تازہ ترینمحمد شریف شکیب

صوبائی اسمبلی کی تحلیل۔ زرا سوچئے

……….محمد شریف شکیب……….
پاکستان تحریک انصاف نے سینٹ اور قومی اسمبلی سے استعفے دینے کے ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ رواں ہفتے پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہونا متوقع ہے۔اس سے قبل تحریک انصاف نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔پارٹی کا موقف ہے کہ قانون ساز ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لئے ان کا پانچ سال کی مدت پوری ہونے تک اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ جب وفاق اور پنجاب کی طرف سے پی ٹی آئی کے مطالبے کا کوئی جواب نہیں آیا۔ تو انہوں نے خود کو ان ایوانوں سے الگ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے میں ابھی ساڑھے چار مہینے باقی ہیں۔ اگراسمبلیاں تحلیل بھی ہوجاتی ہیں تو اگست سے پہلے عام انتخابات کے انعقاد کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ الیکشن کمیشن کوحالیہ مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کرنے اور نئی انتخابی فہرستیں تیار کرنے کے لئے اگست تک کا وقت درکار ہے۔ اپنی سیاسی حکمت عملی پر عمل درآمد کے لئے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنا شاید پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ناگزیر سمجھتی ہے تاہم صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کے سیاسی نقصانات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ صوبائی حکومت نے اپنے انتخابی منشور کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل اور ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں۔ جن میں بلین ٹری سونامی، پشاوربس ریپڈ ٹرانزٹ کا منصوبہ، مختلف شہروں کی تزین و آرائش کی سکیمیں، پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ، پولیس، تعلیم اور صحت سمیت مختلف سرکاری محکموں میں اصلاحات کا عمل شامل ہے۔ حکومت کی تحلیل کی صورت میں یہ نامکمل منصوبے بھی ادھورے رہ جائیں گے۔ جس کی صوبے کے عوام اور خود تحریک انصاف کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ تحریک انصاف کی قیادت اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز پر عمل درآمد چند ماہ کے لئے موخر کردے تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔ اور ان کے ثمرات سے عوام فیض یاب ہوں۔جس کا لامحالہ سیاسی فائدہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کوہی پہنچے گا۔ اس وقت ملک اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بھی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔ دنیا کی واحد سپر پاور کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ پڑوسی اسلامی ملک افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی ہمارے مراسم کچھ اچھے نہیں۔ ملک کے اندر بھی سراسیمگی کی سی کیفیت ہے۔ دہشت گردی، اوربدامنی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ خصوصا ملک کے مختلف حصوں سے کم سن بچیوں کی آبروریزی اور انہیں قتل کرنے کے جو واقعات رونما ہورہے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں۔ بلکہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔تاکہ ملک اور اسلام کو بدنام کیا جاسکے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح بھی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ ایسی صورت میں ملک مزیدسیاسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔جب عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومتیں صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مشکلات سے دوچار ہیں تو غیر منتخب، عارضی اور نگران حکومت ان حالات سے کیسے نمٹے گی۔ اور جب معاملہ قومی سلامتی اور بقاء کا ہو۔ تو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے۔ تحریک انصاف کی قیادت صورتحال کو جس زاویے سے دیکھتی ہے۔ممکن ہے کہ اس زاویے سے اسمبلیوں سے استعفیٰ اور صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے میں انہیں ملک اور پارٹی کا مفاد نظر آتا ہو۔ لیکن عوامی زاویہ نگاہ سے بھی صورتحال کو دیکھنا چاہئے۔اگر عوام اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں تو انتخابات میں وہ اپنے ووٹ کے ذریعے اس فیصلے کے خلاف اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں رائے عامہ تبدیل ہوتی رہی ہے۔ خصوصا خیبر پختونخوا کے عوام دیگر صوبوں کی نسبت سیاسی طور پر فیصلہ کرنے میں آزاد اور زیادہ باشعور ہیں۔ یہاں کسی پارٹی کو مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کا ماضی میں موقع نہیں ملا۔ پی ٹی آئی اس روایت کو بدلنے کا دعویٰ کرتی ہے۔اور ایسا تب ہی ممکن ہے کہ سیاسی فیصلے رائے عامہ کی بنیاد پر کئے جائیں۔ جذباتی قسم کے فیصلوں سے حتی الامکان گریز کیا جائے ۔ اسی میں ملک اور قوم کی بھلا ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق