صدا بصحرا………حدود کا اسلامی قانون – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

صدا بصحرا………حدود کا اسلامی قانون

اسلامی فِقہ میں جرم پر سزا دینے کے لئے حدود کے تحت سزائیں مقرر ہیں۔وطن عزیز میں جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا جاتا ہے ۔ مجرموں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ حکومت بھی اعلان کرتی ہے کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ 2018ء کا پہلا واقعہ پنجاب کے شہر قصور میں پیش آیا۔ جہاں زینب نامی 7سالہ بچی کو اغوا کرکے جنسی تشدد کے بعد قتل کردیا گیا۔ اس طرح کے واقعات مانسہرہ ، مردان، ملاکنڈ ، ڈی آئی خان وغیرہ میں بھی ہوئے تھے۔ہر دلخراش واقعے کے بعد سیاسی جماعتیں میدان میںآکر کسی معصوم کی لاش پر سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کرتی ہیں مگر تھوڑے ہی دنوں میں واقعے کو بھلا دیا جاتا ہے۔ حالیہ واقعے کے تناظر میں اخبارات ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے۔ دو باتیں بیحد اہم ہیں پہلی بات یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں مجرموں کو پھانسی دینے میں 3دن سے زیادہ تاخیر نہیں ہوتی۔ 1981ء میں جنرل ضیاء کے حکم سے لاہور ہی میں ایک مجرم کو پھانسی دی گئی تھی اور 3دنوں تک اس کی لاش چوراہے پر بنے ہوئے پھانسی گھاٹ پر لٹکتی رہی۔جنرل ضیاء نے فوجی عدالت کے ذریعے مجرم کو سزا دی تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مجرم ایک شخص نہیں ، دو بندے نہیں ، پورا معاشرہ مجرم ہے۔ ایک لکھاری شیر جہاں ساحل نے اس حوالے سے خوب صورت جملہ لکھا ہے کہ مجرم کو ڈھونڈنے والے تمہیں آئینہ دیکھنا ہوگا۔ آئینے میں ہر ایک کو مجرم نظر آئے گا۔خواجہ میر درد نے کہا تھا
ہر چند ہوں آئینہ پر اتنا ہوں نا قبول
منہ پھیر لے جس کے مجھے روبرو کریں
دونوں باتیں بیحد اہم ہیں۔ایران اور سعودی عرب کا قانونی نظام بیحد کامیاب ہے۔ اسلامی تعزیرات اور حدود کے تحت سزائیں دی جاتی ہیں۔مجرم جتنا بھی با اثر ، دولت مند اور اہم شخص ہو، قانون سے بچ کر نہیں جاسکتا۔جنرل ضیاء الحق نے مخصوص وقت کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرکے مجرموں کو سزائیں دلوائیں۔ جو کامیاب ثابت ہوئیں۔انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کا عدالتی نظام کسی مجرم کو سزا نہیں دے سکتا ۔ عدالتی سسٹم ایسا ہے کہ جو مجرم دوست کہلاتا ہے۔کیونکہ ہمارا معاشرہ بھی خواجہ میر درد اور شیر جہاں ساحل کے بقول مجرم دوست ہے۔ کسی مجرم کو پکڑا جائے تو پورا گاؤں ، پورا شہر قانون کے خلا ف حرکت میں آجاتا ہے۔ مجرم کی حمایت میں پورا معاشرہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ لوگ گواہی دینے سے انکار کرتے ہیں۔پولیس 8سالوں میں بھی چالان عدالت میں پیش نہیں کرتی۔ عدالت 10سالوں میں بھی مقدمے کا فیصلہ نہیں سنا سکتی۔ماتحت عدالت سے کسی بڑے مجرم کو سزا ہو بھی جائے ، عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ سے باعزت بری ہونے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایک مقدمہ قتل میں دو مجرم پکڑے گئے تھے۔ ایک کو سزائے موت اور دوسرے کو عمر قید ہوسکتی تھی۔ ماتحت عدالت میں حتمی فیصلہ ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے سینئر وکیل نے مقتول کے ورثاء کو بلایا اور انہیں بتایا کہ ایک کروڑ روپے دیت لیکر دونوں کو معاف کرو۔ ورثاء نے کہا ہم 10کروڑ میں بھی خون معاف نہیں کرینگے۔سینئر وکیل نے کہا اگر اپیل ہوگئی تو 30لاکھ روپے میں دونوں باعزت بری ہوجائیں گے۔تمہیں کچھ نہیں ملے گا بلکہ تمہارے جیب سے مزید 5لاکھ روپے ہائی کورٹ کی پیشیوں پر خرچ ہونگے۔ صلح نہ ہوسکی ماتحت عدالت نے ایک کو سزائے موت دی دوسرے کو عمر قید کی سزا سنائی۔4سال بعد عدالت عالیہ نے دونوں کو باعزت بری کردیا۔ریمنڈ ڈیوس اور شاہ زیب کیس میں عدالتوں کی اس کمزوری کی وجہ سے ورثاء نے خون بہا لیکر مجرموں کو چھوڑ دیا۔پشاور کی کچہری میں ایک کمسن لڑکے نے باپ کے قاتل کو پیشی کے موقع پر گولی مارکر ہلاک کردیا۔ مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے اس نے کہا کہ سابقہ پیشی پر وہ اپنی بیوی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ’’ دو چارپیشیوں کے بعد میری ضمانت ہونے والی ہے تم فکر مت کرو‘‘۔ یہ بات سن کر میں نے فیصلہ کیا کہ اس کا سر میں خود اڑا دوں گا۔ مشال قتل کیس اور ڈی آئی خان کیس میں عدالتوں نے کوئی کارکردگی نہیں دکھائی۔ایسے کیسوں کا فیصلہ 3دنوں میں ہونا چاہیئے۔زیادہ دیر نہیں لگانی چاہیئے۔ اگرسول عدالتوں میں استعداد کی کمی ہے تو حدود کے تمام مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں۔ جدید چین کے بانی چیئرمین ماؤ زے تنگ کے علم میں ایسے واقعات لائے جاتے تو فیصلہ سنانے میں دو گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لیتے تھے۔جہاں واردات ہوتی اس علاقے کے تمام لوگوں کو پکڑتے اور کہتے تھے کہ مجرم کو ہمارے حوالے کرو ورنہ سب کی گردن اڑا دونگا۔ آدھ گھنٹے میں مجرم کو سامنے لایا جاتا تھا، بقیہ ڈیڑھ گھنٹے چالان اور مقدمے کی کاروائی میں لگتے تھے۔دو گھنٹوں کے بعد مجرم کی لاش سولی پر جھول رہی ہوتی تھی۔حدود کا اسلامی قانون مظلوموں کو فوری انصاف دیتا ہے۔ اسلامی تعزیرات کے تحت مجرم سزا سے بچ نہیں سکتا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ مجرم دوست معاشرہ ہے۔شہر اور گاؤں کا ہر شہری مجرم کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔ مظلوم کیساتھ کسی کی ہمدردی نہیں ہوتی۔ ہمارے سیاسی لیڈر مظلوموں کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں اور مجرم کی ضمانت کے لئے تن من دھن کی بازی لگاتے ہیں۔
مٹ جائیگی مخلوق تو انصاف کر وگے
منصف ہو تو حشر اب اٹھا کیوں نہیں د یتے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

ٹنل کو ہر وقت ٹرانسپورٹ کے لئے کھلا رکھا جائے بصورت دیگر یونین راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔تریچ میر ڈرائیور ز یونین چترال

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) تریچ میر ڈرائیور ز یونین کے صدر صابر احمد صابرنے یونین ...