیشہ ہی ترک کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم اس حوالے سے صرف پولیس کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے ۔ بلکہ ہمیں اپنے بچوں پر دن رات نگاہ رکھنا ہو گا ۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ کرایوں کو یقینی بنانے ، بازار میں مرغی فروشوں کی ناجائز منافع خوری ، سوختنی لکڑی کی قیمت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ۔ اور پولیس سے راتوں کو گشت میں اضافہ کرنے اور راتوں کو بازاروں میں نوجوانوں کی بے وجہ گھومنے کے عمل کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اس موقع پرایس ایچ او منیر الملک، اے ایس آئی جانباز خان اور ڈی ایس پی فاروق جان کے کردار کی تعریف کی ۔ ڈی ایس پی فاروق جان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں عوام اور پولیس کے مابین ہم آہنگی موجود ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمیں منشیات پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا ، کہ منشیات میں ، چرس ، بھنگ وغیرہ کے علاوہ سب سے خطر ناک چیز نشہ آور گولیاں ہیں ۔ جو بازاروں میں فروخت ہوتی ہیں ۔ جنہیں کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ افسوس یہ ہے ۔ کہ چترال میں ڈرگ انسپکٹر کی آسامی خالی ہے ۔ جبکہ نشہ آور ادویات کیلئے الگ دکان ہو نا چائیے ۔ انہوں نے کم عمر موٹر سائکل سواروں کے حوالے سے کہا ۔ کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے مستقبل میں اُن کیلئے مشکلات پیش ہوں گی ۔ اس لئے والدین کو چاہیے ۔ کہ ایسے بچوں کو موٹر سائیکل فراہم نہ کریں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ طے شدہ فیصلہ جات پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق