سینیٹر سراج الحق :پشاورمیں اسلامی جمعیت طلبہ کے سٹوڈنٹ ایکسپو2018سے خطاب  – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

سینیٹر سراج الحق :پشاورمیں اسلامی جمعیت طلبہ کے سٹوڈنٹ ایکسپو2018سے خطاب 

پشاور(چترال ایکسپریس)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ٹرمپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ڈالر اپنے پاس رکھیں ،پاکستانی قوم کو امریکی ڈالرزکی ضرورت نہیں،ہماری قوم ایک غیرت مند قوم ہے ،اور غیرت مند قوم اب جاگ چکی ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑاہونا جانتی ہے، ٹرمپ اور اسکے حواریوں کو آقا جاننے والوں کے اب دن گنے جاچکے ہیں۔مشرف سے پائی پائی کا حساب لینگے انکے ہاتھ کے پی کے اور بلوچستان کے شہریوں کے خون سے رنگے ہیں اور اڈیالہ جیل اسکا مقدر ہے،نواز شریف کی نااہلی کے بعد سپریم کورٹ پانامہ کیس پر کیوں خاموش ہوگیاہے،نواز شریف پوچھ رہے ہیں کہ انکو کیوں نکالا گیا تو ہم کہتے ہیں کہ نواز شریف کو روہنگیا ،کشمیر،اور فلسطین کے مسلمانوں سے بے وفائی کرنے پر نکالاگیا ہے،دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے اور میڈیا نے اس گلوبل ویلیج کو کلاس روم میں بدل دیاہے،اب عوام باشعور ہوچکے ہیں مشرق کی خبرلمحوں میں مغرب پہنچ جاتی ہے،ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کے بزدل بھی پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں،ہمارا مقابلہ اسلامی دنیا کی معدنیات پر قبضہ کرنے والی قوتوں اور ریمنڈ ڈیوس اور کلبوشن یادھیوکے آقاؤں سے ہے،پاکستان کے نوجوان ہمارا اثاثہ ہے اور یہی نوجوان اس ملک کو قائد اعظم کی تصور کے مطابق اسلامی پاکستان بنانے کی تحریک میں ہراول دستہ ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور نشترہال میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام شروع ہونے والے سٹوڈنٹ ٹیلنٹ ایکسپو2018 کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے قبل ازیں سٹوڈنٹ ایکسپوکا افتتاح کیا اس موقع پر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان ،سینئرصوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان،اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا کے صوبائی ناظم شاہکار عزیز،ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پشاور حسن بشیر نے بھی خطاب کیا ،امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا کے ذمہ داران کو عظیم الشان سٹوڈنٹ ٹیلنٹ ایکسپو کے انعقاد پر مبارکباد دی ،سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ ہم پاکستان کو قائد کے تصور کے مطابق اسلامی و فلاحی مملکت بنانا چاہتے ہیں اور یہ فلاحی اسلامی مملکت پوری دنیا کیلئے ایک رول ماڈل ہوگا ،سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ یہاں ہر تجربہ کیا گیا ہے اور اب اس ملک کا مقدر اسلامی انقلاب ہے اسلامی نظام کے علاوہ اب دوسرا کوئی ٓپشن نہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے عوام کو مایوس کیا ان حکمرانوں نے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ہر حد پار کردی لیکن آج پوری دنیا اور باالخصوص پاکستانی عوام دیکھ رہے ہیں کہ مغربی آقاؤں کوخوش کرنے کیلئے حکمرانوں نے پاکستانی قوم کوپوری دنیا میں ذلیل و رسوا کردیا ہے انہی حکمرانوں کی وجہ سے ہمارا پاسپورٹ پوری دنیا میں بدنام ہے،انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ بہت جلد اس ملک کو ایک اسلامی وفلاحی ریاست میں تبدیل کرکے پوری دنیا میں ایک باوقار اور طاقتور قوت بنائینگے،انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے حکمرانوں سے مایوس ہوچکے ہیں اور اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے بیت المقدس کے حوالے سے بے غیرتی کا مظاہرہ کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم انڈیا کے قبضے سے کشمیر کو آزاد کرائینگے ،ہم نے ماضی میں بھی انکوعبرتناک شکست سے دوچار کیا اور انشاء اللہ مستقبل میں بھی انکو عبرتناک شکست سے دوچار کرینگے،انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام ادارے قید ہیں اور ان پر جاگیردار ٹولوں کے قبضے ہیں ،کرپٹ سیاسی قیادت پاکستان کیلئے انتہائی خطرناک ہے انہوں نے ہمیشہ پاکستان کاسودا کیا ہے اپنے بنک اکاؤنٹ میں اضافے اور لوٹی ہوئی رقوم بیرونی بنکوں میں جمع کرانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جبکہ انہوں نے غریب عوام کیلئے مشکلات میں اضافہ کیا اور انہیں غربت،بے روازگاری وبدامنی کے تحفے دئے،سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ ہم امیروغریب کا فرق ختم کرینگے،حکومت میں آنے پر ہم تعلیم و علاج اور چھت کی فراہمی جیسی سہولیات عوام کو فراہم کرینگے،ہم وی آئی پی کلچرو عیش و عشرت کاخاتمہ کرکے پیسے عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرینگے ،انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے ساتھی کہتے ہیں کہ آپ یہ اعلانات کرکے پیسے کہاں سے لائنگے تو آج میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں دو دفعہ وزیرخزانہ رہا مجھے پتہ ہے کہ مسئلہ کہاں ہے اور پیسے کیسے آئنگے،صرف چند اداروں میں کرپشن کاخاتمہ ہوجائے تو عوام کو تمام تر سہولیات مل سکتیں ہیں ،لیکن ہمارے حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھریں ہیں انہوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ،انہوں نے کہا کہ ہمارے وزرائے تعلیم کے بیٹے بھی اپنے ملک کے تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھتے،انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں یکساں نظام تعلیم کانظام رائج کرینگے جس کیلئے ہم نے باقاعدہ ہوم ورک کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ
عدالتوں کو سپیڈی ٹرائل کر کے مجرموں کو سزائیں سنانی چاہئیں تاکہ مطلع صاف ہو سکے ۔ سابق وزیراعظم عدالتوں کو پارٹی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عدلیہ پر جو تھوڑ ا بہت اعتماد باقی ہے ، وہ بھی ختم ہو جائے ۔ حکمران کہتے ہیں کہ عوام کو انصاف نہیں مل رہا۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم اور ہسپتالوں میں علاج نہیں لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں کہ غربت ،جہالت ، ناانصافی، بدامنی اور بے روزگاری کے اصل ذمہ داروہ خود ہیں ۔ اگر حکمران رہنے والی پارٹیاں چالیس سال حکمرانی کے باوجود ان مسائل کا رونا رو رہی ہیں تو پھر یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ اصل مجرم وہی ہیں ۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد ملک کو لٹیروں سے نجات دلا کر ایک اسلامی و خوشحال پاکستا ن بنانے کے لیے ہے ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اسے شہادت کا مرتبہ حاصل ہو جائے۔
دریں اثناء تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے قصور میں لرزہ خیز واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بچی کے لرزہ خیز قتل سے ہر آنکھ اشکبار ہے،اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،انہوں نے کہا کہ اس لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوچکی ہے،انسانیت سوز واقعہ سے ملک کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت جلد ازجلد واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے عبرتناک سزا دیں ،
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 70 سال سے ملکی اقتدار پر قابض انگریز کے پروردہ ظالم جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو اپنے جرائم کے لیے ڈھال بنا رکھاہے ۔ چچا ایک پارٹی اور بھتیجا دوسری پارٹی میں ہے،ماموں ایک اور بھانجا
دوسری پارٹی میں بیٹھاہے ۔ اگر دو بھائی ہیں تو وہ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی دو مختلف جماعتوں میں ہیں تاکہ ایک دوسرے کی کرپشن اور جرائم کو تحفظ دیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ اب عوام کو اپنا انتخابی رویہ بدلنا ہوگا ملک مزید ان لٹیروں کی لوٹ مار کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ اقتدار پر قابض کرپٹ ٹولے سے نجات کے لیے عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت استعمال کرنا ہوگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

اظہار تشکر

اظہار تشکر ۔۔ میں اپنی طرف سے اور فرید احمد کے والد اکبر ولی چچا ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔