اتمامِ نور۔۔۔ – Chitral Express

صفحہ اول | مضامین | بہرام علی | اتمامِ نور۔۔۔
Premier Chitrali Woolen Products

اتمامِ نور۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ تحریر : بہرام علی شاہ۔۔ کراچی
نورِ خدا ہے کفر کے حرکتوں پہ خندہ ذن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے
ہر چند کہ اقبال کے اس شعر کا اطلاق مسلمانوں کی جانب سے غیر مسلموں پر ہوتا رہتا ہے اور قرآنی آیت کی تفسیر کے طور پرخود مسلمان بھی آپس میں مسلکی بنیادوں پر اپنے صحت کو ثابت کرنے کے لیے مخالف پر بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ انسان جب عقل و شعور رکھتا ہے تو وہ یہ سوچنے کی جسارت کرتا ہے کہ کافر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ اللہ کے نور کو پھونکوں سے کس طرح بجھا سکتا ہے ؟؟
مسلم مفکریں کے نزدیک قرآن کی اس آیت کا اطلاق پیغمبروں پر ہوسکتا ہے جو کہ اپنے اپنے ادوار میں نورِ مجسم ہوا کرتے ہیں اور کافر اپنی کارستانیوں سے ان کو تکلیف پہنچاتے تھے اور حق کی تبلیغ میں رکاوٹ ڈالتے تھے۔ یہاں ایک امکانی سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی پیغمبروں کو نورِ مجسم بنانے کے بعد انھیں تبلیغ پر مقرر کرکے کیوں کفار کی کارستانیوں کا شکار ہونے دیتے تھے ؟؟ انبیاء جو نورِ مجسم بن چکے تھے تو دوسرے انسانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جو نصاب ان کو مہیا کرتے تھے اس میں خدا اپنے نور کو تمام کرنے ( ۹:۳۲ ، ۶۱: ۸ ) اور بلا آخر زمین پر روشن ہونے( ۳۹ : ۶۹ ) کی تعلیم دینے کی تلقیں کیوں کرتے تھے ؟؟ یہ اور اس طرح کے دیگر امکانی سوالات مل کر انسانی عقل کو آسمانی صحیفوں پر غور و فکر کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ شاید یہی سب سے بڑا معجزہ ہے کہ انسان جیسے اورجس طرح سے چاہے اپنے دور کے عقلی تقاضوں کے مطابق قرآن مجید اور دوسرے صحیفوں سے رجوع کر سکتا ہے۔ قر آن مجید کے علمی معجزات تہ در تہ ہونے کی وجہ سے ہر زی عقول کو تعلیم و تربیت کے تدریجی بنیاد پر تشنگی فراہم کرتے ہیں ۔ عام طور پر انسان کتبِ سماوی کے حکمتوں کو سمجھنے سے نہ صرف قاصر رہتا ہے بلکہ حکماء کے اقوال و افکار کو بھی اپنی عقلِ جزوی کے مطابق پرکھ کر معنی اخذ کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان قوم کی رسوائی کا سبب تارکِ حکمتِ قرآن ہونا ہے ورنہ قرآن خوانی اپنے تمام سخن کے ساتھ جاری و ساری ہے۔معلوم ہو جاتا ہے کہ کتب سماوی کے بہت سارے حکمتوں میں سے سب سے بڑی اور اہم حکمت فطری تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت سے حضرتِ انسان کے اندر نور کی چنگاری کو ترقی دینا ہے۔ انسان کے اندر شیطانی خصلتیں کفرو نا فرمانی کی علامتیں ہیں اور ان کو اپنانا گویا اپنے اندر شرّارۂ نورِ الہی کو بجھانا ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآنی تعلیم و تربیت سے رحمانی خصلتوں سے بہرہ ور ہونا اپنے اندر نور کی چنگاری کو زندہ رکھنا ہے۔ جس کے نتیجے میں قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں، انفرادی طور پر انسانی نفوس میں اور تعلیم و تربیت سے اجتماعی طور پر پوری عالمِ انسانیت میں نورِ خدا تمام اور روشن ہو جانا ہے۔ یہاں ایک اور سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ نورِ خدا چونکہ کامل ہے اور اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ، تو مکمل ہو نا کن معنوں میں درست ہو سکتا ہے؟؟ مسلم مفکریں کے نزدیک اللہ نہ صرف کامل ہے بلکہ مُکمِّل بھی ہے ۔ یعنی وہ پہلے انبیا ء و اولیا ء کو کامل بناتا ہے پھر ان کی تعلیم و تربیت سے انسان کی روحانی، عقلی، اور نورانی پرورش کرتا رہتا ہے۔ جس کے لیے انسان کی ا طاعت و فرمانبرداری بنیادی شرط ہے اور انکار و نافرمانی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ حکماء دین کے نزدیک تعلیم و تربیت کی خاطر شریعت کے، بھی زمانے کی مناسبت سے، دو پہلو ہوتے ہیں۔ شریعتِ وضعی جو ہر پیغمبر کی دور کے اختتام اور نئی شریعت آنے پر منسوخ کی جاتی ہے اور دوسرا عقلی شریعت جو ہر ادوار میں یکسان رہتا ہے۔ جیسے توحیداور شرک، اچھائی اور برائی، حق و باطل میں تمیز اور بھی بہت سارے امر و نہی جو انسانی عقل کے نزدیک پسندیدہ یا نا پسندیدہ ہیں ،عقلی شریعت کے مطابق تمام ادیانِ عالم میں پسندیدہ یا ناپسندیدہ تصور کئے جاتے ہیں ۔شریعتِ وضعی کے اوضاع کو برپا کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ تدریجی تعلیم و تربیت کے زریعے حضرتِ انسان رحمانی خصلتوں سے بہرہ ور ہو جائے۔ سر سید احمد خان کے نزدیک ’’ قدرت کے کام اور کلام میں کوئی تضاد نہیں ہے‘‘ اور اقبال کے نزدیک ’’ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ ، معلوم ہو جاتا ہے کہ کلام اللہ کی تعلیم جدید انسانی فطری تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ قرآنی آیات ، شریعت کے ارکان اور مسلم مفکریں کے اقوال سے اخذ کردہ معنی و مطالب کو حتمی تصور کرنا انسانی عقول کو عاجز کرنا ہے۔ او ر ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کے سلسلے کو جدید اور موثر بنا کر ہم سب اپنے اپنے ادوارمیں رحمانی خصلتوں سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے اور عالی ہمتی اور رحمانی خصلتوں سے نوازے تاکہ ہم اپنے اندر شرّارۂ نورِ الہی کو روشن کرکے ’’ آسمانوں او رزمیں کے نور‘‘ کے ساتھ تعلق پیدا کر سکیں۔ ( آمین)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

سوشل میڈیا میں غیر ذمہ دارانہ مواد چلانے پرجائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل،پیر کے روز چترال میں مکمل شٹرڈوان ہڑتال

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان کی چترال آمد کے موقع ...