تازہ ترین

ایک ارب درخت کا ڈھونگ لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ہے،فیصل کنڈی

کراچی (ٹی وی رپورٹ) کے پی کے میں سیاسی معاملات کو چھوڑ کر کسی جگہ پر امپرومنٹ نظر آتی ہے ،احتساب کے معاملے پر کے پی کے میں پیش رفت ہوئی کہ نہیں ،تعلیمی معیار کے پی کے میں کیسا ہے اور پولیس کا نظام جس کی تعریف کی جاتی ہے کیا واقعی ایسا ہے یہ کہنا تھا جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ ‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے میزبان طلعت حسین کا ان کا مزید کہنا تھا کہ معاملہ اٹک کے اس پار حکومت کا ہے جس کے مطابق خیبر پختونخوا کے اندر بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے،شفاف حکومت کے قیام کے ساتھ یہاں پر ہرے بھرے درخت بھی لگے ہوئے ہیں ، خیبر پختونخوا میں فرانزک لیبارٹری کو قائم ہوئے 3سال ہوگئے لیبارٹری کے قیام پر تقریباً 4کروڑ روپے لگے تاہم ماہرین کی تعیناتی میں تاخیر اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث لیبارٹری میں ابھی تک کام کا آغاز نہیں ہوسکا ہے۔زینب کیس سے پنجاب پولیس کی کارکردگی کو جانچا گیا تو رائو انوار کیس سے سندھ پولیس کی کارکردگی کو جانچا جارہا ہے،ڈیرہ اسماعیل خان میں شریفاں بی بی بے حرمتی کیس میں تاحال مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہے اس سے کے پی کے پولیس کی کارکردگی جانچی جاسکتی ہے پھر اس پر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے کرائم کا قلع قمع کیا اور پولیس بڑی موثر ہے جس پر عنایت اللہ خان رہنما جماعت اسلامی کا پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت میں کافی ترقی ہوئی ہے جس سے انکار ممکن نہیں یونیورسٹیز بنی ہیں ، سو سے زائد کالجز بنے ہیں ، اسکول بنے ہیں اسکولوں کے اندر جو سہولتیں ہیں ان میں اضافہ کیا گیا ہے ، میگا پروجیکٹ بھی ہوئے ہیں۔بلین ٹری کے حوالے سے تنقید ہورہی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لئے ادارہ نیب موجود ہے۔احتساب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو کرپشن کے معاملات تھے ان پر انکوائریز ہوئی ہیں ، تمام فیصلے میرٹ پر ہورہے ہیں۔ میں اپنے حلقے کی بات کروں تو وہاں پر پہاڑوں میں جو اسکول ہیں وہاں بھی ٹیچر موجود ہیں ، ڈاکٹر بھی یہاں پر موجود ہیں ۔ ادارے پلڈاٹ ، گیلپ جو سروے کرتے ہیں ان کے پاس تمام معلومات دستیاب ہیں،لوگوں کی رائے موجود ہے ۔ کے پی کے کی حکومت کی کافی چیزوں کے اندر بہتری موجود ہے ۔ تعلیمی حوالے سے بڑے پیمانے پر ٹیچرز اب موجود ہیں ،بڑے پیمانے پر میٹرک میں بچے فیل نہیں ہوئے ہیں ۔ وائٹ کالر کرائم پرسابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر سخت تحقیقات ہوجائے تو شاید سپریم کورٹ کو اتنے سوموٹوایکشن نہ لینے پڑیں ، عدالتیں ایک حد تک جاسکتی ہیں خود تو تحقیقات نہیں کرسکتی ہیں اسی لئے ضروری ہے کہ انویسٹی گیشن کرنے والے اداروں کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے ۔فیصل کریم کنڈی رہنما پیپلز پارٹی نےکہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا ڈھونگ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ہے، یہاں پر پی ٹی آئی کا نمائندہ ہونا چاہئے تھاان سے جوابات ملتے تو بہتر ہوتا۔عمران خان یہ ایک بلین درخت لگانے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن یہ بتاسکتے ہیں کہ ایک درخت کو لگانے کے بعد دوسرا درخت لگانے کے درمیان جو فاصلہ ہوتاہے اس کے لئے انہوں نے کتنی زمین حاصل کی ہے ۔ یہ سارا ڈھونگ ہے جو لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے رچایا جارہا ہے ، 9یونیورسٹیز تو ہمارے دور حکومت میں تھیں، پی ٹی آئی نے کتنی قائم کیں ،سرکاری اسکول تو بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن یہ بھی بتائیں کہ ان اسکولوں میں کیا کسی منسٹر نے اپنے بیٹے یا بیٹی کو داخل کرایا،اگر یہ اسکول بہتر ہوگئے ہیں تو اس میں وہ اپنے بچوں کو داخل کیوں نہیں کرادیتے ۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار یہ ہے کہ ان کے اپنے ہی ایک وزیر کی بیٹی گزشتہ روز ایک سرکاری اسپتال میں دم توڑ گئی اور وہ وزیر عمران خان کو ایس ایم ایس کررہا ہے کہ یہ آپ کے اسپتال کا حال ہے کہ ایک وزیر کے ساتھ یہ ہورہا ہے اور یہ بات آن ریکارڈ ہے ۔ پی ٹی آئی ہمیں کہتی ہے کہ ہم چور ہیں ، نیب کدھر گیا کیوں نہیں ہمیں گرفتار کرواتے ۔یہ اسٹیج پر کھڑے ہوکر نعرے تو بہت لگاتے ہیں لیکن ڈی آئی خان میں شریفاں بی بی کی بے حرمتی کرنے والے مرکزی ملزم سجاول کو ابھی تک گرفتار نہیں کرسکے ہیں پچھلے دس دن میں ڈی آئی خان میں 7 سے 8 ٹارگٹ کلنگ ہوچکی ہیں اس پر ابھی تک نہ ہی عمران خان اور ناں ہی چیف منسٹر کے پی کے کا کوئی بیان آیا ہے اور ان شہداء کے ورثا اب مجبو رہوکر بنی گالہ کے باہر دھرنا دینے جارہے ہیں ۔ کے پی کے میں دو منسٹر شہید ہوئے ہیں لیکن بتائیں کیا قاتل پکڑے گئے ہیں ۔ یہ صرف سندھ ، پنجاب میں کھڑے ہوکر نعرے لگاتے ہیں کہ ہم نے کے پی کے میں یہ کرلیا لیکن یہ ثبوت تو دیں کہ کیا کردیا ہے انہوں نے ۔ انہوں نے تو کے پی کے کو تباہ کردیا ہے ۔ رہنما مسلم لیگ ن انجینئر امیر مقام کا اس حوالے سے اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ کے پی کے میں کس نے کتنا کام کیا ہے اس کا جواب سب کو ہونے والے الیکشن میں مل جائے گا اوراس کا جواب بھی کے پی کے عوام ہی دیں گے ۔ عمران خان کو جو ماضی میں ووٹ ملا اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے 90 دن میں احتساب کا وعدہ کیا تھا ، سب کو سامنے لانے کا اور لٹکانے کا بھی کہا تھا لیکن اب سوال یہ ہے کہ عمران خان کا احتساب کمیشن کدھر ہے ، کتنے لوگوں کا احتساب کیا گیا ہے ۔ طلعت حسین کے سوال کہ احتساب تو عمران خان نے نہیں پرویز خٹک نے کرنا تھا جس کے جواب میں امیر مقا م کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نمائندے تو عمران خان کے ہی ہیں ناں ان کو خطاب بھی نمبر ون وزیراعلیٰ کا عمران نے ہی دیا ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر ایک شخص ٹھیک کام نہیں کررہا تو اس کو ہٹا کر دوسرا لایا جائے لیکن عمران خان ایسا نہیں کررہے اس لئے اس کی ذمہ داری بھی عمران خان پر آتی ہے ۔کے پی کے میں تعلیم کا حال یہ ہے کہ 70 فیصد لوگ میٹرک کے امتحانات میں فیل ہوئے ہیں۔ دوسرے سیگمنٹ میں وائٹ کالر کرائم پرسابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ کالر کرائم پر میرا تجربہ یہ رہا ہے کہ بہت سارے ایسے کیسز جہاں پر لوگ غائب ہوگئے یہ شک بھی ہے کہ وہ قتل ہوگئے ان کی بھی تحقیقات نہیں ہورہی ہیں ۔ مجھے تو حیرانی اس بات کی ہے کہ جب عدالتوں میں جاتے ہیں تو وہی تحقیقاتی افسر جس نے چھ سال پہلے جو بات کہی ہوتی ہے تحقیقات وہیں تک ہوتی ہے اگر سخت تحقیقات ہوجائے تو شاید سپریم کورٹ کو اتنے سوموٹوایکشن نہ لینے پڑیں ، عدالتیں ایک حد تک جاسکتی ہیں خود تو تحقیقات نہیں کرسکتی ہیں اسی لئے ضروری ہے کہ انویسٹی گیشن کرنے والے اداروں کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے او راس سے زیادہ ضروری ہے کہ ان کے دل سے یہ خوف اور ڈر نکالا جائے کہ ان کی درست تحقیقات پر کوئی ان کے پیچھے لگ جائے گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق