صدابصحرا ……نصاب پرنظرثانی  – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

صدابصحرا ……نصاب پرنظرثانی 

زبردست خبر آگئی ہے ۔ سعودی عرب اور امریکہ نے مل کر مسلمانوں کے تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میڈیا پر ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ امریکہ نے عالمی سطح پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سعودی عرب کا تعاون حاصل کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے مل کر ایسا منصوبہ تیا ر کیا ہے جو دہشت گردی کوختم کرنے میں مدد دے گا۔ امریکی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کے ذمہ دار ’’ صرف مسلمان ہیں‘‘ اور مسلمانوں کو دہشت گرد بنانے میں اُن کے ’’ تعلیمی نصاب ‘‘ کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس لئے امریکی حکام نے برائی کو اس کی جڑ یعنی نصابِ تعلیم سے اکھاڑ پھینکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروین شاکر نے کہا’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ یہاں رسوائی کی بات یہ ہے کہ امریکیوں نے 1978ء میں سعودی عرب کی مدد سے افغانستان سے ترک وطن کرنے والے افغانیوں کی تعلیم کا نصاب مرتب کیا تھا۔ اس نصاب میں چار بنیادی باتیں ڈالی گئی تھیں ۔ پہلی بات یہ تھی کہ مسلمان وہ ہے جو بندوق چلاتا ہے ۔ دوسری بات یہ تھی کہ مسلمان وہ ہے جو دشمن کو قتل کرنے کے لئے نکلتا ہے۔ اس میں تیسری بات یہ تھی کہ مسلمان دشمن کے مقابلے میں مرجائے تو شہید ہے۔ دشمن کو قتل کر کے واپس آئے تو غازی اور مالِ غنیمت کا حقدار ہے۔ ان چار تعلیمات کو مکمل اسلام قرار دے کر افغانیوں کے بچوں کو پڑھایا جاتا تھا۔ یہ ایسا نصاب تھا جس میں ریاضی کا سبق بھی قتل کی مدد سے پڑھایا جاتا تھا۔ ایک مجاہد نے چار دشمنوں کو قتل کیا ہر دشمن کے پاس ایک بندوق اور 5دستی بم تھے۔ بتاؤ مجاہد کے پاس کتنے بندوق اور کتنے دستی بم جمع ہوگئے؟ریاضی کا ایک سوال یہ بھی تھا کہ 4مجاہدین نے دشمن کے کیمپ پر حملہ کر کے 20بندوقیں 100دستی بم اور 2ہزار ڈالر کا مال غنیمت حاصل کیا۔ بتاؤ ہر مجاہد کے حصے میں کتنا مال آیا؟ 40 سال بعد امریکہ کو احساس ہوگیا ہے کہ ہم سے نصابی کتابوں کی تدوین میں غلطی ہوگئی۔ 1978ء میں بھی سعودی عرب کے ماہرین نے قرآن و حدیث سے جہاد کے احکامات چُن کر افغانیوں کے نصاب میں شامل کئے تھے۔ 40سال گذرنے کے بعد امریکہ نے پھر سعودی عرب کی مدد سے نصاب پر نظر ثانی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مگر یہ نصاب افغانیوں کے لئے ہوگا۔ شام کی حکومت کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے لئے نہیں ہوگا؟نئے نصاب کے نمایاں خدوخال کیا ہونگے؟اس کا اندازہ تعارفی بیان سے ہوتا ہے۔ تعارفی بیان میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ کو دہشت گردی پھیلنے سے تشویش لاحق ہوئی ہے۔ امریکی حکومت چاہتی ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے خطرے سے نجات دلائی جائے۔ اس مقصد کے لئے ہم اپنے سعودی عرب کی مدد سے نصاب تعلیم میں مناسب تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ اور ایسی تبدیلی لائینگے جو نئی نسل کو دہشت گردی کی جگہ امن ، بقائے باہمی ، رواداری ، تکثیریت اور عالمی انسان دوستی کی تعلیم ہے۔ چنانچہ امریکی ماہرین ریاض میں سعودی ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر نصاب سے جہادی آیتوں اور جہادی احادیث کے ساتھ جہاد سے متعلق تعلیمات کو نکال دینگے۔ ان کا اگلا ہدف شراب، خنزیر، سود اور زنا کے بارے میں اسلامی احکامات ہونگے۔ ان کا اگلا ہدف یقینََا ناموس رسالت اور ختم نبوت کے بارے میں اسلامی احکامات ہونگے۔ وہ ضرور یہ چاہیں گے کہ اس نصاب کو پڑھنے والی نسل نام کے لحاظ سے مسلمان ہو۔ کام کے لحاظ سے مسلمان نہ ہو۔ ظاہر ہے وہ لوگ پیسہ خرچ کر رہے ہیں ۔ دولت لٹا رہے ہیں ان کا مقصد بھی تو ہے جس کو حاصل کرنا ہے۔ 40سال پہلے وہ امریکی جنگ کے لئے ایندھن پیدا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے افغانیوں ، سعودیوں ، ازبکوں ، چیچنیوں اور پاکستانیوں کا چُن چُن کر جنگ کا ایندھن بنا دیا۔ ایک امریکی کے بدلے میں ایک سو مسلمان مارے گئے۔ افغان خانہ جنگی اور پاکستان کے اندر بد امنی ، دہشت گردی کی جنگ میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد ڈھائی لاکھ جبکہ امریکہ ، برطانیہ سمیت 29نیٹو ممالک سے آکر میدان جنگ میں کام آنے والے فوجیوں کی کل تعداد 2700ہے۔ ڈھائی لاکھ کے مقابلے میں دو ہزار سات سو کچھ بھی نہیں ہے۔ تجزیہ نگاروں کو امریکہ سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں کرنی چاہیئے ۔ مبصرین کو سعودی عرب سے کوئی گلہ نہیں کرنا چاہیئے ۔ محکوم قوموں کی اپنی مرضی نہیں ہوتی مسلمان محکوم اور مغلوب قوم ہے ۔ دوسروں کا آلہ کار بنتا ہے۔ مزدوری کرتا ہے۔ مزدوری ملتی ہے تو خوش ہوتا ہے۔ ایسے مزدوروں کا نصاب واشنگٹن اور لندن یا ریاض میں بنتا ہے۔ غیروں کی نگرانی میں غیروں کی مرضی سے بنتا ہے۔ علامہ اقبال نے سچ کہا
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

ٹنل کو ہر وقت ٹرانسپورٹ کے لئے کھلا رکھا جائے بصورت دیگر یونین راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔تریچ میر ڈرائیور ز یونین چترال

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) تریچ میر ڈرائیور ز یونین کے صدر صابر احمد صابرنے یونین ...