ویلنٹائن ڈےاورہمارامسلم معاشرہ – Chitral Express

صفحہ اول | تازہ ترین | ویلنٹائن ڈےاورہمارامسلم معاشرہ
Premier Chitrali Woolen Products

ویلنٹائن ڈےاورہمارامسلم معاشرہ

……….تحریر: عبدالصمدآکاش……

ہر سال 14فروری کو دنیا کے بیشتر ممالک بشمول مسلم ممالک میں ویلنٹائن ڈے بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن سے منسوب کئی تاریخی روایات موجود ہیں ۔ایک مشہورروایت کے مطابق سلطنتِ روم میں بادشاہ کو اپنے مخالف کے خلاف فوجی لشکر میں فوج بھرتی کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس نے دیکھا کہ فوج میں بھرتی ہونے کے لئے کوئی رضامند نہیں ہے اور بادشاہ نے وجہ معلوم کی تو پتہ چلا کہ لوگوں کی رغبت اپنے اہل وعیال کی طرف زیادہ ہے تو بادشاہ نے شادی بیاہ پر پابندی لگا دی۔ ایک پادری جس کا نام سینٹ ویلنٹائن تھا بادشاہ کے حکم کو نظر انداز کر تے ہوئے چھپ چھپا کر لوگوں کی شادیاں کراتا رہا اور یہ بات بادشاہ تک پہنچی تو اس نے اُس پادری کو جیل میں مقید کیا ۔ اس اسیری کے دوران پادری پر جیلر کی بیٹی اسٹریس ( Asterius) فریفتہ ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد پادری کو پھا نسی کی سز اہوئی اور سولی پر لٹکا دیا گیا۔ سولی پر لٹکائے جانے سے پہلے اس پادری نے اُس لڑکی کو ایک الوداعی خط لکھا جس کے اخر میں پادری کے دستخط کے ساتھ یہ الفاظ درج تھے’’your valentine ‘‘ یہ واقعہ 14فروری 279ء ؁ کا بتلایا جاتا ہے ۔ سینٹ ویلنٹائن اور اُس کے محبوبہ سے اظہارعقیدت کے لئے اس کے پھانسی کے مقام پر ہر سال عقیدت کے پھول چڑھانا شروع کردئیے جو رفتہ رفتہ جشن بنتا چلاگیا ۔اسی دن کی مناسبت سے 14فروری کو نوجوان لڑکے لڑکیاں ، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ایک دوسرے کو عشق و محبت کے اظہار و تجدید کے لئے مبارکبادی کے سرخ رنگ کے کارڈز، تحائف او ر پھول پیش کر تے ہیں۔
بیشتر مسلم ممالک میں بھی یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح نوجوان نسل اور مغرب زدہ طبقات میں پزیرائی حاصل کر چکا ہے اس کی توقع ایک اسلامی معاشرے میں نہیں کی جاسکتی۔ کئی مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی مغرب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس دن کو جشن کے طور پر مناتے نظرآئیں گے یہ رسم ہماری مسلم معاشرے کا حصہ بن چکی ہے۔ جس میں امتِ مسلمہ کے بیٹے اور بیٹیاں ذوق و شوق سے اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور اس کو بڑے فخر سے اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر موبائل فون، ای میل، فیس بک، ٹوئٹر اور دوسرے سوشل میڈیا کے نیٹ ورک پر آپ کو بے شمارغیر اخلاقی تصاویراورپیغامات دیکھنے کو ملیں گے۔ پرنٹ میڈیا ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اور اس مغربی تہذیب کو اس قدر فروغ دیا کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کی اولادیں بھی اس کا شکار ہوگئیں۔ افسوس صد افسوس! آج ہمارے مسلم معاشرے میں حیا اور پاکدامنی جو گناہوں سے بچنے کا ایک مسلمان کے پاس موثر ہتھیار تھا اس کا جنازہ نکلنے لگا ہے ۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ
’’جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا قیامت کے دن وہ اُسی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا‘‘
کاش! مسلم معاشرے میں نوجوان طبقوں میں اپنی دینی اور اخلاقی اقدار کی سمجھ بوجھ ہوتی ۔ کیا ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان لڑکا یا لڑکی کسی غیر محرم کے سامنے اپنے عشق و محبت کے جذبات کا اظہار کرے؟ ہر گز نہیں ۔ کیا ایک جوان بیٹا یا بیٹی کو یہ زیب دیتی ہے کہ غیر محرم سے تعلق قائم کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ناراض اور شیطان مردود کو خوش کرے؟ کیا ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ غیروں کی تہذیب کو سینے سے لگا کر اپنے اسلامی اقدار اور ثقافت کو پسِ پشت ڈال دیں؟ اور ہاں اگر آج ہم کسی دوسرے کی بہن یا بیٹی کیساتھ گھومنے میں تفریح محسوس کرتے ہیں تو پھر کل ہم اپنی بہن یا بیٹی کو پارکوں چوراہوں، سڑکوں او ر کلبوں کی زینت بننے سے روک سکیں گے؟ بد بختی دیکھئے یہ رسم ہمارے معاشر ے میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ اس مہینے میں خصوصاً 14 فروری کو مسلم نوجوان غیر محرم جوڑے شادی کی ارزو کرتے ہیں۔
اسلام دین فطرت ہے۔ اسلام نے محبت پر کوئی قدغن نہیں لگائی بلکہ محبت اللہ اور اللہ کے رسول سے ہو اوردینی تعلیمات کی روشنی میں والدین، بھائیوں، بہنوں، اولاد اور نیک لوگوں سے ہو۔اسلامی تعلیمات کے ہوتے ہوئے مغرب کی تقلیدکرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ آئیے ایک مسلمان قوم ہونے کے ناطے اس قبیح رسم کو منانے کے بجائے اس کا بائیکاٹ کر کے اپنے اسلامی تہذیب وثقافت کی پیروی کریں تا کہ مسلم معاشرے سے ویلنٹائن ڈے جیسی حیا سوز تہوار کا خاتمہ ہو سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

پاکستان تحریک انصاف تحصیل دروش کا الگ کابینہ قیام عمل میں لا یا گی۔ سمیع اللہ صدر منتخب

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس) مورخہ 22 فروری کو سی اینڈ ڈبلیو ریسٹ ہاؤس دروش میں تحصیل ...