تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…..ٹیکس چھوٹ کا ناجائز فائدہ

چند سال پہلے گدون امازی انڈسٹریل سٹیٹ کے حوالے سے یہ باتیں گردش کررہی تھیں کہ باہر سے آنے والے سیاستدانوں نے ٹیکس چھوٹ کا فائدہ اُٹھا کر کارخانے قائم کئے، کارخانوں پر بھاری قرضے آسان شرائط پر حاصل کئے اور پھر کارخانے اُٹھا کر لے گئے قرضے بھی معاف کرائے اب ملاکنڈ ڈویژن کے حوالے سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ باہر کے لوگوں نے ٹیکس چھوٹ کا فائدہ اُٹھا کر اس ڈویژن پر کاروباری حملہ کر رکھا ہے با خبر حلقوں نے رپورٹ دی ہے کہ ملاکنڈ کے ایک قصبہ درگئی میں سکریپ کی 20سے زیادہ فیکٹریاں لگائی گئی ہیں ان فیکٹریوں کی دھوئیں سے آٹھ مہلک بیماریاں پھیل چکی ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک کینسر ہے حکومت ان فیکٹریوں کو کسی قانون اور قاعدے کے تحت کنٹرول نہیں کرتی کارپوریٹ سوشل اسیباسی بیلٹی کا تصور ہمارے ہاں بالکل ناپید ہے کوئی کارخانہ دار اور سرمایہ دار سماجی ذمہ داری قبول نہیں کرتا نہ عوام کے حق میں اور نہ اپنے ملازمین یا مزدوروں کے حق میں وہ سماجی ذمہ داری نبھانے کو تیا ر ہے اگر درگئی کو ماڈل بنا کر ملاکنڈ ڈویژن کے قصبوں کا جائزہ لیا جائے تو ہر قصبے میں ٹیکس چھوٹ کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کی لمبی قطار نظر آتی ہے ملاکنڈ کے دردمند شہریوں نے سینئر وکلاء کے توسط سے ایک رٹ پٹیشن کی تیاری پر کام شروع کیا ہے رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا جائے گاکہ ملاکنڈ کو ٹیکس فری زون قرار دینے کا فائدہ غریب عوام کو نہیں پہنچتا ملاکنڈ کے چھوٹے کاروباری تاجروں کو بھی نہیں پہنچتااس کا فائدہ باہر سے آنے والے بڑے مگر مچھوں کے حصے میں آتا ہے سینئر وکلاء کے پینل نے جو اعداد وشمار جمع کئے ہیں ان اعداد و شمار کی رُو سے ملاکنڈ کا غریب شہری جنرل سیلز ٹیکس کے نام سے ماچس پر ٹیکس دیتا ہے نسوار پر ٹیکس دیتا ہے ایزی لوڈ پر ٹیکس دیتا ہے چائے کی پیالی، شربت کے گلاس اور کاغذ کے لفافے پر ٹیکس دیتے ہیں ہر چھوٹے بڑے سودے پر ٹیکس دیتے ہیں ٹیکس میں چھوٹ کا کوئی فائدہ غریب شہری کو نہیں ہوتادولت مند اور امیر شہری کو ہوتا ہے یہاں تک کہ نان کسٹم پیڈ گاڑی والا بھی غریب سے کرایہ لیتے وقت رتی برابر رعایت نہیں کرتاوہ بے رحمی سے اپنا کرایہ وصول کرتا ہے درد مند شہریوں نے رٹ پٹیشن کے ذریعے عدالت عالیہ کی توجہ چار امور کی طرف مبذول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے عدالت عالیہ سے استدعا کی جائیگی کہ ملاکنڈ میں ٹیکس کا فائدہ باہر سے آنے والوں کو قطعََا نہ دیا جائے عدالت کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی جائیگی کہ این سی پی گاڑیوں کا کرایہ50 فیصد کم رکھا جائے ، عدالت سے یہ بھی درخواست کی جائیگی کہ ٹیکس چھوٹ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کا محاسبہ کر کے ان سب کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو ملاکنڈ ڈویژن کے بنیادی اور اصلی شہری ڈومیسائل حقدار نہیں ہیں عدالت سے یہ بھی استدعا کی جائیگی کہ سکریپ کارخانوں کی وجہ سے جو آلودگی اور جتنی بیماریاں پھیلتی ہیں ان کے حساب سے کارخانہ مالکان کو نقصانات کے ازالے کا پابند کیا جائے، تاکہ ٹیکس چھوٹ کا کوئی ناجائز فائدہ نہ اُٹھا سکے ملاکنڈ کے درد مند شہریوں نے ایک سروے بھی کرایا ہے جس میں 8مہلک بیماریوں کی وجوہات میں سکریپ کے دھوئیں سے پھیلنے والے کینسر کا بطور خاص حوالہ دیا گیا ہے یہ امر تشویشناک ہے کہ ہماری حکومت کی طرف سے دی گئی مراعات کا زیادہ فائدہ ملاکنڈ سے باہر کے لوگوں کو ہورہا ہے فاٹا کو جو مراعات ملتی ہیں ان سے بھی باہر کے لوگ مستفید ہورہے ہیں 1990 کے عشرے میں ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ نے پروفیشنل کالجوں میں پسماندہ علاقوں کے لئے مخصوص سیٹوں پر داخلے کے لئے انہی علاقوں میں پڑھنے والے اُمیدواروں کو اہل قرار دیا تھا ورنہ اسلام آباد ، لاہور اور کرااچی میں تعلیم حاصل کرنے والے اُمیدوار ڈومیسائل کی بنیاد پر کوٹہ حاصل کرتے تھے یہی اصول ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس فری کا رخانے لگانے والوں کے لئے بھی ہونا چاہیئے ورنہ یہ لوگ دھواں اور بیماریاں درگئی کو دے کر منافع باہر لے جاتے رہینگے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق