پارلیمنٹ کا تقدس – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

پارلیمنٹ کا تقدس

ہمارے محترم خورشید شاہ صاحب جو کہ قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن بھی ہیں نے لاہور جلسے میں شیخ رشید اور عمران کی پارلیمنٹ کو بُرا بھلا کہنے پر سخت نالان ہیں اور اسمبلی میں اس مسلے پر دھوان دار تقریر بھی فرمائی مگر افسوس صد افسوس کی بات ہے اور ہماری بدقسمتی بھی کہ ایک ایسا شخص جس کو پارلیمنٹ کا صحیح  تلفظ بھی نہ آتا ہو جو پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر پارلیمنٹ کی بجائے اسے پالامنٹ بولتا ہو وہ پارلیمنٹ کو ایک لفظ کہنے پر سیخ پا ہے اور ہمارا اپوزیشن لیڈر بھی۔ پھر بات ہو پارلیمنٹ کی بالادستی کی ، جمہوریت کی ، انصاف عدل کی اور ایمانداری کی ،میرٹ کی، یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے ۔ جس اسمبلی میں ننانوے فیصد جاگیردار ، سرمایہ دار، وڈیرے ،چوہدری بیٹھے ہوں اور پھر ستم ظریفی یہ بھی کہ ان کی اکثریت مڈل پاس نیم تعلیم یافتہ لوگ ہوں تو ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے، کسی نے فیس بُک پر پوسٹ کیا کہ جس پارلیمنٹ کی پیشانی پہ کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہو اس پرکم از کم میں تو لعنت نہیں بھیج سکتا مگر صاحب، بات تو ٹھیک ہے پارلیمنٹ کی پیشانی پر کلمہ طیبہ پر جان قربان ،پرودیگار دو عالم کے نام پر اور اس کے حبیب کے نام پر مال و اولاد قربان مگر جب اسی پارلیمنٹ کے اندر قائداعظم کے قداور تصویر کے عین نیچے مافیاز کے سرپرست براجمان ہوں ،جب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے صادق و امین نہ رہیں ، جب عوام کے ٹیکسون سے بھاری بھرکم تنخواہ و مراعات لینے والے ہمارے نمائندے جو ائین پاکستان کی پاسداری کا حلف اُٹھاتے ہوئے آئین کی کسی بھی ایک نکات کی پاسداری نہ کریں تو اس پارلیمنٹ کو کیا کہا جائےان پر گُل پاشی کی جائے،وہ ملک جس میں عدلیہ کے فیصلون کا کھل عام مذاق اُڑانے پر ہمارے نام نہاد نمائندہ گان چُب سادہ لیں ،معزز ججز پر ہر روز نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے کھل عام بغاوت کا اعلان کریں تو خاموشی اختیار کی جائے مگر اُسی پارلیمنٹ پر اگر کوئی ایک لفظ کہہ دے تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے، ایک ھنگامہ برپا ہوجاتا ہے ،ایک دوسرے پر فتوے لگائے جاتے ہیں اور لوڑی لنگڑی جمہوریت کی حمایت میں قرارداد در قرارداد پیش کئے جاتے ہیں ۔افسوس صد افسوس جس ملک میں زینب جیسے ہزارون پھول آئے دن درندگی کا شکار بن جاتے ہیں ،آبادی کی اکثریت غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور چند فیصد سفید پوشون کے بیرون ملک جائیداد و دولت کا شمار نہیں، جن کے ثبوت بھی موجود ہوں ، گواہ بھی ہوں اور عدالت کے فیصلے بھی ہوں اور پھر وہی وڈیرے وہی جاگیردار اسمبلی میں جمہوریت کو لاحق خطرات کا رونا روئیں ، پارلیمنٹ پر ایک لفظ کہنے والوں کو گنہگار گردانتے ہوئے فتوے جاری کریں اور جمہوریت زندہ باد کے نعرے بھی لگائیں تو اس سے اگے کیا کہا جائے ،یاد رہے یہ وہی پارلیمنٹ ہےجس نے چند ہفتے پہلے سپریم کورٹ سے نااہل ثابت ہوتے والے سابق وزیراعظم کو دوبارہ پارٹی کا صدر بنانے کے لئے آئیں میں ترمیم پیش کرتی ہے اور اسے منظور بھی کیا جاتاہے وہ شخص جسے معزز عدالت تا عمر نااہل قراردیتا ہے قول و فعل میں تضاد کی بنا پر نااہلی کا فیصلہ صادر کرتا ہے مگر ہماری معزز پارلیمنٹ اور اس میں براجمان فرشتے اس ایک شخص کی خاطرآئیں میں ترمیم کرتے ہیں اور اسے ایک پارٹی کا دوبارہ صدر بنانے کی راہ ہموار کرتے ہیں ، اس سے بڑی بدقسمتی اس ملک کی کیا ہوگی جب معزز عدالتون کے فیصلوں کا کھل عام مذاق اُڑایا جائے جہاں جاگیرداروں اور وڈیروں کے اولاد سرعام قتل کرکے بھی آذاد ہوں ، جہان اربون روپے کی کرپشن کرنے والے کو پھولون اور سونے کا ہار پہنایا جائے  تو اس قوم کی قسمت کا کیا کہیئے ۔ پارلیمنٹ کی تقدس کا کیا کہنا ، پچھلے ہفتے سندھ کی صوبائی اسمبلی میں دیسی شراب اور شراب کی مختلف اقسام پر بحث کی جارہی تھی جبکہ اُسی سندھ میں کراچی اور اندورون سندھ کے دیہی علاقون عوام کی کیا حالت زار ہے اس پر بحث و مباحثے کرنے کی توفیق کسی کو نہیں ہوئی ۔ اسی طرح اسمبلیوں میں کیا کچھ ہوتا ہے اس پر لفظ بولا جائے تو قیامت آجاتی ہے۔واہ واہ ایسی مقدس پارلیمنٹ کا کیا کہنا اور ایسے جمہوریت کے امین نمائندون کی سوچ کو سو توپون کی سلامی۔ جمہوریت کو شدید خطرات کے پیش نظر یہ بحث یہاں سمیٹ لین تو اچھا ہے ورنہ پارلیمنٹ کی توہیں پر فتوے لگائے جائیں گے اور جمہوریت کی بھی بدنامی ہوگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

پرویز مشرف الیکشن 2018میں چترال سے قومی اسمبل کی نشست کے امیدوار ہونگے کاغذات نامزدگی مکمل، بیان حلفی کا انتظار

چترال ( محکم الدین ) سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سابق صدر پاکستان ...


دنیا بھر سے