قومی ترقی کی منصوبہ بندی – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

قومی ترقی کی منصوبہ بندی

………محمد شریف شکیب…..

مشہور مفکر تھامس مالتھس کہتے ہیں کہ اگر روئے زمین پر انسانی آبادی کابوجھ بڑھ جائے اور زمین کے وسائل اس آبادی کے لئے کم پڑنے لگیں تو آبادی کی شرح افزائش میں کمی کے لئے منصوبہ بندی ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر انسان خود اپنی تعداد محدود رکھنے کا نہیں سوچیں گے تو قدرت کی طرف سے آفات کے ذریعے زمین پر انسانوں کا بوجھ کم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ زلزلے آتے ہیں جس میں سینکڑوں ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں۔ سیلاب اور سمندری طوفان آتے ہیں جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی ہیں یا پھر قوموں کے درمیان جنگیں چھڑ جاتی ہیں جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوجاتی ہیں اور زمین پر بوجھ کم ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہم تھامس مالتھس کے اس نظریے کو پتھر کی لکیر سمجھ کر اسے درست تسلیم کریں۔ لیکن یہ نظریہ عقلی دلائل کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ اس لئے اس نظریئے سے سرمنہ انحراف بھی نہیں کیا جاسکتا۔قیام پاکستان اور آج کے دور میں ملکی آبادی کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت ز ندگی کے کسی دوسرے شعبے میں ہم نے اگر غیرمعمولی ترقی نہ بھی کی ہو۔ لیکن آبادی بڑھانے میں ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 1947میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی مجموعی آبادی سات کروڑ تھی۔ جس میں موجودہ پاکستان کا حصہ ساڑھے تین کروڑ تھا۔ 1971میں ہماری آبادی چھ کروڑ اور مشرقی پاکستان کی سات کروڑ ہوگئی تھی۔ آج پاکستان کی آبادی سات گنا اضافے کے ساتھ 22کروڑ تک جاپہنچی ہے۔ جبکہ دو سے چار اور چار سے آٹھ کی شرح سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں ہمارے وسائل میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ترقیافتہ قومیں باقاعدگی منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھتی ہیں۔ وہاں ہر آٹھ سے دس سال بعد مردم شماری ہوتی ہے۔ جس سے انہیں انسانی وسائل کا اندازہ ہوتا ہے اسی اندازے کو بنیاد بناکر پانچ سالہ ، دس سالہ اور بیس سالہ ترقیاتی منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ قومی ترقی کے لئے جو بھی لائحہ عمل تیار کیاجائے۔ اس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوتی۔ ہر حکومت اسی لائحہ عمل کی پیروی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔اگر ترقیاتی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے قرضے بھی لئے جاتے ہیں۔ تو اس کی پائی پائی ترقی پر خرچ ہوتی ہے اور اس قرضے کو واپس کرنے کا شیڈول بنایا جاتا ہے۔جاپان، چین، تائیوان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ ممالک انیس سو ساٹھ کے عشرے میں پاکستان سے بھی امداد لیتے تھے۔ تاہم جامع منصوبہ بندی اور اس پر مخلصانہ عمل درآمد کی بدولت آج وہ ترقیافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔ جبکہ ہم ترقی معکوس کی جانب رواں دواں ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قومو ں کے ساتھ قدم ملاکر چلنے کی منصوبہ بندی ہی نہیں کی۔ سکول، اسپتال، سڑکیں، پل اور دیگر منصوبے عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی فائدے کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ عوام کو روزگار کی فراہمی میں بھی سیاسی مفادات کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ ہر سیاسی حکومت نے قومی اداروں میں اپنے سیاسی مفاد کے لئے تھوک کے حساب سے بھرتیاں کیں۔ پہلے اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کو کھپایا۔ پھر ان لوگوں کو بھرتی کیاجن سے سیاسی مفادات وابستہ ہوسکتے تھے۔ آج پاکستان ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل اور دیگر کئی منافع بخش ادارے ملازمین کی فوج ظفر موج کی وجہ سے خسارے میں جارہے ہیں اور قومی خزانے پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔انیس سال کے طویل وقفے کے بعد 2017میں ملک میں مردم شماری ہوئی ہے۔ جس سے یہ اعدادوشمار تو واضح ہوگئے ہیں کہ پاکستان میں کتنے شہریوں کو ایک ڈاکٹر، نرس، استاد، انجینئرکی خدمات میسر ہیں۔ اور بین الاقوامی معیار کیا ہے۔ بائیس کروڑ کی آبادی کو کتنے اسپتالوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، فنی تربیت کے اداروں کی ضرورت ہے۔ کتنی آبادی کو بجلی، گیس، صاف پانی، تعلیم اور صحت کی مناسب سہولیات دستیاب ہیں۔قانون ساز اداروں میں آبادی کے تناسب سے کتنے منتخب ارکان ہونے چاہئیں۔ اگرچہ حالیہ مردم شماری کے نتائج پر بھی لوگوں کو تحفظات ہیں۔ تاہم کچھ ٹھوس معلومات اور اعدادوشمار اس مردم شماری کے طفیل حاصل ہوئے ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر آگے لے جانا ہے تو مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر قومی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد بڑھانی ہوگی ۔ شہری اور دیہی علاقوں میں حلقہ بندیاں آبادی کے ساتھ رقبے ، جغرافیائی پوزیشن اور عوامی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیں۔زمینی حقائق کو ماضی کی طرح نظر انداز کرکے سیاسی فائدے کو پیش نظر رکھ کر منصوبہ بندی کی گئی تو ہم آگے بڑھنے کے بجائے مزید پسماندگی کا شکار ہوجائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

دھڑکنوں کی زبان …. شاکرین استاد

’’شاکرین استاد پنشن پہ گیا ‘‘یہ ایک ایسا جملہ ہے جس پہ کوئی اعتبار نہیں ...


دنیا بھر سے