تازہ ترینمحمد شریف شکیب

پاکستان پھر واچ لسٹ پر

…………..محمد شریف شکیب…………
تازہ خبر آئی ہے کہ امریکہ نے منی لانڈرنگ کے معاملات میں کوتاہیاں برتنے پر پاکستان کو مالیاتی واچ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ہیدر نوئرٹ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو مالیاتی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تحریک پیش کی گئی ہے رواں ہفتے فرانس کے شہر پیرس میں اے ایف ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرار داد منظور کی جاسکتی ہے جس کے بعد پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر جانے اور بیرون ملک سے پاکستان آنے والی رقومات کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔پاکستان کو مالیاتی واچ لسٹ میں شامل کرنا ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا حصہ ہے۔ بھارت اور امریکہ یہ الزامات پاکستان پر لگاتے رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کے لئے کروڑوں اربوں روپے کے فنڈز بیرون ملک سے ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے پاکستان آتے ہیں اور یہاں سے بھی غیر قانونی طریقوں سے رقم بیرون ملک منتقل کی جارہی ہے اور حکومت نے دانستہ طور پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔پاکستان کے دشمنوں اور مخالفین کے الزامات اپنی جگہ۔۔ تاہم اس حقیقت سے سرمنہ انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ غیر قانونی اور خفیہ طریقوں سے بھاری رقومات کی ترسیل کا سلسلہ یہاں برسوں سے جاری ہے۔ متحدہ عرب امارات کے محکمہ خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے 55بڑے دولت مندوں نے 60ارب روپے یو اے ای منتقل کئے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ رقم بینکوں کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی جاتی تو کروڑوں روپے ڈیوٹی کی مد میں ادا کرنی پڑتی۔ جبکہ خفیہ طریقے سے رقم منتقل کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ خرچہ بھی کم آتا ہے اور رازداری بھی قائم رہتی ہے۔ صرف عرب امارات میں پاکستانیوں کی اتنی دولت پڑی ہے تو لندن، امریکہ ، کنیڈا، پانامہ،ہانگ کانگ اور دیگر ممالک میں پاکستان کی کتنی دولت پڑی ہوگی۔معاشی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ بیرون ملک بینکوں میں پڑی پاکستانیوں کی دولت اگر ملک واپس لائی جائے تو پاکستان کے تمام غیر ملکی قرضے ختم ہوسکتے ہیں ۔ اربوں ڈالر کے یہ اثاثے ہنڈی، حوالہ اور دیگر طریقوں سے ہی بیرون ملک پہنچائے گئے۔ جہاں ان پیسوں سے جائیدادیں، تجارتی مراکز، رہائشی فلیٹس، محل نما بنگلے اور آف شور کمپنیاں بنائی گئیں۔ پانامہ لیکس نے صرف ایک چھوٹی سی ریاست میں سینکڑوں پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ پاکستان سے یہ دولت باہر لے جانے والوں میں سابق و موجودہ حکمران، اراکین سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلی، جاگیر دار، صنعت کار، اعلیٰ سرکاری افسراں ، تاجر، برآمد کنندگان، جج، جرنیل، صحافی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے کرپٹ افراد شامل ہیں۔مالیاتی واچ لسٹ میں نام شامل کرنے سے پاکستان کی ساکھ تو مجروح ہوگی تاہم یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ پاکستان کو 2012سے 2015تک مالیاتی واچ لسٹ میں رکھا گیا تھا۔واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے یہ تو پتہ چلے گا کہ دہشت گردوں کے لئے کہاں کہاں سے اور کتنی رقم پاکستان آرہی ہے۔ اور ہماری خفیہ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کیسے چکمہ دیا جارہا ہے۔ واچ لسٹ میں نام آنے سے یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ پاکستان سے کس نے کتنی رقم ہنڈی اور حوالے کے ذریعے باہر منتقل کی۔کس ملک میں پاکستانیوں کی کتنی دولت پڑی ہے۔ اگر واچ لسٹ کے ذریعے قومی دولت لوٹ کر باہر منتقل کرنے اور اپنے بچوں کے نام پر آف شور کمپنیاں بنانے والے بے نقاب ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے لئے خوش آئند بات ہوگی۔ اور حب الوطنی کا لبادہ اوڑھے قوم کی بے لوث خدمت کا ڈھونگ رچانے والوں کے مکروہ چہرے عوام دیکھ پائیں گے۔اب پالیسی سازوں اور ارباب اختیار کو سوچنا ہوگا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس دور میں عوام سے کوئی چیز زیادہ عرصہ چھپائی نہیں جاسکتی۔ اس لئے انہیں اپنا طرز عمل بدلنے کے ساتھ قوانین میں بھی ضروری ترامیم کرنی ہوں گی تاکہ عالمی برادری کو دہشت گردی اور کرپشن ختم کرنے میں ہماری کوششوں پر یقین آسکے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق