چترال ٹو اٹک – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | چترال ٹو اٹک
Premier Chitrali Woolen Products

چترال ٹو اٹک

……..تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک shmubashir99@gmail.com

* انتظار بسیار۔
چترال آج نہیں تو کل روشن ہوگا… گیس کا افتتاح ہم بھی دیکھیں گے… وزیر اعظم کا دورہ … نیا ضلع… آئمہ کرام کی تنخواہوں میں اپنے شیرز کے انتظار میں پورے دس دن چھٹیوں کے ضائع ہوگئے ۔ بچے اگر سردیوں میں ’’ ناک میں دم ‘‘ کریں تو ا س کا بہترین علاج مسجد کے کوٹاگئی کے سوا اور کہیں نہیں ۔اس سال اگرچہ سردی کی فروانی تھی مگر بارشیں نہ ہو نے اور اپنے ایک جگری دوست لال آف شیڑایالوجی کے طویل تبلیغی دورے کے باوجود ’’کوٹاگئی ‘‘کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔آخر انتظار بسیار کے بعد ہم نے مسل خان مرحوم کی طرح ’’ پتلون ‘‘ نکلوانے کے احکامات صادر کیے اور سال نو کی صبح… انشا جی اٹھو اب کوچ کرو کی دھن پر بمعہ بال اور بچوں کے نکل پڑے۔
* شریفانہ دعائیں۔
شریف برادران…. کے بارے میں اگر چہ ہمارے قومی اور اسلامی لیول کے مولانا فضل الرحمان جتنے ’’ تحفظات ‘‘ موجود ہیں پھر بھی لواری ٹنلز سے گزرتے ہوئے جو ہم نے سات منٹ میں پار کی ۔دل کے’’آف شور‘‘ گوشوں سے شریفانہ دعائیں نکلیں کہ ۔
؂ یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اگر میاں صاحب گیلانی والا معاملہ کرکے فنڈ روک لیتے تو اس ٹنل کا کیا ہوتا اور ہم مزید کتنے سال اور خوار ہوتے؟
* دربار ایکسائز۔
پاکستان بھر کی رجسٹرڈ گاڑیوں کے ٹیکس قانون اور اصول کے مطابق ہر ضلع میں وصول کی جاسکتی ہیں مگر میری گاڑی کویہ سہولت میسر نہیں جتنی بار ایکسائز آفیس گیا یہی حکم ملا ’’ دربار دیر تمرگرہ‘‘ میں یہ ’’گرہ ‘‘کھولی جاسکتی ہے ہم نے حالات اور وقت کی نازکت کو مدنظر رکھ کے ایک اللہ کے ’’ ولی ‘‘ کا سہارا لیا ۔ دیر میں اگرچہ کام نہ ہوا مگر صاحب بھلے آدمی نکلے چائے کے ساتھ ہمیں تمرگرہ میں حاضری کے سامان فراہم کیے ۔ پہنچے تو ایک نفیس دوست ہمارے منتظر تھے ۔ کام بھی کیا اور طویل سفر کے لیے ڈھیر ساری دعائیں بھی دیں۔ تمر قلعہ میں رات گزارنے کا ہمارا پروگرام تھا ۔ جو کام ہونے کی وجہ سے ہم نے کنسیل کی اور سوات کے لیے روانہ ہوئے۔ تمرگیرہ اور بلمبٹ سے ہمارے سکول کے زمانے کی یادیں وابسطہ ہیں جب 1983 ء میں ہم باجوڑ خار میں علم کی موتیاں گولیوں کی گھن گرج میں چُن لیا کرتے تھے۔

* سوات۔
سوات… کو ایشیاء کا سوسیزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ نے اس سر زمین کوحسن ودلکشی کی نعمت سے مالامال بنا رکھا ہے یہ سرزمین بیک وقت ہزاروں نہیں لاکھوں سیاحوں کو ہنسی خوشی قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو پاکستان کے کسی اور ضلع کے نصیب میں نہیں ۔ 1988 97 ء تک اس دیس کے گوشے گوشے سے ہمارا یارانہ رہا جہانزیب کالج ، سیدو بابا ، کالج کالونی ۔بت کدہ ، ٖفضا گٹ، مرغزار، بحرین و کلام ،ماہ ڈنڈ اوشو بشقار، مالم جبہ ،کبل سواڑی ،پیر بابا۔ماسٹر سوات ، کوثر ، طارق ،امتیاز ، ایوب ، مسعود، خورشید ،مجیب ، میرے والدمرحوم ٖ ،مرحوم ایس پی شریف احمد، مرحوم مسرور و شفق مرحوم میکی اسماعیل جو سوات کے اہم عہدوں پر تعینات تھے ان کے طفیل یہاں کے ریسٹ ہاوسیز ہمارے لیے کھلے ہوتے اور جہانزیب کالج ، ٹکنیکل کالج، پیرا میڈیکل کے چترالی طلبہ کے ایک جم غفیر ہمارے ساتھ ہوتا اور ہم کوہ بیاں اور دریا کنارے پک نک منارہے ہوتے ۔ سوات کے لوگوں اور چترال کے لوگوں میں فقط زبان کا فرق محسوس کرتے باقی سیرسپاٹے ،موسیقی ،فضول خرچی میں انہیں اپنا ہم پلہ تصور کرتے۔ پرانی یادوں کے دریچے کھولتے ہوئے شام مینگورہ میں وارد ہوئے ۔ ہوٹل میں کمرے لیے رات کھانے کے بعد میٹھا لسی جو مینگورہ کی سب سے مشہور مشروپ مانی جاتی ہے کا مزا لینے اسی دوکان پر گئے جہاں بیس سال پہلے پانچ روپے کا پیا کرتے تھے اب 50 روپے فی گلاس چھڑہالیے اور ٹن ہوکے نکلے۔پہلے کی نسبت منگورہ بے ہنگام شہر بن چکا ہے مارکیٹوں اور بازاروں کی سیر کی ۔ہر جاننے والے سے ملنے کو جی چاہ رہا تھا جن میں سوات اور چترال کے احباب شامل تھے مگر ٹائم کی کمی اور لاو لشکر سمیت کسی کے ہاں ’’ یلغار ‘‘ کرنا بھی مناسب نہیں لگ رہا تھا.۔برادر بہار احمد اف برنس جو ایس ار ایس پی سوات میں ہیں فون کیا اور گھر آنے کی دعوت دی ؛لیکن ٹائم کی کمی کے سبب ان سے ملاقات بھی ممکن نہ ہوئی۔ صبح سیدو شریف میں حاضری دی ، عقبہ گئے والیاں سوات کے مقابر اور امتیاز کی والدہ مرحومہ کی قبر پرگئے دعائیں دیں اور رخصت ہوئے ، رائل پلیس، وائٹ پیلس مرغزار ،سیدو۔ مکانباغ، بت کدہ، مینگورہ کی یادوں کو بچوں کے ساتھ شیر کیا اور فضا گٹ کے راستے ، سنگوٹہ ، مینگلور، چار باغ ، گلی باغ، مٹہ کی خوبصورت نظاروں اور سینگڑوں مختلف باغوں کو کمرے کی آنکھوں میں محفوظ کرتے ہوے ’’ خوزہ خیلہ ‘‘ پہنچے ۔بچوں نے کیڈٹ کالج کی خوبصورتی کوبہت پسند کیے اور اسد جو یہاں زیر تعلیم ہے کو بہت یاد کیے۔ یہاں سے دو راستے جدا ہوتے ہیں بائیں طرف مدئن، بحرین، کلام کو اور دائیں شانگلہ ، گلگت ، مانسہرہ کو جاتا ہے اور یہی ہمارا روٹ تھا ۔ راستے کے لیے رک کے فروٹ لیے … کیونکہ قاریں کرام آپ سب کو معلوم ہے ۔’’ میواں موژی فروٹ مہ خوش ‘‘
* شانگلہ۔
آسمانی موڑ میں پہنچے جو ایک خطر ناک موڑ تصور کی جاتی ہے تو اس وقت مجھے یاد آیا جب میرے والد مرحوم کا تبادلہ مینگورہ سے الپوری ہوگیا تو پورے ٹرک میں سامان لوڈ کرکے ہم لوگ سردار میدان قلی بیگ میکی مرحوم کی قیادت میں فیض اللہ ۔ انوار، کوثر، مرحوم مسرور، شفیق، اورمدثر ٹرک کی چھت پہ فوم ڈال کے تکیاں لگا کے میدان کے ہاتھوں میں ستار بجاتے اور گاتے ہوئے شانگلہ ٹاپ کی خوبصورتی کا دیوانہ بن کے الپوری کے ہوگئے تھے۔ آج لک بک 27 سالوں بعد یہ جنگلات اور بھی گھنے اور پیارے لگے ۔ یہ چترال میں ہوتے تو کب ’’ گنجاپٹیل ‘‘ ہو چکے ہوتے روڈ میں بہت بہتری نظر آئی ۔ شانگلہ جو لواری ٹاپ جیسا درہ اس سیزین میں برف سے ڈھکی رہتی ہے اس سال باریشوں کی کمی کے سبب راستے آسان نظر آئے ۔ آرمی والوں نے شانگلہ ٹاپ اور مالم جبہ کو باہم ملا دیا ہے جو سیاحوں کے لیے جو شانگلہ کے راستے سوات آنا چاہیں ایک ٹکٹ میں دو مزئے کا کام دے سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہم لوگ جو تھوڑا عرصہ سخت سردی میں الپوری گزارنے کا تجربہ رکھتے ہیں اس وقت یہ سوات کا سب ڈویژن ہوا کرتا تھا ہمارے ساتھ زرمست علی صاحب اس وقت یہاں کے تحصیل دار ہوا کرتے تھے ۔ لیولنی۔ شاہ پور ، یختنگی ، مارتوگ، پورن ۔ چکیسر، بشام کے سیر سپاٹے اور مچھلیوں کے شکار ہمارے معمولات کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ آج بھی ایک چترالی سپوت ایس پی خالد الپوری میں خدمات انجام دے رہے ہیں دامن وقت کی کوتائی یہاں بھی آڑے آئی ابھی منزل بہت دور ہمارا منتظر تھا ۔ شانگلہ ضلع کی خوبصورتی اور روڈز کی حالت نے سفر کو پر لطف اور آسان بنادیا کوز الپوری ، بیلے بابا ، کروڑہ ،سے ہوتے ہوئے ایک نئے پاور ہاوس میں پہنچے اور ڈیم کی دلکشی کو دیکھ کر بے اختیار سبحان اللہ کے ورد جاری ہوئے۔ مگر اس حسین نظارے کوہمارے کم بخت حالات نے ’’ باجوڑ کے گلنار بی بی ‘‘ کی طرح شیٹل کاک برقے میں چھپا رکھا ہے ۔
بشام کا شہر پہلے کی نسبت بڑا نظر آیا موسم بھی سوات اور الپوری کی نسبت گرم تھا ۔ موسم کے لحاظ میں بشام مالاکنڈ ڈویژن کا گرم ترین مقام مانا جاتا ہے ۔ یہاں شانگلہ کی صاف وشفاف ننی سی دریا کو دریائے اباسین،یعنی دریائے سندھ اپنی باہوں میں لے لیتا ہے اور اس کی اتھاگہرایوں ایسے گہری نیند سو جاتا ہے کہ احساس ہی نہیں کہ یہ بیدار بھی ہے یا نہیں یہاں تک کہ اسے مالاکنڈ ڈویژن کے خاتمے کا سکنل مل جاتا ہے تو یہ بھی ہزارہ ڈویژن میں داخل ہوکے جاگ جاتا ہے۔ بشام میں شاہرہ ریشم جسے شاہرہ دوستی یا شاہرہ قراقرم KKH کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو چین اور پاکستان کی لازوال دوستی کا شہکار رابط سڑک ہے یہاں آکے الپوری روڈ کو گلے لگا کے ہزارہ ڈویژن کی جانب بڑھتا ہے ۔ دریا کنارے ایک ریسٹورنٹ میں ہم کھانے کو روکے زوروں کی بھوک لگی تھی ۔ یہاں خوش ذایقہ چکن کڑھائی کھانے کو ملا کچھ تھکن اُتارنے کا موقع ملا عصر کی نماز یہاں ادا ہوئی اور آدھے گھنٹے بعد چینی یاد گاروں کی سیر اور تھا کوٹ پل کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ہوئے ہزارہ ڈویژن میں داخل ہوئے۔
* بٹ گرام۔
کالج لائف میں جب ہم الپوری میں تھے تو اس وقت شہزادہ عزیز، انور گداز، فیض اللہ بہادر اور میں پہلی بار کالونی سے نکل کر ان دلکش نظاروں کے اسیر ہوکے مختلف لوکل گاڑیوں میں چھڑ چھڑ کے الپوری سے ابیٹ آباد پہنچے تھے اور ہر منظر کی فوٹوگرافی کی لالچ میں میلوں گاڑی گنوا کے پیدل بھی چلتے رہے تھے۔ آج انہیں یادوں کو لادے پر سکون انداز میں ہمارا سفر جاری تھا فرق عمر روان کا اور علاقے کی ترقی اور وسائل کی فروانی کا تھا۔ بٹ گرام کی بل کھاتی سڑکیں کوہ دامن ، وادیاں ، تنگ گھاٹیاں اور جنگلات دل کو مٹھی میں لیے جارہے تھے۔شام گئے بٹ گرام ضلع کو خدا حافظ کہہ کر مانسہرہ میں داخل ہوئے۔

* مانسہرہ۔
مانسہرہ میں میری چھوٹی بہن اور ان کے بچے بچیان ہمارے منتظر تھے ۔اور بچوں میں مختلف مناظر کے فوٹوز کا تبادلہ موبائلی رابطے کے ذریعے جاری رہا ۔ پہلے شنکیاری میں داخل ہوئے یہاں سے ڈوڈیال میں جہاں ہزارہ یونیورسٹی موجود ہے جہاں بہت سے چترالی اسٹوڈنٹس بھی علم کی پیاس بجھانے میں مصروف ہیں ۔ میرا بھانجا اسامہ ابراہیم بھی یہی انجینئرنگ کی تعلیم کے آخری سال میں ہیں ۔ اس کے علاوہ ایشیاء کا سب سے بڑا پرندہ گھر موجود ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں پرندوں کی افزئیش ہوتی ہے ۔قیمتی پرندے اور ان کے انڈے یہاں سے اپریل کے مہینے میں مل سکتے ہیں۔قریب ہی بفا کا علاقہ ہے جو اپنے لذیز اور خوش ذائقہ کھویے کی وجہ سے پاکستان بھر میں مشہور ہے۔ شہر میں داخل ہوئے تو راستے میں بڑے سائز کے موم پھلی ہمارے منتظر تھے جو سائز میں روما ٹماٹر جتنے تھے اور مزیدار بھی۔ لمبی ڈھیری والے راستے میں آئے تو ہما رے انتظار میں طلحہ ،زنیرا، یحییٰ، خدیجہ کھڑے تھے اور تپاک سے ہمیں گھر لے گئے ۔ ہم تھکن سے چور چور تھے اور اس کشادہ اور چڑیا گھر نما گھر میں ایک مکمل دن آرام کے گزارے اور آگے کا پروگرام ترتیب دیتے رہے۔ کویت سے محبوب صاحب وڈیو کال کے زریعے ہمیں زیادہ دن گزارنے اور جلدی نہ کرنے کے مشورے دیتے رہے ۔جو اس سے زیادہ ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔
* کشمیر۔
ایک دن کی مکمل آرام کے بعد شہر کے مختلف مقامات کی سیر کی اور بٹرایسی اور جنگل منگل کے جنگلات میں قدرت کے کمالات اور انمول تخلیق کا تذکرہ کرتے ہوئے بلاکوٹ کو چھوتے ہوئے گھڑی حبیب اللہ پہنچے ۔ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شید کے دستوں کی چھاپ اور جہادی نعرے جب بھی ان علاقوں میں آنا ہوا میں نے محسوس کی ہیں اور ان کے مزار مبارک پر آنسوں کے ساتھ عقیدت کے پھول نیچھاور کرنے کا موقع بھی ملا ہے ۔ اسامہ اور محبوب صاحب کے بچے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ہم لوگ دو گھنٹے بعد کشمیر میں داخل ہوئے تو روڈوں کی صفائی کرتے ہوئے جابجا خاکروب نظر آے۔ مظفر آباد ڈیم نے ہمیں ٹھرنے پر مجبور کیا جو کمی بشام کی ڈیم میں دیوار کی وجہ سے محسوس کی تھی وہ کسر پوری کی جی بھر کے نظارے اور فوٹوگرافیاں ہوئیں۔کشمیر کو اللہ نے واقعی جنت نظیر بنایا ہے۔
؂ ؂ اگر موجود ہے جنت زمین پر یہیں ہے بس یہیں ہے بس یہیں ہے ۔
کا ورد کرتے ہوئے مظفر آباد شہر میں داخل ہو ئے جوبکرا آباد سے چترال ٹاون کے نظارے کی طرح کا منظر پیش کرتا ہے اور اس کا نقشہ گھوڑے کے نعل کی شکل میں دریا بالاکوٹ اور مقبوضہ کشمیر کی دریا نیلم یہاں ملتے ہیں ۔ایک جھلک ایون کا نقشہ بھی پیش کرتا ہے۔اس بار یہاں کا یہ ڈیم اور نیا بنایا گیا کنکریٹ کا لوہے کی رسیوں سے بنا شہکار قسم کا بڑا پل ہمیں اپنی جانب کھنچ رہا تھا دور آزاد کشمیر کی اسمبلی اور وزیراعظم سکرٹریٹ کے خوبصورت عمارتیں نظر آرہیں تھیں۔ ہم نے شہر والاراستہ لیا اور چند منٹ بعد ایک بڑے چوک میں پہنچے۔ تو مجھے 1991 ء کا کالج ٹور یاد آیا جو اسلامی جمعیت طلباء کے 120 اسٹوڈنس جہانزیب کالج کے کررہے تھے جب ہم دو بسوں میں چکوٹی بارڈر جاتے ہوئے یہاں پہنچے تو پہلی بار کشمیری یوم حق خوداردیت منا رہے تھے۔ اور اس چوک میں پروفیسر اشرف صراف اور کمانڈر اسماعیل ڈار کی قیادت میں ریلی نکال کر UN OFFICE جانا چاہ رہے تھے مگر ان کے ساتھ لوگ نہیں تھے اور روڈ ان سے بند نہیں ہو پا رہی تھی۔ ہم لوگ دو لمبی بسوں کو لیکر اس چوک میں پہنچے تو یہ لوگ ہمارے جہادی نعروں اور انڈیا مردہ باد کے نعروں سے امنڈ آئے ہم لوگوں نے دونوں راستوں کو بسوں کے ذریعے بلاک کر دیے اور اُتر کر اس کار خیر میں شامل ہوگئے کالج کے جوشیلے لڑکے اور جہادی ترانے کشمیری کھل اُٹھے اور ایک زبردست قسم کی ریلی ترتیب پائی اور چند کلومیٹر چل کر یو این مبصر کو زور دار یادداشت پیش کیے ۔ اور دو سپاہیوں کو گیٹ مار کے گرا بھی دیے ۔ یہاں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی راٹھور یہاں کے وزیر اعظم تھے۔ جلوس اور ریلی سواتیوں کے ہاتھوں میںآچکی تھی حریت لیڈان ہم لوگوں سے بہت خوش تھے کہ پہلا یوم حق خود ارادیت کا کامیاب انعقاد ہوا۔ پولیس اگرچے کم تھے اور ہم لوگ مقبوضہ کشمیر کو بھی آزاد کرانے کے نعرے لگا رہے تھے۔ آخر ایک اسکوٹر میں ایک کالے سے بندئے حریت لیڈران سے ملنے آئے معلوم ہو ا آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ ہیں طویل مشاورت اور التجا ء کے بعد ہم لوگ تھوڑے سے ہاتھا پائی کے بعد احتجاج ختم کیے اور چکوٹی بارڈر کی جانب چل دیے جہاں سے سری نگر کو راستہ جاتا ہے اور دریا پار انڈین آرمی ہمارے شام کے وقت کے نعروں کے جواب میں گولیوں سے ہمار ا استقبال کیا اور ہم لوگ درختوں ۔ پتھروں اور نہروں میں چپ چھپا کے نکلے ہی تھے کہ پاک آرمی نے آکے ہمیں سہارا دیا مگر ترش انداز میں۔ اس کے بعد 92.93 19ء میں انڈین آرمی کے لیے ’’ لاڈو ‘‘ لے کر یہاں آنے کے مواقع ملے۔ اب جوانی کے ان سنہری یادوں میں کھو کر مظفر آباد کی سیر کر رہے تھے جو دو گھنٹے بھر تک رہا اور گھڑی حبیب اللہ واپس پہنچ کر لیٹ لنچ کیے اور اسی راستے واپس مانسہرہ روانہ ہوئے۔
* ایبٹ آباد۔
ایبٹ آباد میں میجر جاوید ہمارا میزبان تھا اس نے گھر کو بھی چترالی تہذیب و ثقافت کا مرکز بنا رکھا ہے ۔ جمعہ کی نماز پی ایم ائے کی مسجد میں ادا کی ۔ اگرچہ بارش ہورہی تھی پھر بھی ایف ایف رجمنٹ اور بلوچ رجمنٹ اور کچھ اہم مقامات کی سیر کی۔ رات کو سوغات چترال ’’ کڑی ‘‘ سے لطف اندوز ہوئے ۔ پاک آرمی کے کیڈیٹ کے مختلف مراحل اور مشقتوں بھر ے تربیت اور کندن بن کے نکلنے کے منازل ہمارے سامنے تھے۔پاک فوج کی نظم و ضبط اور قربانیوں کو سلوٹ مارتے ہوئے ایک اعزازی عہدہ صوبیدار میجر کا اپنی طرف سے کسی کے نام کیا جاوید اور ان کے ہوم کمانڈر جو میرے بھائی شہزادہ اقبال الملک کی صاحبزدی ہیں سے شکریے کے ساتھ اجازت لی۔ کیونکہ ہمارا یہاں زیادہ ٹھرنا ایبٹ آباد والوں کے لیے سود مند ثابت نہ ہوا رات ایر مارشل اصغر خان کا انتقال ہوا وہ اس علاقے ہی کے نہیں پورے پاکستان کے قابل فخر سرمایہ تھے۔اللہ ان کے درجات بلند فرمائیں۔
* گوردوارہ پنجہ صاحب۔
مدتوں سے پنجہ صاحب حسن ابدال جانے کا پروگرام بنا رہے تھے مگر اس پہ عمل نہیں ہورہا تھا۔ اس بار اس موقع کو گنوانا نہیں چاہ رہا تھا ۔ہری پور ضلع سے نکل کر KPK کو خدا حافظ کہا اور پانچ دریاہوں کی سرزمین پنجاب میں داخل ہوئے تو حسن ابدال ہی ضلع اٹک وہ تحصیل ہے جو آپ کا منتظر ہے خوبصورت علاقہ ہے یہاں گوردواہ پنجہ صاحب کو پوری دنیا میں شہرت حاصل ہے یہاں سیکھوں کا میلہ بھیسکی اپریل کے مہینے میں ہوتا ہے جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے سیکھ یاتری یہاں تشریف لاتے ہیں۔یہاں ایک پتھر میں دائیں ہاتھ کا نشان موجود ہے اور پنجہ صاحب کے نام سے اس کی دیدار کے لیے سیکھ یہاں آتے ہیں ۔ قصہ اس کا یوں ہے کہ ایک ابدال حسن کے نام سے یہاں رہتے تھے اور لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بننے ہوئے تھے اور قریب ہی ایک سیکھ گرو اپنی پوجا پاٹ میں رہا کرتے تھے ایک دن ان دونوں میں ان بن ہوئی تو حسن جلال میںآئے اور پہاڑی پر موجود ایک چٹان کو اشارہ کیا کہ وہ گرو جی اور ان کے چیلوں پر گرے۔ چٹان اپنی جگہ سے نکل کر تیزی سے گرو جی پر گرا مگر گرو جی بھی خالی سیکھ نہ تھے اپنے دائیں ہاتھ کو آگے بڑھایا اور اس چٹان کو ہاتھ سے روکا ۔ اور اس کے ہاتھ کے نشان اس چٹان پر اب بھی موجود ہیں ۔ ایک زبردست قسم کی پرانی عمارت کے اندر جائیں تو ایک بڑا محل نما گوردوارا ہے جس میں سینکڑوں کمرے ہیں اور درمیاں میں خوبصورت تالاب ہیں جس میں ہزاوروں کی تعداد میں مچھلیاں موجود ہیں ۔ سیکھ یاتری ہزاروں کی تعداد میں یہاں کے تالابوں میں ڈبکیاں لگا کے گناہوں سے پاک ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ساتھ حضرت بری امام علیہ رحمہ سے منسوب چلہ خانہ بھی ہے جہاں مسلم زائرین کا جم غفیر موجود رہتا ہے۔ یہاں پشتو زبان نے کام دیکھا دیا گیٹ پر کہہ رہے تھے کہ ہندو اور سیکھ کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں ہے ۔ اوقاف کے ایک پٹھان ملازم کو پشتو فائر کی تو دروازے وا ہوئے اور تصویر کشی کی اجازت بونس میں ملی۔
* اٹک۔
ہر سال سردیاں گزارنے ہم لوگ اٹک آتے ہیں اٹک پنجاب کا سب سے بڑا ضلع ہے رقبے کے لحاظ سے جس کی سرحدیں KPK کوہاٹ، ہری پور ، راولپنڈی سے ملتی ہیں۔ خوبصورت اور زرخیز علاقہ ہے ۔ اگر سیر و سیاحت کا اردہ ہو توایک گھنٹے میں آپ، ایبٹ آباد، تربیلا، خان پور ڈیم، پشاور، اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں ۔خٹک اور پنجابی یہاں آباد ہیں افغان مہاجر بھی یہاں کثیر تعداد میں موجود تھے اب کم نظر آتے ہیں ۔ غرض اٹک ایک پر امن شہر ہے اس کے بارے میں پھر کبھی ۔ دو بجے ہم یہاں گھر پہنچے نظیراللہ اف کجوچترال گھر کے دروازے کھولے ہمارے منتظر تھے۔ یوں ہمارے سفر کا ابتدائی ہفتہ بخیرو عافیت اختتام پذیر ہوا ۔ لینڈکروزر کی گھڑی دیکھی تو اٹھ سو سے زاید کا سفر کرچکے تھے۔ جس پر شکرانے کے نوافل ادا کیے گئے۔
*****

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں
Qashqar Gemstone Testing Lab

یہ خبر بھی پڑھیں

قومی بقاء و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کیلئے بد عنوان اشرافیہ کے خلاف ایماندار اور مخلص قیادت کا انتخاب آشد ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک

رسالپور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ قومی بقاء و سلامتی اور ترقی ...