چھترارو بِشلی گھر – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | چھترارو بِشلی گھر
Premier Chitrali Woolen Products

چھترارو بِشلی گھر

بچپن کے بھولی بسری یادون میں مشہور مزاحیہ گیت کے کچھ بول اب بھی یاد ہیں جسے مرحوم مبارک خان مبارک نے لٹکوہ کے بجلی گھر کے نام لکھا تھا ،اُس گیت کے شروغ کے مصرعے کچھ یوں تھے،

لٹکوہو یا بشلی گھر ، اُوغ نسو بیر سمندار ، اورئیے اسور بے خبر ۔

 یہ گیت دراصل ہمارے گرم چشمہ میں موجود واپڈا کے بجلی گھر کی دگرگوں حالت زار کے بارے میں تھی جو ائے روز کسی نہ کسی فنی خرابی کے باعث اکثر بند رہتا تھا ،یہ غالبا سن 1980 کی دہائی کی بات ہے ، مبارک مرحوم کا یہ گیت اُس زمانے میں بہت ہی زیادہ مشہور ہُوا اور یہی وجہ تھی کہ ہمارے بزرگ اکثر اُس گانے کو دُہراتے اور ان کی دیکھا دیکھی ہم بھی کنگنانے لگتے ، اور آج بھی اُس کے بول زہیں میں نقش ہیں ۔اُس زمانے میں چترال کے بجلی گھر کی حالت و کارکردگی بہت بہترتھی۔جبکہ لٹکوہ کا بجلی گھر اکثر بیمار رہتا، وقت گزرتا گیا ، حالات پلٹ گئے،جب پن بجلی کے چھوٹے منصوبے آئے۔این جی اوز خصوصا اے۔کے۔ار۔ایس۔پی کے تعاون سے  تحصیل لٹکوہ کے اکثر دہیات میں پن بجلی کے منصوبے لگنے شروغ ہوئے ،سرکار کی طرف سے  تمام دیہات کو بجلی فراہم کرنا تو دور پہلے سے بنائے گئے بجلی گھروں کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی گئی، واپڈا کا پن بجلی گھر مبارک خان صاحب کے گیت کے بعد حرکت میں ضرور آئی مگر وقت پر مرمت نہ ہونے کی وجہ سے روز بروز خراب ہوتا گیا ، پیداواری صلاحیت کم ہوتی گئی اور آج کل مکمل بند پڑا ہے، اے۔کے۔ار۔ایس۔پی۔ کے پن بجلی کے منصوبے جہاں جہاں بنے وہیں عوام کو سستی بجلی فراہم ہونی شروغ ہوگئی اور آج عالم یہ ہے کہ سرکار کے اگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی مدد اپ کے تحت بنے والے ان بجلی گھروں سے لٹکوہ کی وادی بجلی کے نعمت سے مالامال ہے تھوڑی بہت سہی مگر گھر گھر روشن ہے۔ فیس بک پر اپر چترال اور چترال ٹاوں کے لوگون کی بے بسی اور حکومت کی بے حسی پر مجھے آج مرحوم مبارک خان صاحب کا وہ گانا یاد ارہا ، شکر ہے کہ چترال ٹاون کی بجلی سے محرومی  پر اور چترال میں عرصہ دراز سے موجود واپڈا کے واحد بجلی گھر جس کی حالت لٹکوہ کے اُس پرانے بجلی گھر سے بھی بدتر ہے کو دیکھتے ہوئے کسی لٹکوہ والا شاعر نے کوئی گیت نہیں لکھا حالانکہ ہمیں بھی مبارک مرحوم کے اُس گانے کے بدلے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے ایک گانا تو لکھنا چاہئے تھا ،جو کہ ہم سے نہ ہوسکا، مذاق کررہاہوں ایسی کوئی بات نہیں مگر مرحوم مبارک کا وہ گانا آج چترال کے بجلی گھر کی ابتر حالت پر صادق اتی ہے ، اور اُس گانے کا نیا ورژن تو چترال ٹاون کے بجلی گھر پر بننا چاہئے ، پچھلے دس بارہ سالوں سے چترال ٹاوں اور مضافاتی دیہات میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو انتہائی مشکل کا سامنا ہے،ٹاون کے مکینون کے علاوہ مختلف کاروبار سے وابسطہ افراد کی حالت بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ابتر ہے ، سرکار کے وعدے ابھی تک ایفا نہیں ہوئے ، اتنی بڑی آبادی کو کئی سالوں سے بجلی سے محروم رکھنا کہان کا انصاف ہے، ریشن بجلی جیسے بڑے منصوبے کے علاوہ ٹاون کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پچھلے پندرہ سالوں میں چھوٹے پیمانے پر  پن بجلی کے منصوبے کی فراہمی حکومت وقت کی زمہ داری تھی ، ہمارے ہان وافر مقدار میں پانی ہونے کے باوجود ابھی تک ایسے منصوبے پر کام نہ کروانا سرکار کی غفلت نہیں تو اور کیا ہے  ہمارے ایم۔این۔اے۔صاحب اور دیگر پارٹی کے لیڈران  گزشتہ تین سالوں سے فیس بُک پر نئے بجلی کی نوید دینے میں مصروف ہیں مگر عملی طور پر حالات کچھ نہیں بدلے ، لوگ بجلی کے لئے ٹرپ رہے مگر حکومت کئی سالون سے ایمرجنسی بنیاد پر بھی بجلی فراہم کرنے میں اب تک ناکام ہے ۔ ریشن بجلی گھر پر بھی سیاست ہی سیاست ہورہی ، اور ہمارے معزز لیڈران اپنی اپنی سیاست میں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ یہان اس بات کا تذکرہ بھی کرتا چلوں کہ موجودہ صوبالئ حکومت نے سینکڑون پن بجلی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی ہے جس میں سے کئی بجلی گھروں سے بجلی کی ترسیل شروغ ہوچکی،اور بہت سے پراجیکٹس پر کام جاری ہے مگر سوال یہ ہے کہ چترال ٹاون کو اب تک بجلی سے محروم کیوں رکھا گیا۔یہ سرکار والے باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر ایک  محدود وسائل کے حامل  این۔جی۔اوز۔کے مقابلے عوام کو بجلی فراہم کرنے میں ناکامی سرکار کی نااہلی نہیں تو اور کیا ہے۔ آج چترال کے دورافتادہ علاقوں میں اپنی مدد اپ کے تحت بنائے جانے والے منصوبون کی وجہ سے  لوگون کو انتہائی سستے داموں بہترین بجلی دستیاب ہے ،دوسری طرف چترال ٹاون کے عوام  کئی سالوں سے حکومت کے منصوبون کا انتظار کرتے رہے مگر حیف صد حیف کسی نے بھی سنجیدگی سے اس بارے سوچا ہی نہیں ،میں یہاں کوئی سیاسی بات نہیں کررہا بلکہ ایک اکثریتی آبادی والے ٹاون چترال کے لوگوں پر اب تک جو ظلم ہورہا ہے اس پر ہم سب پریشان ہیں کیونکہ ٹاون چترال میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم سب کو تکلیف کا سامنا ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے یہ ظلم جاری و ساری ہے۔  امید ہے کہ  ریشن بجلی گھر سےچترال ٹاون اور مضافاتی علاقوں کو جلد بجلی ملے گی جس سے عوام کی پریشانیوں کا ازالہ ممکن ہوجائیگا۔وگرنہ چترال بجلی گھر کی دگرگون حالت پر ایک ادھ گانا تو بنتا ہی ہے جس کے لئے کسی لٹکوہی شاعر سے بات بھی کی جاسکتی ہے ۔ ۔ ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

قومی بقاء و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کیلئے بد عنوان اشرافیہ کے خلاف ایماندار اور مخلص قیادت کا انتخاب آشد ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک

رسالپور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ قومی بقاء و سلامتی اور ترقی ...