مکتوبِ چترال…بجلی کے بلوں کا مسئلہ – Chitral Express

صفحہ اول | مضامین | بشیر حسین آزادؔ | مکتوبِ چترال…بجلی کے بلوں کا مسئلہ
Premier Chitrali Woolen Products

مکتوبِ چترال…بجلی کے بلوں کا مسئلہ

چترال میں بجلی کے بلوں کا مسئلہ گذشتہ دوسالوں سے بہت گھمبیر ہوگیا ہے پیسکو کے مقامی دفتر میں میٹر ریڈر کی پوسٹیں خالی ہیں۔میٹر ریڈر نہ ہونے کی وجہ سے میٹروں کی ریڈنگ لئے بغیر اندھا دھند بل بھیج دئیے جاتے ہیں۔اگر میٹر285یونٹ دکھا رہا ہے تو بل 110روپے آتا ہے۔اگر میٹر 56یونٹ دکھاتا ہے تو بل پر30ہزار روپے لکھ کر بھیج دیا جاتا ہے۔گویا اندھے کی لاٹھی ہے۔چترال کے صارفین بجلی نے کئی بار پیسکو حکام سے اپیل کی ہے کہ چترال میں میٹر ریڈر کی خالی پوسٹوں کو پُر کیا جائے اور میٹر کے مطابق بِلنگ کا طریقہ رائج کیاجائے مگر پیسکو نے چترال کے عوام کی فریاد نہیں سُنی۔اب صورت حال یہ ہے کہ ABCکے گھر پر ایک سال سے تالہ لگا ہوا ہے۔زیروبلب بھی نہیں جلتا۔اب اس کو دو لاکھ روپے کا نادہندہ بنایا گیا ہے۔ایکس وائی زی بیوہ ہے گھر میں تین چھوٹے بچے ہیں۔چار بلب جلتے ہیں۔نہ فریج،نہ آئرن،نہ گیزر نہ پنکھا،اس کا بل ہرماہ 7ہزار روپے سے زیادہ آتا ہے۔اسی طرح ہمارے کئی دوستوں کو گھر کی معمولی روشنی کا بل20ہزار روپے اور30ہزار روپے آتا ہے۔پچھلے سال ناجائز بلوں کے خلاف صارفین نے کنزیومر کورٹ سے رجوع کیا۔کورٹ نے سمن جاری کیا تو پیسکو والے حاضر نہ ہوئے،جج نے وارنٹ گرفتاری جاری کرکے پیسکو حکام کو بلایا اور حساب کتاب کے بعد صارفین کا مسئلہ حل کیا ۔اب چترال ٹاون کے60ہزار گھریلو 20ہزارکمرشل اور ایک ہزار دفتری صارفین کنزیومر کورٹ سے رجوع کرینگے۔تو پیسکو حکام کو ہر روز عدالت میں پیش ہونا پڑے گا اس سے بہتر یہ ہے کہ میٹر ریڈر بھرتی کرکے میٹر ریڈنگ کے مطابق بل بھیجدیں اور سابقہ غفلت کا مرتکب ہونے والے میٹر ریڈروں کا نوٹس لیکر ریڈنگ کیئے بغیر صارفین کو بھیجے گئے بلوں میں ہزاروں اور لاکھوں روپے کے بلوں پر نظر ثانی کیجائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستان تحریک انصاف تحصیل دروش کا الگ کابینہ قیام عمل میں لا یا گی۔ سمیع اللہ صدر منتخب

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس) مورخہ 22 فروری کو سی اینڈ ڈبلیو ریسٹ ہاؤس دروش میں تحصیل ...