تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صد ا بصحرا….مستقبل کا خاکہ

اخبارات میں تین خبروں پر تبصرے جاری ہیں پہلی خبر لاہور دھرنے کی ہے ۔ دوسری خبر بلوچستان میں نئی حکومت کی ہے ۔ تیسری خبر مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کی ہے۔ جس خبر پہ تبصرے کا انتظار ہے وہ مستقبل کا نیا خاکہ ہے۔ اور اس میں رنگ بھرنے کا کام جاری ہے۔ایک دل جلے نے بھری مجلس میں یہ بات کہہ دی ہے کہ جنرل مشرف کا دور دوبارہ آرہا ہے اور جنرل مشرف کو لیکر آرہا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے اور یہاں ’’ چھوٹا منہ بڑی بات‘‘ والا مقولہ بھی درست لگتا ہے۔تقطیع کے پرچے میں ایک امتحانی سوال اس شعر سے آتا ہے۔
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
حصہ دار فریقوں کے لئے انگریزوں میں سٹیک ہولڈرز کی ترکیب استعمال ہوتی ہے اور سٹیک ہولڈر ز کا اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ وفاق میں اگلی حکومت مسلم لیگ (ق) کی آئے گی۔ چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ سفارت کاروں کی ملاقاتیں اس خاکے میں رنگ بھر نے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔اخباری اصطلاح میں اس کے لئے سودا بازی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اس کا انگریزی متبادل ڈیل (Deal) ہے۔اور ڈیل کے معاملے میں بہت ساری باتیں اس وقت گردش میں ہیں۔اسلام آباد اور لاہور کے صحافتی حلقوں میں مستقبل کے دور کو جنرل مشرف کے دور کی دوبارہ آمد سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ق)کا سورج طلوع ہوچکا ہے۔ایک ہفتے کے اندر سارے برج الٹ دیئے گئے اور ’’انہونی‘‘ کو ہونے کا رستہ دیدیا گیا۔ یہ ایک اشارہ ہے اور فارسی میں مثل مشہور ہے کہ عاقل کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے ۔ مگر عاقل کہاں پائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے زیب النساء مخفی کا مصرعہ بھی مشہور ہے ۔’’کجا کند کارے عاقل کہ باز آید پیشمانی‘‘ آپ 2002ء کے عام انتخابات کو ایک بار پھر یاد کریں۔ بلوچستان اور پنجاب میں مسلم لیگ(ق) کی حکومتیں تھیں۔ سندھ میں ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تھا۔ خیبر پختونخوا میں علمائے کرام کے سر پر تاج رکھ دیا گیا تھا۔ خوشحال خان خٹک کے پشتو شعر کا رواں اور سلیس ترجمہ ہے ۔دستار باندھنے والے ہزاروں ہیں مگر دستار کے لائق انگلیوں پر گنے جاتے ہیں۔یہ زبردست کام اب پھر ہونے والا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان والے ویسے بھی وفاق کے پیچھے اقتدار کی نیت کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔وفاق میں حکومت کا جو نقشہ بن رہا ہے وہ متحدہ مجلس عمل ، ایم کیو ایم، پی پی پی اور مسلم لیگ(ق) کی مخلوط حکومت کا نقشہ ہے۔آپ ایم کیو ایم کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں۔ نام میں کیا رکھا ہے۔ نام رکھنے والے پی ایس پی ، مشرف لیگ یا ایم کیو ایم یا مہاجرلیگ یا کوئی اور نام دے سکتے ہیں۔اس کے مصالحے میں ’’مہاجر‘‘کا تڑکا ضروری ہے چاہے لندن والی سرکار ہو یا کراچی کے بھائی لوگ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جناح پور سب کا ہے۔ اور وفاقی حکومت میں اُن کاحصہ پکا ہے۔اس میں شک نہیں ۔ یہ چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کی بصیرت ، حکمت عملی اور سودا بازی کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں کس کوقائد ایوان بناتے ہیں۔کس کو ایوان صدر میں بٹھاتے ہیں۔ کس کے سر پر کس کس عہدے کی دستار رکھتے ہیں۔یہ مستقبل کا خاکہ ہے۔ اس خاکے میں رنگ بھرنے کیلئے شب و روز کام ہورہا ہے۔ میرے دوستوں کا خیال ہے کہ شیخ رشید کو نئے گیم سے نکال دیا جائے گا۔مگر میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوگا۔ شیخ رشید پکے مسلم لیگی ہیں اور مسلم لیگ کے لیڈروں کی خصوصیت پانی کی طرح ہوتی ہے۔ پانی گلاس میں آتا ہے۔ بالٹی میں بھی آتا ہے۔ٹینکی میں بھی آتا ہے۔ شیخ رشید نے قاف اور نون دونوں کا مزہ چکھ لیا ہے۔ قاف کی باری آنے کے امکانات روشن ہوگئے تو قاف کی کشتی میں سوار ہونا اُن کے لئے عین سعادت ہوگی اور وہ ایسے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینگے۔اب اس بات پر بحث کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ مستقبل کے اس خاکے میں جنرل مشرف کا کیا کردار ہوگا۔ کیا وہ الطاف حسین کی طرح ’’ بادشاہ گر‘‘ یا کنگ میکر کا کردار ادا کریں گے یا وہ ایک بار پھر ایوان صدر یا پرائم منسٹر ہاؤس میں سے کسی بڑے گھر کا انتخاب کرینگے۔ فال دیکھنے والوں اور نجومیوں کا خیال ہے کہ جنرل مشرف ڈرائیونگ سیٹ پر ہونگے۔ البتہ اے پی ایم ایل کا نام نہیں ہوگا۔ اس کو قاف لیگ میں ضم کرکے دونوں کو شیر وشکر کی حیثیت دی جائیگی۔جو لوگ گذشتہ سال نون لیگ میں جانے کا سوچ رہے تھے وہ قاف لیگ یا مشرف لیگ کی طرف اڑان بھرینگے۔صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اس کو بھولا نہیں کہتے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق