تازہ ترین

صوبہ خیبرپختو نخوا میں سال 2018کی پہلی انسدادپو لیومہم 15جنوری سے شروع ہورہی ہے۔ 

پشاور ( چترال ایکسپریس )صوبہ خیبرپختو نخوا میں سال 2018کی پہلی انسدادپو لیومہم 15جنوری بروز پیر سے شروع ہو رہی ہے مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمرکے57 لاکھ 16ہزار219بچوں کو پولیو کے قطرے پلا ئے جائیں گے مہم کے لیے تمام ترانتظامات کوحتمی شکل دے دی گئی ہے اس بات کافیصلہ صوبے میں پولیووائرس کی روک تھام کے لیے قائم کر ادارہ ایمرجنسی آپریشن سنٹرکے کوارڈینٹرعاطف رحمان کی زیرصدارت اہم اجلاس میں ہواجس میں ڈائریکٹرای پی آئی ڈاکٹراکرم شاہ،یونیسف کے ٹیم لیڈرڈاکٹرجوہرخان،بی ایم جی ایف کے ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹرامتیازعلی شاہ،ٹیم لیڈرڈبلیوایچ اوڈاکٹرعبدی ناصر،ٹیم لیڈاین سٹاپ ڈاکٹر سعیداعجازعلی شاہ اوردیگرمتعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں جنوری کہ تیسری ہفتے کے آغازمیں شروع ہونیوالی پولیومہم کے لیے مجموعی انتظامات کاجائزہ لیاگیااجلاس کے شرکاء کوپولیومہم کے پلان سے بھی آگاہ کیاگیاجس کے مطابق افغان مہاجرین اور ا ئی ڈی پیز کے 75کیمپوں میں بھی پولیوکے قطرے پلائے جائیں گے تاکہ کوئی بھی افغان مہاجربچہ پولیوکے قطروں سے محروم نہ رہے مہم کے موثرانعقادکے لیے تر بیت یا فتہ ہیلتھ ورکزپر مشتمل 18ہزار656 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں15ہزار940موبائل، 1ہزار544فکسڈ،926ٹرانزٹ،246رومنگ شامل ہیں جن کیلئے 4ہزار153ایریاانچارج مقررکئے گئے ہیں اس کے ساتھ انسدادپولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لئے 32ہزار پولیس اہلکاراور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے سیکورٹی کے فرائض سر انجام دئے جائیں گے اجلاس کے شرکاء نے ایمرجنسی آپریشن سنٹرمیں پولیوکی روک تھام کے لیے تسلسل سے جاری رہنے والے اقدامات کوسراہااورکہاکہ گزشتہ سال خیبرپختونخوا میں پولیوکاصرف ایک کیس رپور ٹ ہواایمرجنسی آپریشن سنٹراسی طرح جانفشانی سے کام کرتارہاتورواں سال صوبہ بھرمیں پولیوکاایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوگااس موقع پراپنے خطاب میں ایمرجنسی آپریشن سنٹرکے کوارڈینٹرعاطف رحمان نے کہاکہ حکومتی مشینری پولیووائرس کی مکمل بیخ کنی کے لیے بھرپورمصروف عمل ہے تمام سٹیک ہولڈرکے باہمی مشاورت سے کامیاب پولیومہم کے انعقادکویقینی بنایاجائیگاانہوں نے امیدظاہرکی کہ سال2018میں موثراقدامات کی بدولت صوبہ کوپولیوفری قراردینے کے لیے جنگی بنیادوں پرموثرحکمت عملی کے تحت کام کیاجائیگا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق