صدائے بازگشت :آئیں مل کر امریکہ کو بچائیں – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

صدائے بازگشت :آئیں مل کر امریکہ کو بچائیں

  …………عنایت اللہ اسیر…..

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے وحدت کے لئے خطرہ ہونے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے امن کے لے بھی خطرہ بن چکے ہیں ۔ دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے وحشیانہ عادات واطوار کے سبب ایٹیم جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شمالی کوریا کے ممخلافت میں ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ کسی طرح سے بین الاقوامی قوانین سے اہم آہنگ ہین۔ دنیا کے امان کے لئے مستقل خطرہ اسرائیل کو پھر سے بد امنی کا شکارکردیا ہے۔ روزانہ بیت المقدس میں کئی سالوں کے امن کے بعد خون ناحق کرنا شروع ہوگیا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ کشووں سے پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرکے افغانستان میں مل کر کام کا آغازکرنے کی تیاری میں نئے معاہدے، نئے منصوبہ بندی کے ساتھ کام کا آغاز کیا گیا تھا مگر امریکی نئی قیادت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں پاکستان امریکہ کے کئی سالون کے رفاقت کو رقابت میں تبدیل کردیا ہے اور امریکہ پاکستان مل کر افغانستان کا امن کا گہوارا بنانے کی بجائے آپس میں الجھ گئے ہیں۔ ملکر افغانستان میں امن قائم کرنا دور بات ڈونلڈ ٹرمپ کے دہشت بھری ذہنیت اور لذت ازار طبیعت نے پاکستان میں دہشت گردی سر اٹھارہی ہے۔ CPECکی بے جا مخالفت کے بجائے امریکہ خود اسی مختصر ترین زمینی راستے میں حصہ ڈھال کر چین اور سنٹرل ایشیاء کے تمام ممالک سے بہتر تعلقات استوار کرکے دنیامیں امن ترقی تعہیم وصحت کے تجارت اور سیاحت کو فروغ دے کر چین سے بھی نمایان کردار ادا کرسکتا تھا۔
اسی راستے سے روس ، انڈیا، ایران، افغانستان، ترکی اور وسطی ایشیاء کے ممالک کو قریب لاکر مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے ڈونلڈ ٹڑمپ نے دنیئاکو ایٹیم اور جنگی جنون کی طرف دھکیل رہا ہے۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ 1947ء سے آج تک پاکستان امریکہ کا یکطرفہ اتھادی رہا ہے حالانکہ امریکہ نے مشرقی پاکستان کوبنگلہ دیش بنتے دیکھتا رہا۔ اگر جنگ بندی ہی کرادیتا اپنے جنگلی بیڑے کے بل بوتے تو ممکن تھا مگر ہمارا ویٹو پاؤر ولاا مریکہ دوست تماشا ہی دیکھتا رہا۔ 1978ء سے 1998ء اور آج تک پاکستان امریکہ کا جان ، مال وقققت ار ہر قسم کے وسائل سے کھال ساتھ دیا اوف اپنے پڑوسی روس کا مقابلہ کھلے عام کیا اور خاد، موساد، را، کے جی بی کے دشمنی مول کر روس کو نہ صرف افغانستان سے نکلنے پرمجبور کیابلکہ خود روش کی عظیم ایٹمی ، خلائی ویٹو پاؤر طاقت 18ٹکڑوں میںٗ تقسیم ہوگیا۔ اور پاکستان کے اکثریت اس بات پرمتفق ہیں کہ امریکہ کے ہمیں افغاانستان میں استعمال کیا اور اپنے مقاصد حاصل کرنیکلے بعد جنرل ضیاء، جنرل افضل ، جنرل اختر ور اسن کے پوقرے ٹیم کو جنہوں ن ے امیرکہ ساتیھ مل کر روس کے حصے بخرے کرنے میں نمایان کردار ادکا کیا تھا اپنے وزیر خارنہ اور امریکن سفیرع کے ساتھ ایک سی 130میں بیٹھا کر اپنے ہی ماڈرن ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہاولپور میں ایک ناقص ٹینک کے بے تکے فارمیشن میں لے جاکر ختم کیا اور امریکہ معصوم بن کر ہمارے ساتھ روتا رہا اور اس ایر کریش کے لھلے تحقیقات نہ خود کیا اور نہ کرایا۔ حالانکہ اس حادثے میں دو معروف شہری بھی مرگئے تھے۔ اگرامریکہ اپنے ماہرین کے ذریعے اپنے ہی شہریوں کے قتل کی تحقیقات کراتے تو حادثہ کے ذمہ داران کا پتہ چل سکتا تھا ۔ امریکہ کی پر اسرار خاموشی چور کی داڑھی میں تنکاکی طرح لگتا ہے ۔ اس حادثے کے بعدہی سے افغانستان آج آگ اور خون میں نہارہا ہے۔
یہ کہان کا انصاف ہے کہ روس کا افغانستان میں فوجی قوت کے ساتھ آنا ظلم اور امریکہ کا افغانستان کے ستر فیصد عوام کی مرضی کے خلاف افغانستان میں فوجی قیادت کے ذریعے بیٹھنا عین انصاف؟
افغانون کو اپنے آزاد ملک افغانستان میں اپنی مرضی کے مطابق حکومت بنا کر زندگی گزارنے کاحق بھی چھیننا کہاں کا انصاف ہے ۔ امریکن خود فیصلہ کریں کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کوحصے بخرے کرنے تک اس عظیم ملک کے مہذب باشندو ں کی قیادت کرتا رہے اور پانچ سال بعد نہ رہے بانس ااور نہ بجے بانسری۔ ایک ڈونلڈ ٹرمپ کا خونی جنونی ہونا کوئی حیرانگیکی بات نہیں مگر پورے کا نگریس اور امریکن قائدین کا دیوانہ وار ٹرمپ کے جنگی جنون کا حامی ہونا خود امریکہ کے اتحاد اور سلامتی کے لئے خطرہ ہوگیا ہے۔
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی
ہمیں اپنے گھر کی خبر رکھنی ہوگی اور چین کے قربت میں روس سے معادفی مانگ کر امری،کہ کو افغانسنتا سے نکالنا ہوگا۔ اوعر یہ عین ممکن ہیکہ اغانسنتانمیں اگرت امریکہ مخالف قوتوں کا پاکستان اور ایران ساتھ دیں تو امریکہ کا افغانستان میں مزید رہنا ناممکن ہوجائے گا۔ ہم ٹرمپ کے بے تکے دھمکیوں کے باوجود اب بھی سپلائی کے تمام راستوں کو بند نہیں کیا حالانکہ امریکہ انڈیا کے سرپرست کے طور پر ہمارے بلوچستان میں دھماکوں کا ذریعہ بنا ہوا ہے ۔ پاکستان کے عوام کا تعلق صر ف ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہماری دوستی امریکہ کے ساتھ ستر سال سے ہے اور امریکن شہریوں کے ساتھ رہے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

دھڑکنوں کی زبان …. شاکرین استاد

’’شاکرین استاد پنشن پہ گیا ‘‘یہ ایک ایسا جملہ ہے جس پہ کوئی اعتبار نہیں ...


دنیا بھر سے