کھلا خط بنام وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

کھلا خط بنام وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی

سماجی کارکن عنایت اللہ آسیر
 aseerchitral@yahoo.com

…………0346-9103996………..

کھلا خط بخدمت عزت مآب عالی مقام جناب شاہد خاقان عباسی صاحب وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان

ہم بالعموم تمام اہا لیان چترال و بالخصوص اہالیان ایون ،بمبوریت ، رمبور ،بریر ،بروز ، گہریت و گنگ ،سید آباد انجناب کے ایون تشریف آوری پر تہہ دل سے انجناب کو خوش آمدید کہتے ہوئے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے انتہائی مشکل حالات اور بے حد مصروفیات کے باوجود چترال تشریف لا کر ہمیں اپنی مشکلات و مسائل آپکے سامنے رکھنے کا براہ راست موقع فراہم کیا ۔
یقینا’’ن‘‘لیگ کی مرکزی حکومت نے پورے پاکستان کے دیگر تمام اضلاع سے ضلع چترال کو سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز فراہم کرکے میاں نواز شریف اور ان کے پوری ٹیم کے چترال سے والہانہ دلچسپی کا ثبوت دیا ہے۔
ان احسانات کا ذکر نہ کرنا انتہائی احسان فراموشی ہوگی ۔لہذا چند ایک تاریخی اہمیت کے حامل میگا پراجیکٹ میں جو کہ مرکزی حکومت کے خصوصی توجہ اور کثیر فنڈز کی فراہمی سے مکمل ہوئے زیر قلم لانے کی جسارت کی جاتی ہے ۔
-1 لواری ٹنل:۔ لواری ٹنل کا منصوبہ ہمارے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا جسے مرکزی حکومت نے لگاتار 6ارب روپے سالانہ کا فنڈز بلا ناغہ فراہم کرکے تکمیل تک پہنچایا جس کیلئے چترال کے مردوز ن اور تمام باشندے ’’ن‘‘لیگ کے ممنون احسان اور شکر گزار ہیں ۔
-2 گولین گول ہائیڈرل پاؤر پراجیکٹ:۔ اس پراجیکٹ کا آغاز یقیناً1998سے ہوا۔مگر فنڈز کی قلت کی بناء پر اس پراجیکٹ پر کام کئی بار رکارہا ، مگر ’’ن‘‘ لیگ کی مرکزی حکومت نے اس قومی اہمیت کے حامل میگا پراجیکٹ کی تکمیل تک اس کے فنڈز میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دیا۔ اور آج چترال کی نصف آبادی کے برابر کا علاقہ اس عظیم منصوبے کی تکمیل سے مستفیدہوچکا ہے اور بہت جلد انشاء اللہ اس پراجیکٹ سے پورہ چترال روشنی کی نعمت سے مستفید ہو جائیگا۔
-3 چترال کے سڑکوں کی ناگفتہ بہہ صورتحال:۔ راستوں کی ناگفتہ بہہ حالات کی بناء پر چترال کے تمام سڑکیں موت کا کنواں بن گئے تھے اور سالانہ کئی جانیں ان مشکل وتنگ اور موڑ درموڑ سڑکوں کی بناء پرحادثات کا شکار ہوجاتے تھے ۔

’’ن‘‘لیگ کی حکومت نے بونی تورکھو روڈ ، گریم لشٹ سے براستہ اویر تریچ روڈ کئی ایک پل اور کوراغ سے موڑکہو روڈ ، بونی سے
شندور روڈ اور چترال ٹاؤن سے گرم چشمہ روڈ ، کیلاش ویلیز، رمبور،بمبوریت اور بریر سے چترال روڈ براستہ ایون اور ، کلکٹک سے چترال
ٹاؤن سے دریائے چترال کے مغربی سائیڈ سے اورغوچ، بکامک سے ہوتے ہوئے ایکسپریس روڈ اور ان پر تخمینہ لاگت 50سے60ارب سے زیادہ بنتی ہے ۔اس کے علاوہ ایون ، دروش چترال کیلئے گیس پلانٹس جو چترال کے جنگلات کو بچانے کا ذریعہ ہونگے ۔ 2015کے تباہ کن سیلاب اور زلزلے کے متاثرین کو مرکزی حکومت کی طرف سے نقد امداد کی بلا تاخیر فراہمی چترال کے باشندے ’’ن‘‘لیگ کے عملی احسانات کا بدلہ انشاء اللہ 2018کے الیکشن میں دیں گے۔
انتہائی قابل تعریف بات یہ ہے کہ چترال سے ’’ن‘‘لیگ کا کوئی نمائندہ نہ قومی اسمبلی میں اور نہ صوبائی اسمبلی میں کوئی تھا،نہ تمام میگا پراجیکٹ چترال سے جنرل مشرف کے ٹکٹ پر کامیاب شدہ MNAجناب شہزادہ افتخارالدین پسر سابقہ MNAشہزادہ محی الدین کے ساتھ بھر پور تعاون کرکے چترالیوں کے ساتھ خصوصی احسان کے طور پر کئے گئے ۔چترال کے عوام احسان فراموش نہیں ۔
’’ن‘‘لیگ اور مرکزی حکومت کے چترال سے خصوصی دلچسپی کو پیش نظر رکھ کر انجناب کے چترال سے ذاتی دلچسپی اور ہمدردی کے دیکھتے ہوئے چند ایک گزارشات پیش خدمت ہیں ۔
’’مطالبات‘‘
۱۔ کیڈٹ کالج: ۔ چترال میں ایک کیڈٹ کالج ’’عباسی‘‘کیڈٹ کالج کے نام سے قائم کرکے چترال کے پاکستان دوست نوجوانوں کو پاک وطن کے ہر شعبے میں خدمات کا موقع فراہم کیجئے ۔چترال کے تقریباََ40000طلباء و طالبات ہائی سیکنڈری بورڈ کے چترال میں نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں جو ان کی تعلیم کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اسی طرح چونکہ چترال یونیورسٹی میاں نواز شریف صاحب کے اعلان کے مطابق چترال میں فعال بنیادوں پر کام کررہی ہے اس لئے انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ کے چترال میں قیام کے منظوری کے ساتھ ساتھ آپ سے درخواست ہے کہ گورنر صوبہ خیبر پختونخوا کی موجودگی میں یونیورسٹی بورڈ کی بھی چترال یونیورسٹی کو اختیارات دیکر چترال کے طلباء کو علم کے حصول میں آسانی کیساتھ ساتھ چترال یونیورسٹی کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے ۔
۲۔ چراغ تلے اندھیرا: چونکہ بروز چترال ، چترال ٹاون سے منسلک علاقے ہیں اور نیشنل گریڈ کی مین لائن بھی بروز اور ایون کے درمیان سے گزرتا ہے ۔لہذا درخواست ہے کہ بروز ایون اور کیلاش ویلیز کے تمام علاقوں کو نیشنل گریڈ سے بجلی دینے کیلئے ڈسٹری بیوشن لائن بچھانے کی منظوری دی جائے۔
۳۔ گولین گول پراجیکٹ : گولین گول پراجیکٹ کے بجلی کے نرخ میں چترال کے باشندوں کو خصوصی رعایت کا اعلان

کرکے اس نعمت سے روشنی، گرمی اور پکانے کے استعمال میں بھی لانے کا ذریعہ بنائیں اور No Profit No Loss ،کی بنیاد پر اس بجلی سے چترالیوں کو استفادے کا موقع دیکر چترال کے جنگلات کو بچایا جائے ۔ تاکہ ہمارے خوبصورت پہاڑ جنگلات سے خالی ہو کر سیلاب کی تباہی کا ذریعہ نہ بنیں اور ہمارے گلیشئر ز پگھل کر ماحولیا ت کی تباہی اور پانی کی قلت کا سبب نہ بنیں ۔
۴۔ لواری ٹنل : لواری ٹنل کی تعمیر مکمل کرنے پر ہم ’’ن‘‘لیگ کے تہہ دل سے مشکور ہیں ’’سامبو‘‘ کمپنی اور NHAکے شب وروز خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔اور ایک درخواست انجناب کی وساطت سے NHAکے چئیرمین صاحب سے یہ ہے کہ عشریت سائیڈ پے درپے چھڑائی پر موڑ سردیوں میں جانی خطرات کے علاوہ 250من سے زیادہ لوڈزاٹھانے سے قاصر ہیں لہذا اس
سائیڈ پر عشریت گول تک low Greading Sمیں سات ،آٹھ کلومیٹر سڑک بنا کر اس مشکل کو مستقل حل کیا جائے ۔
۵۔ چترال عالمی منڈی کے طور پر:۔ چونکہ چترال سے تاجکستان ، افغانستان اور چین جیسے دوست ممالک سے زمینی
تجارت نہایت قریب اور پر سہولت ٹرک ایبل زمینی راستے کے ساتھ ممکن ہے اور قدیمی کچہ ٹرک ایبل سڑک چترال سے تاجکستان براستہ
بدخشان جو کہ انتہائی پر امن علاقہ ہے موجود ہے اور 1990 ؁ء سے 1998 ؁ء تک چترال سے تجارتی سامان اس راستے سے تاجکستان اور بدخشان تک شب وروز جاتا رہا ہے اور چمن سے لیکر باجوڑ اور دیر کے شاہی پاس تک جائز اور قانونی تجارت افغانستان سے جاری ہے ۔
مگر صرف چترال کے بازاروں سے جو کہ ارندو، دروش ،ایون ،چترال گرم چشمہ مستوج کے منڈیوں سے قانونی تجارت اور وہ سامان جن کی افغانستان سے تجارت جائز ہے ان کو بھی خرید کر افغانستان اور تاجکستان لے جانے کی اجازت نہیں ۔اور چترال میں بحیثیت مہاجر ، مزدور اور کاروباری طور پر کم وبیش 20سے25ہزار افغانی رہتے ہیں جو ماہوار نقد کرنسی منی لانڈرنگ کی صورت میں افغانستا ن لے جاتے ہیں ۔اور بدخشان کے فیض آباد اور جلال آباد بازار سے سامان خرید کر افغانی اپنے گھروں اور علاقوں کو جاتے ہیں ۔ اگر چترال مارکیٹ کو جائز تجارت کیلئے ضلعی حکومت کے ٹیکس اور اجازت سے منظوری دیدی گئی تو ماہوار لاکھوں اور کروڑوں کی کرنسی چترال مارکیٹ میں گردش کریگی ۔
پورا بدخشان اور افغان علاقہ چترال سے جیب ایبل روڈ ز سے منسلک ہیں اس سے استفادہ کرنا پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔
۶۔ PIAکو خسارے سے بچانا:۔ چترال ائیرپورٹ سے فوکر فلائیٹ خوروک تاجکستان تک بین الاقوامی فلائیٹ میں تبدیل کرکے PIAکے اس خسارے والی فلائٹ کو نفع بخش بنایا جاسکتا ہے اور ہفتہ وار C-130کارگو فلائٹس چترال ائیر پورٹ سے تاجکستان تک چلا کر تجارتی سامان کی بھی ترسیل ممکن ہوگی جس سے تاجکستان کے تجارتی منڈی تک پاکستان کے تجارتی مال آسانی سے پہنچ کر کرنسی کمانے کا بہترین ذریعہ ہوگا ۔چونکہ چترال کی جغرافیائی حالت پاکستان کیلئے کراچی کی طرح عالمی منڈی کے طور پر فائدہ دینے کے قابل ہو گیا ہے اور لواری ٹنل کی تعمیر پر لگائے ہوئے کثیر خرچ کی واپسی بھی چترال سے تاجکستان اور افغانستا ن کے بالائی علاقوں تک زمینی راستہ اور تجارت کو فروغ دینے سے ممکن ہے۔
۷۔ CPECکی تعمیر اور وقت کی اہم ضرورت:۔ چونکہ چینی کمپنیز CPECکی تعمیر میں چکدرہ سے شندور اور گلگت تک سروے اور عملی کام میں ملوث ہونگے ۔لہذا ان کو محفوظ اور سرعت سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کیلئے چترال ائیر پورٹ سے گلگت ائیر پورٹ تک فوکر فلائٹ اور ضرورت کے مطابق ہیلی کاپٹر اورC-130کے کارگو فلائٹس کرائے پر چلانے سے ان کے کام میں سہولت، حفاظت اور وقت کا ضیاع کم ہونے کے ساتھ ساتھ PIAکو بھی خسارے سے نکالا جاسکے گا۔
(3)
۸۔ چترال کا قومی کھیل پولو:۔ چترال کے قومی کھیل پولو جو کہ ایک شاہی کھیل ہے اور تاریخی اہمیت اور چترال کے باشندوں کا اس سے دلچسپی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ لہذا پولو پلئیرز کی سہولت کیلئے چترال بونی اور شندور میں پولو کوئی معقول پولو کمپلیکس موجود نہیں ۔جن میں پولو پلےئرز آسانی سے اپنے گھوڑوں کے قریب رہ سکیں، لہذا چترال ، بونی اور شندور میں پولو کمپلیکس کی تعمیر

کیلئے منظوری دی جائے۔
۹۔ سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریاں اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اعلانات :۔
جناب میاں نواز شریف صاحب نے چترال کے سیلاب سے 40دیہات کی تباہی اور زلزلے سے تباہ شدہ دیہات کی بحالی کیلئے جو اعلانات کئے تھے وہ سب عملی طور پر پورے ہوئے ہیں اور ہم باشندگان چترال ان کے مشکور ہیں ۔مگر جو اعلان زرعی قرضوں کی معافی کا کیا گیا تھا ابھی تک ان مصیبت زدہ افراد کو پریشان کیا جارہا ہے ۔ لہذا اس سلسلے میں مرکزی حکومت واضح احکامات جاری کرے ۔
۱۰۔ CPECکی تعمیر اور چینی زبان :۔ CPECکے منصوبے نے پاکستان کو ایک اہمیت اور عالمی نمبر1ملک کی حیثیت سے روشناس کیا ہے اور جن مشکل حالات میں ’’ن‘‘ لیگ کی حکومت نے اس منصوبے کی تکمیل کا تحیہ کیا ہوا ہے ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔انجناب سے گزارش ہے کہ چترال کے میٹرک پاس اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اسکالر شپ پر معقول تعدادمیں چینی زبان سیکھنے کیلئے چین بھیجی جائے اور چترال یونیورسٹی میں چینی زبان کو مضمون کے طور پڑھانے کی منظوری دی جائے ۔

جناب والا!
آپ کے ایون تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایون کے تمام ویلج کونسلز ، ویلج کونسل ایون (۱)،ویلج کونسل ایونII،ویلج کونسل رمبور ، ویلج کونسل بریر اور ویلج کونسل بمبوریت میں سیلاب زدہ اور زلزلہ زدہ تباہ حال دیہات ،ندی نالوں ،لنک روڈز کی بحالی انتہائی

محدود فنڈز کی بناء پر تاحال ممکن نہیں ہوئی ہے ۔ لہذا ان ویلج کونسلز کے انتظامیہ کو مرکزی حکومت خصوصی گرانٹ کی منظوری کریں تاکہ ویلج کونسلز انتظامیہ اپنے ممبران کے مشورے سے بحالی کا کام اپنے صوابدید پر کرسکیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

صد ا بصحرا…مجبوریاں ہی مجبوریاں 

وطنِ عزیز پاکستان کا معاشرہ مجبوریوں سے بھرا ہوا ہے ۔ ہر طرف مجبوریاں ہی ...


دنیا بھر سے