تازہ ترینشیر جہان ساحل

گولین گول کا میگا پروجیکٹ بھی ناکامی سے دو چار ، آخر وجہ کیا ہے

چترال سے ۴۵ کلومیٹر کے فاصلے پر بننے والے گولین گول ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا باقاعدہ آغاز جنوری ۲۰۱۱ ء میں ہوا تھا اور جنوری ۲۰۱۷ ء کو افتتاح ہونا تھا۔ یہ پروجیکٹ اہالیان چترال کے لئے امید کی ایک کرن بن گئی تھی اور اہالیان چترال اس امید سے تھے کہ اب ان کی زندگیوں میں ظاہری روشنی کا جو دیرینہ مسلۂ تھا ہمیشہ کیلئے حل ہو جائے گی۔ اس سے پہلے ایک این جی او کی  طرف سے دو میگاواٹ کا لولی پوپ دیا گیا تھا جو چترال ٹاون کیلئے امید سے زیادہ پریشانی کا باعث بنا۔ اس کی تفصیل ایک الگ داستان بن جائیں گے پھر کبھی صحیح۔ اہالیان چترال کی امیدیں اس وقت پھر سے زندہ ہو گئیں جب یہ اعلان کیا گیا کہ ۱۳ جنوری کو وزیراعظم پاکستان چترال تشریف لائیں گے اور گولین گول پاور ہاؤس کا افتتاح کریں گے ۔ یہ خبر اہلیان چترال کے لئے سب سے بڑی خبر تھی کیونکہ چترال ٹاون میں برقی مسائل پہلے سے موجود تھے مگر ۲۰۱۵ کی تباہ کن سیلاب سے ان مسائل میں دس گنا اضافہ ہوا تھا۔ اور اسطرح کے مسائل سے نجات یقیناً ایک اہم تبدیلی ثابت ہوتی۔ مگر کیا جائے کہ ہماری قسمت کچھ یوں سو گئی ہے کہ جاگنے کا نام نہیں لیتی ۔ ہوا یوں کہ وزیر اعظم کا دورہ جب کنفرم ہوا تو گولین گول پروجیکٹ انتظامیہ چیک کرنے واسطے چالو کیا تو پتہ چلا کہ ٹنل کے اندر “جو کہ تین سو چونسٹھ (364) جوائنٹ پر مشتمل ہے” کئی جگوں سے پانی لیک ہو رہی ہے اور ٹینکی سے بھی پانی ٹپک رہی ہے مگر پھر بھی پروجیکٹ انتظامیہ رسک لیکر چلانا چاہتی تھی مگر واپڈا نے جرمنی سے دوسرا انجینئر بلوایا صرف یہ کنفرم کرنے کے لئے کہ آیا یہ لیکیج کوئی خطرے کی علامت تو نہیں۔ اسطرح جرمن انجینئر نے چیک کرکے دوبارہ مرامت کا کہا اور ہوں وزیراعظم کے دورے کو ملتوی کیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پروجیکٹ جو ایک سو آٹھ ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہو رہی ہے اور یہ رقم سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ، کے۔ایف۔ ڈی اور او۔پی۔ای۔سی، فراہم کر چکے ہیں اور اس پرجیکٹ سے ملکی برقی مسائل کو بھی قابو پانے میں کسی حد تک سہارا ملے گی۔ اور اس پروجیکٹ کی افتتاح کے لئے ملک کا وزیراعظم تشریف لانے والے ہیں۔ مگر اتنے بڑے پروجیکٹ میں اتنی غفلت سمجھ سے بالاتر ہے۔ مگر کچھ بھی ہو ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گا کہ پہلے ہمیں جذباتی کیا جاتا ہے پھر ہمارے جذبات سے کھیلا جارہا ہے جو مایوسی پھیلانے کی ایک اہم وجہ ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق