تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …حاجی عبدالمتین خان مرحوم

چترال اور پشاور کے معروف تاجر حاجی عبدالمتین خان گذشتہ ماہ22دسمبر2017کو89سال کی عمر میں وفات پاگئے۔آپ کی عام شہرت ایک تاجر اور بزنس مین کی تھی مگر میرے لئے آپ اخبار کے قاری،عالمی حالات کے تجزیہ کار،پاکستان کی سیاست اور معیشت کے مبصراور چترال کی معاشی واقتصادی ترقی کے لئے سوچنے والے مفکر تھے۔2010ء میں ان کے پاس تین اخبارات آتے تھے۔2017ء تک ان میں کمی نہیں آئی۔میرے قلم کی لغزشوں کو پکڑتے تھے اور بعض کالموں میں ایک آدھ جملوں کی داد بھی دیتے تھے۔ایک دن میں نے پوچھاآپ کتنے سالوں سے اخبار پڑھتے ہیں؟اُنہوں نے کہا میرا شوق ریڈیو سننا تھا۔1946سے میں ریڈیو سن رہا ہوں۔بی بی سی،وائس آف جرمنی ،آل انڈیاریڈیو،ایران زاہدان،ریڈیوکابل،ریڈیو پاکستان اور پھر آخر میں وائس آف امریکہ بھی سننے لگا۔پہلے ریڈیو کے پروگرام بہت اچھے ہوتے تھے جب سے ٹیلی فون کال کا سلسلہ آیا،ریڈیو پروگراموں کا معیار گرگیا۔معلومات میں بھی کمی آگئی،زبان کی خوبصورتی بھی ختم ہوگئی۔عبداللہ جان معموم،اشفاق احمد،رضا علی عابدی اور شفیع نقی جیسا ایک لفظ بھی اب ریڈیو پر کوئی نہیں بولتا۔اخبارات میں پہلے خبریں ہوتی تھیں،جب ٹیلی وژن آیا تو خبروں کو سلسلہ پُرانا ہوگیا۔ہم صبح 8بجے سے رات 10بجے تک جو خبریں ٹیلی وژن پر سنتے ہیں وہی خبریں اگلی صبح اخبار میں آتی ہیں۔اس لئے اخبار کے ادارتی صفحے اور مذہبی،تعلیمی،سیاسی یا معاشی موضوعات والے رنگین اشاعتوں کے ساتھ ہفتہ وار میگزین کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔میں نے ایک دن اُن سے کہا آپ کو اخبارکا ایڈیٹر یا یونیورسٹی کا پروفیسر ہونا چاہئیے تھا۔اُنہوں نے دکان کے مال کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا میری خواہش تھی کہ میری اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرے بچوں کو میں نے پڑھایا اب پوتوں اور پوتیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے میری تمنا ہے۔ایک دن میں نے پوچھا ریڈیو یا ٹیلی وژن یا اخبار کے لئے آپ کا تفصیلی انٹرویو کیوں نہ لیا جائے؟اُنہوں نے نفی میں سر ہلایا۔اور کہا انٹرویو اُس شخص کa ہونا چاہیئے جس کے پاس کوئی نئی بات ہو،یہ سائنسی ایجادات کا زمانہ ہے۔دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔میرے پاس پُرانے زمانے کی باتیں ہیں،جو سب کے علم میں ہیں۔ایک دن میں نے پوچھا دولت کا راز کیا ہے؟اُس نے کہا’’ایک ایک پائی کی بچت اور کفایت شعاری‘‘ ایک بار میں نے پوچھا تاجر کس طرح منافع کماتا ہے؟اُنہوں نے کہا کامیاب تاجر مال فروخت کرتے وقت منافع نہیں کماتا،مال خریدتے وقت منافع کماتا ہے۔وہ بازار کو دیکھ کر سستے داموں خریدتا ہے اور بازار کے نرخ سے پیسہ،آنہ سستا بیچتا ہے۔اس لئے لوگوں کا رُخ ادھر ہوتا ہے بِکری بڑھ جاتی ہے اور مال میں برکت ہوتی ہے۔میں نے چترال کے مستقبل کے بارے میں پوچھا اُنہوں نے کہا چترال میں بجلی،معدنیات اور باغات کے وسائل ہیں۔چترال کے لوگ پوری دنیا میں شرافت ،سچائی اور دیانت داری کے لئے مشہور ہیں۔گذشتہ چند سالوں میں بجلی پر کام ہوا ہے۔معدنیات کے راستے میں لواری کی رکاوٹ تھی ٹنل بن گیا ہے اب معدنیات کے ذریعے آمدنی آئے گی،باغات کے پُرانے تجربے ناکام ہوچکے ہیں۔ہمارے بازار میں اخروٹ ،خوبانی،شہتوت اور دوسرا میوہ کابل یا گلگت سے آتا ہے۔ہمارا سیب،ناشپاتی تین مہینہ بھی سیزن نہیں دیتا۔کوئیٹہ کا سیب سال بھر آتا ہے۔پشاورتک پہنچتا ہے۔زیتون کا درخت چترال کے لئے بہت موزوں ہے یہاں اگر زیتون کے باغات لگائے گئے تو سارا سال اس کا سیزن چلے گا۔10کنال کے باغ سے ہرسال 50لاکھ روپے کی آمدن ہوگی۔زیتون کا پودا تین سالوں میں پھل دیتا ہے اور100سال تک بلاناغہ پھل آتا ہے۔چترال کا ماحولیاتی نظام اور چترال کی زمین زیتون کے پودوں کے لئے بہت موزوں ہے۔حاجی عبدالمتین کے والد حاجی عبدالمجید خان مرحوم چترال کے متمول تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔حاجی عبدالمتین خان نے کاروبار کو وسعت دی،چوک یادگار پشاور میں چائے کا تھوک کاروباربھی کیا۔چترال کاامن انہیں پسند تھا۔بچوں کی پرورش کے لئے چترال کی پُرامن فضا انہیں بہت پسندتھا۔تعلیم کے ساتھ چترال کے لوگوں کی دلچسپی ان کو اچھی لگتی تھی۔حاجی عبدالمتین خان جیسی شخصیات کے تجربوں سے فائدہ اُٹھانے کا یہاں کوئی دستور نہیں۔کاش ہم بزرگوں کے تجربات سے سبق حاصل کرتے اور اُن کے وسیع تجربوں کی روشنی میں مستقبل کی راہ ہموار کرتے تو ہماری ترقی دوسروں کے لئے مثال بن جاتی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق