NTS,PMS,PCSکے امتخانات ، چترالی نوجوانوں کو درپیش مسائل اور ہمارے سیاسی نمائندے – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

NTS,PMS,PCSکے امتخانات ، چترالی نوجوانوں کو درپیش مسائل اور ہمارے سیاسی نمائندے

…………..محمد شریف خان (سابق صدر انصاف یوتھ ونگ چترال)……….

گزشتہ دنوں سوات میں خیبر پختونخواہ میں مختلف سرکاری اسامیوں کے لئے این۔ٹی۔ایس کے امتحانات سوات اور مردان میں منعقد کروائے گئے،KP میں صرف17000 اساتذہ کی اسامیوں کیلئے7 لاکھ لوگوں نے مختلف امتحانات میں شرکت کیں۔ ٹیسٹ کے مقام کے لئے سوات شہر کا انتخاب کیا، سوچ کر کیا گیا تھا یہ میں تو کم کم سمجھنے سے قاصر ہوں۔چترال سے بھی لاکھوں نوجوانوں نے اس موقع پر سوات کا رُخ کیا اور ایک کثیر تعداد Female Candidates کی بھی تھی اور اُنہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو سوات میں ہوٹل دستیاب ہی نہیں تھے اور اگر تھے بھی تو اُن کی قیمتیں اُن دنوں آسمان کو پہنچ گئی تھیں۔ ہر اُمیدوار نے دو سے تین اسامیوں کے لئے Apply کرنا تھا اس لئے سوات میں دو چار دن قیام لازمی تھا۔ اور ان دو چار دنوں میں ہر Candidate کے آنے جانے، رہائش اور کھانے پینے کاخرچہ کم از کم 50 سے 70 ہزار تھا۔ کیا اس صورت حال میں ہر بے روزگار نوجوان کے لئے بار بار NTS کے امتحان دینا ممکن ہے ؟ بہت سے نوجوان اس مشکل میں ایک بار بھی مالی مشکلات کی وجہ سے یہ ٹیسٹ Attend نہیں کر پاتے۔ سوات میں ،میں نے بہت سے چترالی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ٹھوکریں کھاتے دیکھا۔ اگر یہ امتحانات سوات کے بجائے پشاور میں بھی ہوتے تو زیادہ بہتر تھا۔ پشاور میں ایک تو چترالیوں کی ایک کثیر تعداد رہتی ہے اور Candidates اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بھی رہ سکتے تھے۔ اور ہوٹل وغیرہ بھی باآسانی اور مناسب قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں۔ ٹراسپورٹ اور دیگر سہولتیں بھی سوات سے کہیں بہتر ہیں۔ KPK کے باقی شہروں سے آئے ہوئے اُمیدوار کو تو خیر شام کو واپس اپنے اپنے گھروں کو جا سکتے تھے اور صبح کچھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد واپس ٹیسٹ کے لئے بھی پہنچ سکتے تھے؛ لیکن چترال سے آئے نوجوانوں کے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ چترال کے تمام سیاسی نمائندوں کی سیاسی ناکامی کا یہ سب سے بڑا مُنہ بولتا ثبوت ہے چاہے اُن کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو۔ MPA سلیم خان ہو، سردار حسین ہو یا کوئی اور سیاسی نمائندہ ہو، کیا وہ اس Issue کو Highlight کرکے چترال میں ایک ٹیسٹ سینٹر نہیں لا سکتے۔ اگر PMS, NTSیا PCS سینٹر چترال میں لانا اُن کے بس سے باہر والی بات بھی ہے تو کیا اُنہوں نے سیاسی پوائنٹ سکورینگ کے لئے ہی سہی، اس مسئلے پر کبھی بات کی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تمام سیاسی نمائندوں کو ہمارے اصل مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے۔MPA سلیم خان صاحب صوبائی اسمبلی میں ایک دہائی گزار چُکے ہیں۔ میں نے سوائے کروڑوں کے خیالی Projects پر بات کرنے کے علاوہ اُنہیں کبھی نوجوانوں کےGenuine مسائل پر بات کرتے یا اُنہیں حل کرنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل تمام سیاسی نمائندوں کو مل کر نکالنا چاہیے۔ کیونکہ یہ چترال کے تقریباََ ہر گھر کے نوجوان کا مسئلہ ہے۔ ہر بیٹے کا مسئلہ ہے اور ہر بیٹی کا مسئلہ ہے۔ چترال میں NTS سینٹر کا قیام ناگزیر ہے۔ چترال کے نوجوانوں کے لئے آئے روز سوات میں در بدر کی ٹھوکریں کھانا ممکن نہیں۔اس کے علاوہ اگر چترال میں ان امتحانات کا انعقاد کیا جائے تو یہ کوئی سرکار کے لئے کروڑوں اربوں کا پروجیکٹ نہیں ہے۔ باآسانی متعلقہ ٹیسٹ لینے والے اداروں کے چند لوگ چترال آکر کسی بھی سرکاری عمارت میں یہ امتحانات لے سکتے ہیں۔ تمام سیاسی نمائند ے خدارا اس مسئلے کا حل نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اگر اس حوالے سے اگر سیاسی نمائندے مشترکہ احتجاجی ریلی بھی نکالنا چاہیں تو تمام نوجوان سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ان کا ساتھ دینے لئے تیار ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

صد ا بصحرا…مجبوریاں ہی مجبوریاں 

وطنِ عزیز پاکستان کا معاشرہ مجبوریوں سے بھرا ہوا ہے ۔ ہر طرف مجبوریاں ہی ...


دنیا بھر سے