فکروخیال…….سرکار کے لاڈلے ۔ – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | فکروخیال…….سرکار کے لاڈلے ۔
Premier Chitrali Woolen Products

فکروخیال…….سرکار کے لاڈلے ۔

آج تک تو میں یہ سمجہ رہا تھا کہ عمران خان کے سب سے زیادہ مخالف نوازشریف ،اُس کا خاندان اور اس کے پارٹی کے دیگر رہنما و کارکنان ہی ہیں کیونکہ اسلام اباد کی طویل ترین دھرنے سے لیکر پانامہ کیس کے فیصلے اور وزیراعظم کی نااہلی تک خان صاحب کا ایک بہت بڑا کردار رہا،اس کے علاوہ آئے دن تقریبا ہر جلسے جلوس، میڈیا ٹاک، پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا میں بھی دونون حریف جماعتوں کے درمیان لفظی گولہ باری سے ہر خاص و عام کو پتہ ہے کہ عمران اور تحریک انصاف کی مخالفت نواز لیگ سے زیادہ کوئی نہیں کررہا مگر میں غلط تھا،آج پتہ چلا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک ایسا طبقہ ہے جو نوازلیگ سے بھی زیادہ خان صاحب کا مخالف ہےاور وہ ہے سرکار کا لاڈلہ طبقہ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنیادی طور پر جس تبدیلی کے دعوے کے ساتھ صوبے میں حکومت کا اغاز کیا جس میں سرفہرست صوبے میں تعلیم اور تعلیمی ادارون کی دگرگوں حالت کو بدلنے کے اقدامات تھے اس سلسلے میں پرائمیری سے ہائیر سکینڈری ایجوکیشن ڈییارٹمنٹ کے حالت زار اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے مانیڑنگ سسٹم سے لیکر پورے صوبے کے پرائمری ، سکینڈری اور ہائیر سکینڈری سکولوں میں اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے گئے،سکولوں میں اساتذہ کی بڑھتی ہوئی غیرحاضریوں کے خلاف کریک ڈاون کرکے مانیڑنگ سسٹم کے زریعے ان کی نگرانی کی جانے لگی اور جب عرصہ دراز سے دگرگوں سکولوں کی حالت زار کو ٹھیک کرنے کی سعی کی گئی تو سرکار کے لاڈلے جو آج تک اپنی مرضی کے مالک بنے ہوئے سکولوں کے مختار کُل تھے ان کی نگرانی جب دن بہ دن سخت ہونے لگی تو سرکاری کے ان لاڈلوں جن میں اساتذہ سے لیکر محکمہ تعلیم کے اکثر و پیشتر ملازمیں شامل تھے پر جیسے قیامت برپا ہوگئی، سالوں سکول سے غائب اساتذہ کی جب کھوج شروغ ہوئی تو پتہ چلا کہ ان میں سے کئی ایک بیرون ملک بھی تھے اور کچھ گھروں میں بیٹھے تنخواہ کے مزے اُڑا رہے تھے تعلیم کے نام پر ایسے اقدامات کی وجہ سے ان پر تو مصیبت ان پڑی، ان کو سکولوں میں حاضر کیا گیا،مانیڑنگ والوں کی نشاندھی پر ان کے خلاف اقدامات اُٹھائے گئے تو تب سے متاثر ہونے والا یہ طبقہ عمران خان اور اس کی صوبائی حکومت کی دشمنی میں نواز لیگ سے بھی اگے اگے ہے ، اس طبقے کی عمران دشمنی دیکھ کر میں تو نواز عمران دشمنی ہی بھول گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک محفل جانے کا موقع ملا، بات باتوں میں ملک کی سیاسی حالات پر گفتگو شروغ ہوئی ، بات کہان سے کہان تک پہنچ کر جب عمران خان تک پہنچی تو پاس بیٹھے ہوئے محکمہ تعملیم کے ایک ملازم سے نہ رہا گیا، عمران خان اور اس کی صوبائی حکومت کو گالیان دینےکا سلسلہ شروغ ہُوا حتی کہ اُس کی زات ، خاندان و نجی سرگرمیوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا اور وجہ صاف صاف ظاہر تھا کہ چونکہ صوبائی حکومت نے سرکار کے عرصہ دراز سے لاڈلے ملازمیں کی نگرانی تھوڑی سخت کردی ہے ، اور وہ زمانہ اب نہ رہا کہ جب “چاچا جان فاختہ اُڑایا کرتا تھا” کے مصداق ان کے لاڈلا پن پر کاری ضرب لگائی گئی تھی اس لئے سکول کے اساتذہ سے لیکر محکمے کے کلاس فور سے لیکر ہر وہ ملازم جو “سرکار کی نوکری”کو اپنی زاتی ملکیت سمجہ کر اپنی مرضی کے مطابق چلا رہا تھا،سسٹم کی اس اچانک تبدیلی سے حواس باختہ تھا ،سرکار کے لاڈلے اس وجہ سے تھوڑے نہیں بلکہ بہت زیادہ نالان تھے ،جب گھر بیٹھے تنخواہ ملنا بند ہوگیا ، جب مرضی چھٹی کرنے کی آزادی ختم ہوگئی توصوبائی حکومت کے ایسے اقدامات کے خلاف یہ مخصوص طبقہ بھڑک اُٹھا ،اب تک نازونعم میں پلنے والوں کو کیا گُمان تھا کہ وقت ایسی بھی کروٹ بدلے گی ۔ یہان اس بات کی وضاحت بھی کردوں کہ چونکہ سکولوں میں حد درجہ محنتی اور اپنے کام سے کام رکھنے والے ایماندار اساتذہ بھی موجود ہیں جن کی محنت اور اپنے پیشے سے انصاف کی بدولت ان  کے سکولون کی کارکردگی دیگر سکولوں کے مقابلے بہتر ہےاور یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہر سال ان قابل اور ایماندار اساتذہ کی بدولت طلباوطالبات بہترین پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہوجاتے ہوجاتے ہیں  مگر ان سکولوں اور دفترات میں اکثر سرکار کے ایسے لاڈلے ہیں جن پر صوبے کے تعلیم کے نام پر کئے جانے والے اقدامات بہت ہی گران گزرے اور اسی وجہ سے یہ طبقہ نواز شریف اور اس کے خاندان سے بھی زیادہ عمران خان اور اس کی صوبائی ٓحکومت کا مخالف ہے ، سرکار کے یہ لاڈلے چونکہ اپنے اولاد سرکاری سکولوں میں داخل نہیں کرواتے ، اپنے بچوں کو سرکار کے بھاری بھر کم تنخواہ کی بدولت بڑے بڑے پرائیوٹ سکولوں میں داخلہ کرواتے ہیں اور چونکہ سرکاری سکولوں میں غریب کے بچے ،بچیان پڑھتے ہیں اس لئے ان کو پڑھانا یا نہ پڑھانا ان کی نظرمیں ایک ہی بات ہے کیونکہ سکول سرکار کا ہے اور اب تک سرکار اپنے ان لاڈلوں سے پوچھتا ہی کہاں تھا ، سرکار کے یہ لاڈلے اب پریشان ہیں کہ کہیں این۔ٹی۔ایس۔کے زریعے ان کی قابلیت کا پول نہ کُھل جائے اس لئے صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسوں کی مخالفت میں پیش پیش ہیں ، این۔ٹی۔ایس۔کے زریعے نئے اساتذہ کی امد کے ساتھ ساتھ ان کو یہ پریشانی بھی لاحق ہے کہ کہیں انہیں ایسے ہی فارغ نہ کردیا جائے اس لئے یہ دن رات عمران ، پرویز خٹک اور دیگر صوبائی حکومتی زمہ داران کو گالیان دینے میں مصروف ہیں، این۔ٹی۔ایس۔سے کوالیفائیڈ  ایک استاذ کے مطابق یہ نئے اساتذہ کے تھوڑے بہتر کام کو پسند نہیں کرتے، کہتے ہیں کب تک ایسا کرو گے ، چھوڑئے یہ سرکاری سکول ہے یہاں ایسا ہی چلتا ہے ، ان کے مطابق ان کا سب سے بڑا دشمن خان صاحب کی تبدیلی ہے جس کی بدولت ان کی راتوں کی نیند اور دن کا چین غائب ہوگیا ہے ، ان کے مطابق تبدیلی کے اس نعرے نے ان کا جو حشر کیا ہے وہ بیان سے باہر ہے ان کی نظر میں سکولوں کی مانیڑنگ سے بن بلائے مہمان وارد ہوتے ہیں ، حاضری رجسٹر کی چیکنگ ہوتی ہے ، زیادہ غیرحاضری کی صورت میں تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے جوکہ سراسر ناانصافی ہے ۔ایسا ظلم ان کے مطابق ناقابل برداشت ہے۔ سرکار کے اس فعل سے نالان یہ سرکاری لاڈلےصوبائی حکومت کے جلد رخصت ہونے کی دُہائیوں میں لگے ہیں کہ کب جان ُچھوٹے اِس ظالم حکومت سے ۔ سرکار کے لاڈلے صاحبان کی اس سرگزشت کے بعد اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب کے مطابق اس سال سرکاری سکولوں کی انرولمنٹ بڑھی ہے ہم سب دعاگو ہیں کہ سرکاری سکولون کی حالت زار ٹھیک ہوجائے سرکاری لاڈلے اپنے اپ کو ٹھیک کریں  ، یہ بات الگ ہے کہ نئے اساتذہ کے انے سے سکولون کی حالت پہلے سے بہتر اور کارکردگی روز بروز بہتر ہورہی ہے ،اور اگر پورا نہ سہی اس صوبائی حکومت کی وجہ سے سکولوں میں ، ہسپتالوں میں اور دیگر اداروں میں تھوڑی بہت جو تبدیلی اگئی ہے تو اس کا کریڈیٹ صوبائی حکومت کو جاتا ہے۔ اور اسے اس کام کا کریڈٹ نہ دینا سراسر ناانصافی ہوگی۔بحیثیت عوام  ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر سے بہتر ہو اور ہم سب بحیثیت عوام  ان سے زیادہ سے زیادہ  فائدہ اُٹھائیں اور پرائیوٹ سکولون کے ائے دن بڑھتے ہوئے فیس سے چھٹکارہ پائیں یہ سب اُس وقت ممکن ہے جب سرکاری لاڈلے اپنے پیشے سے انصاف کریں، اپنے اپ کا خود احتساب کریں اور پل پھر کے لئے سوچیں کہ اپنے اولاد کو پرایئوٹ سکول سے معیاری تعلیم تو دے رہا مگر خود اس کے سکول میں پڑھنے والے بچے کو کیا یہ حق نہیں کہ اُسے بھی معیاری تعلیم ملے، اسی خود احتسابی کے پیش نظر اپنے بچوں سمیت قوم کے دیگر بچوں کو معیاری تعلیم دینے میں اپنا فرض ادا کرین یاد رہے کہ استاذ کا پیشہ دنیا کا سب زیادہ معزز ترین پیشہ ہے اور اس پیشے سے انصاف سے ہی ہم اپنے معاشرے کو صحیح معنوں میں ایک بہترین تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ بناسکتے ہیں اور اسی میں ہی ہماری کامیابی مضمر ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

دروش کو تحصیل کا درجہ دینے پر آل فلائنگ کوچ ڈرائیور ایسوسی ایشن چترال کا خیبر پختونخوا صوبائی حکومت اور وزیر اعلی پرویز خٹک کا شکریہ

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) آل فلائنگ کوچ ڈرائیور ایسوسی ایشن چترال خیبر پختونخوا نے ...

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔