سیرت در یتیم صلی اللہ علیہ وسلم – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | سیرت در یتیم صلی اللہ علیہ وسلم
Premier Chitrali Woolen Products

سیرت در یتیم صلی اللہ علیہ وسلم

                                                تحریر : ضیاء اللہ الجوہری

ہر سال ماہ ربیع الاول کے آغاز سے ہی دنیا اس عظیم تاریخ کی یاد دلاتی ہے جس نے کائنات کی دھرتی  پر حقیقی انقلاب برپاکیا تھا ۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اس مہینے میں عدم سے وجود کائنات میں جلوہ افروز ہوئی ۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل اور بعد کےحالات کے  تجزیے کسی بھی شعبہ زندگی سے متعلق ہوں یکسر مختلف رخ پہ بیان  کیے جاتے ہیں ۔ شمع رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدایت کی پرنور کرنوں کے ظہور سے قبل جہاں معاشرہ مذہبی لحاظ سے پسماندگی کا شکار تھا تو دوسری جانب عام معاشرتی زندگی میں انسانیت اپنی وقار کھو کر درندگی کی کھال اوڑ رکھی تھی  ۔ ظلم و بربریت کی ایسی انسانیت سوز داستانیں موجود ہیں جن کے تذکرے سے آج بھی قرطاس وکا غذ شرما جاتے ہیں ۔ ننھے پھول کلیو ں جیسی اپنے ہی لخت جگر کو اپنے ہی ہا تھوں سے  ان کی چیخ وپکار کے ساتھ درگور کرنا  ان سخت جان اور سنگ دل  لوگو ں کے لیے   غیرت کی علامت تھی ۔ معمولی سی باتوں پر دشمنی پر اتر آتے اور خاندانوں کے خاندان اجاڑ دیے جاتے تھے ۔ غرض آسمان  دنیا نے ایسی کارستانیں دیکھیں کہ شاید تاریخ پر کبھی ایسا دور گزراہو۔

ا ن گھٹاٹوپ اندھیریوں میں زمانہ کسی ایسے اجالےکا شدت سے منتظر تھاکہ جس کی روشن شعاوں میں انسانیت کے بینا اندھوں کو ہاتھ تھام کر راہ راست پر لایا جا سکتا ۔ چنانچہ عبداللہ کی دہلیز پر آمنہ کے آنگن میں بطحاء کے افق پر  رشدو ہدایت کا وہ آفتاب عالم تاب  طلوع ہوا جس سے  ظلمت و جبلت کی تاریکیاں چھٹ   گئیں  ۔کفرو شرک کے ایوانوں پر لررزہ طاری ہوا  ۔گمراہی کے  ظلمت کدوں پر رشدو ہدایت کے چشمے پھوٹ پڑے ۔ ظلم وبربریت  کی وادیاں امن و محبت کی خوشبوو ں سے معطر ہوئیں ۔ کھوپڑیوں پر شراب کو ترستے لوگ  ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے لگے ۔ لات و عزی کے پجاری توحید کے پرستار اور رسالت کے سپاہی بن گئے ۔

اس عظیم انقلاب کے محرکات پر غور کرتے ہوئے حضور مبارک  صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ  سے  یہ سبق حاصل ہوتا ہے  کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم   کی شریفانہ طبیعت اور کریمانہ اخلاق نے سخت دلوں کو موم بنایا ۔ انسانیت کے قلوب میں الفت و محبت کے بیج بو دیے ۔ یہی وہ اکسیر چیز تھی جس نے بگڑے معاشرے کی ہر ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔ پیغمر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حسن اخلاق اور اخوت و محبت بھری  چالیس سالہ زندگی نے  انسانیت کو قعر مذلت سے آٹھا کر اوج کما ل پر بٹھادیا۔ یہی کریمانہ اخلاق اور محبت و حمیت کا سلوک تھا جہاں اعلان نبوت کے ساتھ  ہی صدیق کی صداقت للکار اٹھی ، فاروق کی عدالت نے اسلام کا علم بلند کیا ، عثمان غنی ذوالنورین بنے اور  علی شیر خدا  حیدر کرار کا لقب پایا  ۔

در یتیم اور نبی مہربان  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ا علی اخلاق اور رحمت وشفقت کا ابر کرم معاشرے کے ہر فرد  پر سایہ فگن تھا ۔ ضرورت مند ، معذور ، مسکین اور یتیم  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی شفقت اور مہربانی کی بارشوں سے ہر دم سیراب ہوتے رہے ۔ حزن وملال  میں مضطرب افرا د اور غم والم میں پسے تھکے ماندے لوگ اس چادر رحمت کے نیچے سکھ کا سانس لیتے تھے ۔ اس صادق و امین نے اپنوں کے ساتھ غیروں کو بھی عالی اخلاق کا گرویدہ بنایا ۔  بڑوں کی عزت اور بچوں پر شفقت  میں پیغمبر اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم    کا کوئی ثانی نہیں ۔ بیواوں کی تمام ضروریات کا خیال کرتے ۔یتیموں کے ساتھ  محبت اور حسن سلوک کا اس دریتیم  صلی اللہ علیہ وسلم نے لازوال مثال قائم کیا ۔ اپنی دست شفقت ان کے لیے دراز کی ۔ ایک جنگ سے واپسی کے موقع پر بچے اپنی والدین کی واپسی پر استقبال کر رہے تھے سارے بچے اپنے والدین کو لیے گھروں کو چل دیے ۔ ایک بچہ یوں ہی راہ تکتا  رہ گیا رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم تھا  کہ اس بچے کے والد شہید ہو چکے ہیں  ۔ بچہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کی واپسی کا پوچھتا رہا  جس پر نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے  اس معصوم یتیم  کو اپنی گود میں لیا،  پیار کیا اور زبان رسالت نے ارشاد فرمایا کہ بیٹا کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمھارا باپ ہو اور عائشہ رضی اللہ عنہا تیری ماں بنے ۔ کہا راضی ہوں یا رسول اللہ ۔

          رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق سیرۃ طیبہ کا وہ درخشان باب ہے جس پر  عمل پیرا ہو کر آج بھی امت مسلمہ اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کر سکتا ہے ۔ کریمانہ اخلاق ، شفقت و محبت اور اخوت و حمیت وہ اعلی صفات ہیں جو بلا تفریق رنگ و نسل بلا تفریق مسلک و مذہب صرف انسانیت کی بنیاد پر انسان کو انسان سے محبت کا درس دیتے ہیں ۔ آج جو چیز ہمارے معاشرے میں عنقا معلوم  ہوتی ہے وہ حسن اخلاق کا فقدان ، الفت و محبت  اور شفقت و شرافت کی کمی ہے ۔  تمام اخلاقی برائیاں معاشرے میں سرایت کر چکی ہیں ۔ حسد ، بغض  ، کینہ ،چغل خوری ، غیبت ، بہتان تراشی ، ہتک عزتی اور کئی دوسری برائیاں   اخلاقی  تنزل کے بہتے  ہوئے وہ سمندر ہیں جس میں ہم سب غوطہ زن ہیں ۔ ستم ظریفی یہ کہ کسی بھی اخلاقی برائی کو گناہ تصور تک  نہیں کیا جاتا ۔

ماہ ربیع الاول محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے یہ درس دیتا ہے کہ جس طرح اس اندھیر نگر میں نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا  اپنی وجود مسعود  کے ظہور کے ساتھ مسیحا بن کر معاشرے کا یا پلٹ دیے  آ ج ہم محمدی تعلیمات کو روشنی میں حسن اخلاق اپناتے ہوئے ذاتی زندگی سے لے کر معاشرتی زندگیوں تک کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا عہد کریں ۔

اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

سوشل میڈیا میں غیر ذمہ دارانہ مواد چلانے پرجائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل،پیر کے روز چترال میں مکمل شٹرڈوان ہڑتال

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان کی چترال آمد کے موقع ...