تازہ ترینمحمد شریف شکیب

افسری کا سنہرا دور

………محمد شریف شکیب……

خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری دفاتر میں افسروں اور ماتحت اہلکاروں کے دیر سے آنے اور میٹنگ کا بہانہ کرکے غائب ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے محکموں میں سرکاری اہلکاروں کا قبلہ درست کریں۔لگتا ہے کہ اب سرکاری ملازمت کی عیاشیوں کے دن بھی گنے چنے رہ گئے ہیں۔ قومی وسائل پر پلنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی اب صبح نو بجے دفتر پہنچنا اور ٹھیک چار بجے کرسی سے اُٹھنا ہوگا۔اپنے مسائل کے پلندے اٹھائے سرکاری دفاتر آنے والے سائلوں سے ملاقات بھی کرنی ہوگی اور ان کے مسائل بھی حل کرنے ہوں گے۔ لیکن فی الحال یہ سب کچھ شیخ چلی کا خواب ہے جس کی تعبیر آنے والا وقت ہی بتائے گا۔افسروں نے ان احکامات کا بلاشبہ بہت برا منایا ہوگا۔ کیونکہ جب اٹھارہ بیس گریڈ کے افسر کو بھی صبح نو بجے دفتر پہنچنا پڑے تو چپڑاسی ، کلرک اور افسر میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ نامور مزاح نگار مشتاق یوسفی کہتے ہیں کہ بینک میں ملازمت ملنے کے بعد جب وہ پہلے دن گیارہ بجے دفتر پہنچے تو انگریز منیجر کو دفتر میں اپنا منتظر پایا۔گڈ مارننگ کے جواب میں انگریز افسر نے گڈ آفٹر نون کہا تو ان کے غصے کا اندازہ ہوگیا۔ جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ آٹھ بجے جب بینک کھلا تھا تو وہ صبح کے سلام کا وقت تھا ۔تین گھنٹے بعد سورج سر پر آگیا اور دوپہر ہوگئی۔ اور تم صبح کے سلام کی آڑ میں اپنی کام چوری چھپانے کی کوشش کر رہے ہو۔انگریز افسر کا کہنا تھا کہ لندن میں منفی آٹھ سینی گریڈ سردی میں بھی لوگ ٹھیک آٹھ بجے دفتر پہنچتے ہیں۔ ہندوستان میں تیس سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باوجود دفتر پہنچنے میں تین گھنٹے کی تاخیر سراسر کام چوری ہے۔ مشتاق یوسفی کہتے ہیں کہ پہلے ہی دن کی بے عزتی نے میرا قبلہ درست کردیااورریاضی میں ہمیشہ تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے کے باوجود بینک کے حساب کتاب میں ماہر ہوگیا۔فرائض منصبی کی ادائیگی میں باقاعدگی کا یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ بندہ اپنے کام میں مہارت حاصل کرتا ہے۔لیکن ہمارے سرکاری ملازمین کا موقف ہے کہ اگر میڈیا ہاوسز، فیکٹریوں، کاروباری اداروں اور غیر سرکاری محکموں کے ملازمین کی طرح کام کرنا ہے تو اپنے سینے پر سرکاری ملازم ہونے کا بیچ لگانے کا کیا فائدہ ہے۔ ہمارے ہاں جو افسر اپنے ماتحت عملے اور ملاقاتیوں کو جتنا زیادہ انتظار کرواتا ہے اور فائلوں کو جتنی زیادہ دیر تک اپنے میز پر روکے رکھتا ہے۔ وہ اتنا ہی بڑا افسر کہلاتا ہے۔ ہمارے افسران رات کے آخری پہر تک کھانے کھلانے اورپینے پلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ تھک ہار کر صبح کاذب کے وقت بستر پر پڑتے ہیں دن چڑھے ہی آنکھ کھلتی ہے۔ قریبی دوست احباب ناشتے کی میز پر ملاقات کے لئے آتے ہیں۔ ان سے فراغت کے بعد کپڑے بدل کر دفتر پہنچنے میں بارہ ایک تو بج ہی جاتے ہیں۔ دفتر میں بھی بے پناہ مصروفیات کے بکھیڑے ہوتے ہیں۔ وزیروں سے ملنا ہوتا ہے ۔اپنے سے بڑے افسروں کو سلام کرنے جانا ہوتا ہے۔ کچھ دوست اور رشتہ دار یونہی ملنے دفتر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سرکار کا کام تو چلتا رہتا ہے۔ بندہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کٹ کر تو نہیں رہ سکتا۔ اس دوران کوئی سائل بن کر آجائے تو اسے ’’ صاحب میٹنگ میں ہے‘‘ کا بہانہ کرکے ٹرخایاجاتا ہے۔ کوئی ڈھیٹ قسم کا سائل اگر صاحب کے فارع ہونے کے انتظار میں بیٹھا رہے تو صاحب کے نورتن لوگوں کی نظروں سے بچا کر پتلی گلی یا پچھلے دروازے سے انہیں نکال دیتے ہیں۔ جب افسر ہی دفتر میں موجود نہ ہو۔ تو ماتحت عملے کا دفتر میں بیٹھنے کا کیا فائدہ۔ اس لئے وہ بھی چادر کرسی پر ڈال کر وضو کرنے، نماز پڑھنے اور کھانا کھانے کے بہانے سرک جاتے ہیں۔ خدانخواستہ افسر بھولے سے دفتر واپس آجائے تو کرسی پر پڑی چادر اس بات کی گواہی ہوتی ہے کہ بندہ دفتر میں موجود ہے۔ سرکاری دفاتر میں حاضریوں کے لئے بائیو میٹرک نظام آنے کی وجہ سے ملازمین پریشان تھے۔ کہ ساتھیوں سے حاضری لگوا کر غائب ہونے کی عیاشی ختم ہوگئی۔ اب صبح نوبجے دفتر پہنچنے کے فرمان شاہی نے ملازمین کی رات کی نیندیں بھی اُڑادی ہیں۔ تاہم انہیں یک گونہ اطمینان یہ ہے کہ حکومت انہیں مقررہ وقت پر دفتر پہنچنے کا پابند تو بناسکتی ہے لیکن دفتر میں بیٹھ کر کام کرنے ، فائلیں نمٹانے اور عوامی مسائل حل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔کیونکہ ان کے پاس اس ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کرنے کا قانونی حق موجود ہے۔ جسے آئے روز ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس، اساتذہ ، لیکچررز، پروفیسرز، کلرکس اور دیگر سرکاری ملازمین کامیابی سے بروئے کار لاتے رہے ہیں۔اس لئے عوام کا زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کہ سرکار نے سرکاری ملازمین کو ایمانداری سے فرائض منصبی کی ادائیگی کا پابند بنا ہی لیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق