تازہ ترین

افغان طلباء و طالبات سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پریزنر ایڈ (SHARP) چترال کے زیر انتظام ایک روزہ سمینار کا انعقاد 

چترال ( محکم الدین ) چترال میں افغان طلبہ کے نمایندگی کرتے ہوئے چترال یونیورسٹی کے ماسٹر ڈگری ہولڈر ذبیح اللہ نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کیلئے پاکستان میں زیر تعلیم طلبہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی بھر پور مدد کی ہے خصوصاً انہوں نے چترال میں اپنے قیام کے دوران کبھی بھی خود کو مہاجر محسوس نہیں کیا ۔ اور تمام سہولیات کے حصول میں اُنہیں پاکستانی شہریوں سے زیادہ مدد اور تعاون فراہم کی گئی ۔جس کے لئے وہ حکومت پاکستان اور چترال کے عوام کے مشکور ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پریزنر ایڈ (SHARP) چترال کے زیر انتظام مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک روزہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں بڑی تعداد میں افغان طلباء و طالبات نے شرکت کی ۔سمینارکے مہمان خصوصی معروف قانون دان خیبر پختونخوا بار کونسل کے ممبر عبدالولی ایڈوکیٹ کے تھے ۔جبکہ دیگر مہمانوں میں رفیوجز ویلج ایڈ منسٹریٹر حبیب اللہ خان ، چیر مین ہیو من رائٹس نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ ، سلطانہ تبسم آئی سی ایم سی وغیرہ شامل تھیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے لوگوں نے مہاجرین کو بہت محبت دی ، تعلیم سے لے کر روزگار تک کے مواقع مہیا کئے گئے ۔ا نہوں نے کہا افغان مہاجرین کی کوشش ہے ۔ کہ اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دیں ۔ تاکہ پڑھ کر یہ طلباء مستقبل میں جنگ وجدل اور فسادات سے خود کو دور رکھ سکیں ۔ لیکن بد قسمتی سے بعض مالی مجبوریوں کی بنا پر افغان طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہیں ۔ جن کی مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے شارپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مہاجرین کے حقو ق و فرائض کی نشاندہی اور بعض قانونی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کو قابل تعریف قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس قسم کے سمینار آیندہ بھی ہونے چاہیءں ۔ قابل ازین شارپ کے ٹیم لیڈر قاضی سجاد ایڈوکیٹ نے شارپ کے قیام کے مقاصد ،افغان مہاجرین کے بین الاقوامی متعین حقوق اور فرائض پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا ۔ کہ پاکستان میں مہاجرین کی تیسری نسل پل رہی ہے ۔ اور ان کے پاس PORپروف آف رجسٹریشن کارڈ کا ہونا آشد ضروری ہے ۔ اور چترال میں تقریباً بارہ ہزار مہاجرین رہائش پذیر ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ شارپ اُن تمام مہاجرین کو قانونی اور اخلاقی سپورٹ مہیا کر رہا ہے ۔ جو کسی نہ کسی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوں ۔ اس موقع پر سمینار میں موجود مہاجر طلبہ کی طرف سے یونیورسٹیز اور کالجوں میں داخلے کے حوالے سے مسائل سے آگاہ کیا گیا ۔ جس پر شارپ کے ٹیم لیڈر قاضی سجاد نے بتایا ۔ کہ داخلے کے یہ مسائل افغان کمشنریٹ کی طرف سے بعض پابندیوں کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال یونیورسٹی اسٹبلشٹ ہونے کے بعد یہاں مہاجر طلبہ کو وہ مسائل درپیش نہیں ہوں گے ۔ جو پشاور یا دیگر یونیورسٹیوں میں درپیش ہیں ۔ اور اس حوالے سے پی ڈی یونیورسٹی سے بات کی گئی ہے ۔ سمینار میں نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے انسانی حقوق کے حوالے سے پریزنٹیشن دی ۔ اور کہا ۔ کہ اقوام متحدہ کا چارٹر آف انسانی حقوق در اصل حجتہ الوداع کے موقع پر نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبے کی تفصیل ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آج بعض افراد انسانی حقوق کو مغرب کی طرف سے ایک سازش قرار دے رہے ہیں ۔ جوکہ نا قابل فہم ہے ۔ سمینار کے مہمان خصوصی عبد الولی ایڈوکیٹ نے کہا ۔ کہ افغانستان میں امن کو بد آمنی میں تبدیل کرنے کے ذمہ دار مسلمان خود ہیں ۔ اسلام میں بد آمنی پھیلانا کفر سے بھی زیادہ جرم ہے ۔ ہم گلے کاٹتے ہیں ، ایک دوسرے کو ذبح کرتے ہیں ۔ یہ کسی مہذب اور اسلام سے بہراور انسان کا کام نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ معاشرے میں انصاف تب ہی آسکتی ہے ۔ جب لوگ اپنے حقوق اور فرائض کے بارے میں علم رکھنے کے ساتھ عمل کرتے ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ افغان طلبہ افغانستان کے سفیر ہیں ، لیکن افغانستان میں انڈیا کے لئے نعرے بلند کرنا دین سے بیگانگی کی دلیل ہے ۔ سمینار کے اختتام پر شرکاء طلبہ میں سرٹفیکیٹ تقسیم کئے گئے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق