ڈی پی او پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اورقطعی طور پر بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔کالاش اور مسلم کمیونٹی کے عمائیدیں کی پریس کانفرنس – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | ڈی پی او پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اورقطعی طور پر بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔کالاش اور مسلم کمیونٹی کے عمائیدیں کی پریس کانفرنس
Premier Chitrali Woolen Products

ڈی پی او پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اورقطعی طور پر بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔کالاش اور مسلم کمیونٹی کے عمائیدیں کی پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) کالاش ویلی بمبوریت اور رمبور سے تعلق رکھنے والے کالاش اور مسلم کمیونٹی کے عمائیدیں غازی خان، شیر احمد، سفیر احمد، کمال الدین، سردار ولی ، سلیم زار ، عبدالرحمن، گل رخ ، شازیہ، فاطمہ ،کنسیہ، کانک ، رنگالی، نورشاہ ایران، بلاور جان، مشار خان، سکبار خان، ورمچ خان ، قاری نذیر، مطیع الرحمن، عمادالدین، محمد نائب اور جاوید کریم نے جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہزادہ مقصود الملک کے ساتھ مقامی جنگل کے تنازعے میں پولیس پر جانبداری کا الزام لگانے والے پڑاواندہ کے نام نہاد کالاش نمائندے دراصل ٹمبر مافیا کے کرتا دھرتا ہیں اور اپنی ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کالاش اقلیتوں کانام استعمال کررہے ہیں اور ہجرت کا ڈھونگ رچاکر بلیک میل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت میں یہ لوگ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پولیس کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں جوکہ عدالتی احکامات کی بجااوری سے ذیادہ کچھ نہیں کررہے ہیں اور ڈی پی او پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اورقطعی طور پر بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس پر الزام لگانے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جوکہ متنازعہ جنگل کی رائلٹی کے غبن میں گرفتار بھی ہوچکے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی پی او چترال کالاش وادی میں امن وامان کو بہتربنانے میں موجودہ ڈی پی او کا کردار بہت ہی اہم ہے اور ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پڑاواندہ سے تعلق رکھنے والے اصل کالاش بھی نہیں بلکہ ان کے آباو اجداد گلگت سے یہاں منتقل ہوئے ہیں جبکہ ہم بمبوریت اور رمبور کے اصل باشندے ہیں۔ا نہوں نے پولیس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اگر پولیس جنگل کی کٹائی کو نہ روکتے تو یہاں خونریزی کا خطرہ تھا جوکہ پولیس کی کاروائی کی وجہ سے ٹل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے بھی جنگل کی کٹائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردی ہے جس پر پولیس عملدرامد کرارہی ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر میں عوامی شکایات کی فوری ازالے کے لئے قائم کردہ کمپلنٹ ریڈرسل (سی آر سی ) کا افتتاح

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید مظہر الاسلام شاہ نے ڈپٹی کمشنر چترال ...