تازہ ترین

صوبائی کابینہ کا اجلاس، اپر چترال کو باقاعدہ ضلع بنانے کی منظوری دیدی گئی،حتمی عمل درآمد الیکشن کمیشن کی طرف سےنئی حد بندی پابندی اٹھنے کے بعد ہونے سے مشروط ہوگی

پشاور ( چترال ایکسپریس ) صوبائی کابینہ نے صوبے میں آئمہ مساجد کو ماہانہ 10ہزار وظیفہ دینے کی منظوری دیدی ہے جس پر اگلے ماہ سے باقاعدہ عمل درآمد شروع کر دیا جائیگا۔یہ وظیفہ ان جامع مساجد کے ہراس امام کو دیا جائیگاجو دینی مدارس کے5بورڈز میں سے کسی بورڈ سے سند یافتہ،خیبر پختونخوا کا مستقل باشندہ ہو۔وظیفہ براہ راست امام مسجد کے اکاؤنٹ میں متقل کیا جائیگا۔اس مقصد کیلئے جامع طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے جس کے تحت ہر ضلع کی سطح پر سرکاری کمیٹی تشکیل دی جائیگی۔مساجد میں قائم کمیٹیوں کو بھی مشاور ت میں شامل کیا جائیگا۔امام مسجد کی تبدیلی کی صورت میں مسجد کمیٹی نئے امام کیلئے ضلعی کمیٹی کو سفارشات بھیجے گی۔ منصوبے پرسالانہ3ارب25کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔کابینہ نے 57 پراجیکٹس کے4835ملازمین کو مستقل کرنے کی منظوری بھی دیدی ہے جسے بعد ازاں بل کی صورت میں منظوری کیلئے صوبائی اسمبلی بھجوایا جائیگا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت آج سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ اجلا س میں صوبائی کابینہ نے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں کلاچی اورملاکنڈ ڈویژن میں اپر چترال کو باقاعدہ ضلع بنانے کی منظوری بھی دی۔تاہم اس پر حتمی عمل درآمد الیکشن کمیشن کی طرف نئی حد بندی کے تناظر میں اعلان کردہ حالیہ پابندی اٹھنے کے بعد ہونے سے مشروط ہوگا۔صوبائی کابینہ نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبے کو ملنے والے اختیارت کے تناظر میں تیار کردہ جامع ثقافتی پالیسی کی بھی منظوری دی جس کے تحت علاقائی زبانوں، ادب و ثقافت،کھیلوں،لوک ورثہ کے تحفظ، ثقافتی وفود کے ملکی و غیر ملکی سطح پر تبادلے، علاقائی فنون، دست کاریوں و ہنر مندوں کی حوصلہ افزائی ، این جی اوز کو ریگولیٹ کرنے ودیگر متعلقہ امور کے بطریق احسن انجام دہی کیلئے قواعد و ضوابط مرتب کئے گئے ہیں۔ صوبائی کابینہ نے غیر ممنوعہ بورکے بعض مخصوص لائسنسوں سے متعلق پالیسی کی بھی منظوری دی۔پالیسی کے تحت لائسنس کے اجراء کے نظام کو شفاف بنانے کیلئے ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ’’ڈسٹرکٹ آرمز لائسنس کمیٹی تشکیل دی گئی جو ماہانہ کوٹے کی بنیاد پر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد لائسنس کا اجراء کرے گی۔
صوبائی کابینہ نے کاروباری شراکت داری اور فرمز کی رجسٹریشن سے متعلق قانون ’’پارٹنرشپ رولز مجریہ1932ء‘‘ میں بعض ترامیم کی منظوری بھی دید ی ہے۔ان ترامیم کے ذریعے دیگر چھوٹے چھوٹے امور کے ساتھ ساتھ فرموں کی رجسٹریشن اور دیگر فیسوں کی شرح میں ردوبدل کیا گیا ہے۔
صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی تشکیل نو کی منظوری بھی دیدی ہے۔یہ بھی طے کیا گیا کہ متعلقہ سیکرٹریز اپنے زیر انتظام تمام بورڈز کی کارکردگی رپورٹ کابینہ کو پیش کریں گے۔صوبائی کابینہ نے پبلک پروکیورمنٹ لیگل فریم ورک کو ریگولیٹ کرنے کی منظوری بھی دیدی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ای بڈنگ کے ساتھ ساتھ ای بلنگ اور ای ورک آرڈر کا نظام تمام محکموں میں متعارف کرایا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنائی جا سکے۔
صوبائی کابینہ نے بجٹ سٹریٹیجی پیپر کی منظوری بھی دی۔صوبائی کابینہ نے ایلوپتیھک سسٹم (پریونشن آف مس یوز) آرڈیننس1962ء کے سیکشن۔10 کے تحت ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرزاور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کوبحیثیت انسپکٹرز مقرر کرنے کی منظوری بھی دی تاکہ عطائیت کی حوصلہ شکنی ہو اورصوبے کے عوام کو اضلاع کی سطح پرصحت و علاج کی معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق