تازہ ترینشمس الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ڈاکٹر عرفان جیوا ۔ سفر ختم نہیں ہوا بلکہ ہماری محبت کا سفر ابھی شروع ہوا )

سب ٹھیک ہے ، تھینک یو ، پرفیکٹ ، جی جی ، بہت شکریہ ، بالکل ٹھیک ہوگا ، گریٹ، ونڈرفل، اکسیلنٹ ۔ یہ ہے ڈاکٹر عرفان جیوا کی گفتگو کا حلیم اور پُر کشش انداز ۔ یہی وہ الفاظ ہیں جو کسی بھی مریض کے لئے امرت دھارا سے کم نہیں۔یہی کوئی پانچ فٹ۸ انچ کا سرو کی مانند قد کاٹھ، چالیس سے پینتالیس کی عمر لیکن جسم کی طراوت و تازگی سے تیس بہاروں کا گمان گزرتا ہے ۔ قدرے بیضوی مگر ہر دم متبسم چہرہ ، کشادہ پیشانی، گھنی مگر خمدار ابرو ، ہلکی سی فرنچ کٹ داڑھی، اوپر کی جانب کنگھی سے سلجھے ہوئے سیاہ بال یہ ہیں میرے مسیحا ڈاکٹر جیوا۔ میں اس فرشہ خصلت آدمی تک کیسے پہنچا ؟ در اصل میری ایک آنکھ کی بینائی جب ایک سال کے اندر اندر ختم ہوتی معلوم ہوئی تو ہزاروں سوچ دامن گیر ہوئیں ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میری دائیں آنکھ کے سامنے پلاسٹک کی موٹی تہہ جمی ہوئی معلوم ہونے لگی، میں نے نیٹ پر آنکھوں کی مختلف بیماریوں کے حوالے سے جانکاری کا سلسلہ شروع کیا تو یہ دیکھ کر نیم پاگل ہو گیا کہ آنکھ بھی ایک الگ دنیا بلکہ ایک لا متناہی کائینات ہے اور اس کی بیماریاں بھی بے شمار ہیں ۔ میں نے اپنی آنکھوں کو ہزاروں بیمارویوں میں مبتلا پایا۔ آخر کار میں نے اسلام آباد میں ایک ڈاکٹر سے رجوع کا سوچا تو تب جاکے میری شریک حیات کو اندازہ ہوا کہ صحت کے معاملے میں اتنا بزدل آدمی جو کہ محض انجکشن لگائے جانے کے ڈر سے کسی بھی بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جانے سے کتراتا رہا ہے اب اگر اچھے ڈاکٹروں کی تلاش میں سر گرداں ہے تو کوئی پیچیدگی ضرور ہے ۔ لہذا میری شریک حیات مجھے ہر صورت میں اے ۔ کے ۔ یو لے جانے پر بضد ہوئیں ۔میری خوبی قسمت یہ ہے کہ میں ایک ٹیچر ہوں اس وقت ہمارے دو ہزار کے قریب پودے ابھی قد آور درخت بنے ہوئے ہیں جہاں بھی جاتے ہیں خوب پذیرائی ہوتی ہے ، احترام ہوتا ہے اور خدمت کی جاتی ہے۔ میں نے جب معلومات کیں تو اے۔ کے ۔ یو میں ہمارے کئی ایک شاگرد وں کی موجودگی کا سراغ ملا ۔ میں نے صر ف تنویر عالم سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ اے۔ کے ۔یو میں امراض چشم سے متعلق کسی ایسے ڈاکٹر کی تلاش کی جائے جو ملکی سطح پر مشہور ہو ۔ تین دنوں کی مسلسل تحقیق کے بعد انہوں نے ڈاکٹر عرفان جیوا کا نام لیکر فون پر مجھے بتایا کہ جس ڈاکٹر کے حوالے سے اُس نے معلومات کی ہیں وہ ملکی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شہرت کے حامل پیشہ ور ہیں ۔ یہ سن کر میں نے فیصلہ کیاکہ ڈاکٹر جیوا ہی میرے مسیحا ہوں گے ۔ میں نے انٹر نٹ کھول کر عرفان جیوا کا پروفائیل دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ تنویر عالم کی تحقیق و تلاش نہ صرف درست تھی بلکہ بہترین بھی تھی۔
ڈاکٹر جیوا تک رسائی سہل کام نہیں ہے موصوف تک پہنچنے سے پہلے کئی ایک مراحل سے گزر نا پڑتا ہے ۔ کئی ایک جگہوں سے گزرنے کے بعد ایک ایسی جگہ میری حاضری ہوئی جہاں صحت سے متعلق مریض سے اُس کے حال اور ماضی کے حوالے سے سوال و جواب کی نشست ہوتی ہے اس نشست کو ہسٹری لینا کہتے ہیں عملے کے ایک ممبر نے میری ہسٹری لی جس میں میری موجودہ صحت اور ماضی کے حوالے سے بہت سارے سوالات پوچھے گئے ۔ ہسٹری دینا مشکل بلکہ خاصا مشکل کام ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے تھوڑی دیر بعد کسی خطرناک بیماری کے بارے میں بتایا جائے گا ۔یہ سمجھنے کے باوجود بھی کہ یہ سب آپ کے فائدے کے لئے ہو رہا ہے ، انسان کو بلاوجہ ڈر لگتا ہے، فشار خون میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے ، بار بار پیشاب آنے لگتا ہے ، منہ خشک ہو جاتا ہے ، زبان تھرا جاتی ہے ، حلق سے بھرائی ہوئی آوازیں نکلتی ہے ،تن بدن پر کپکپی طاری ہوتی ہے ، اوسان خطا ہو جاتے ہیں ، ہوش اڑ جاتا ہے ۔ پریشانی کے عالم میں ،میں نے سوال جھونک دیا ’’ کیا میرا اپریشن ہوگا ؟‘‘ کہا ، ’’ یہ تو ڈاکٹر صاحب بتائیں گے ‘‘ میرے دل کی دھڑکنیں اور بھی تیز ہوئیں میں نے سوچا شاید میرا کیس بہت گھمبیر ہے ورنہ اتنا کچھ دیکھنے بلکہ پرکھ پرکھ کے دیکھنے اور کرید کرید کے پوچھنے کے بعدکیس کی نوعیت کے بارے میں بتا نا کونسا مشکل کام ہے ؟ مجھے ایک جگہے پرمزید انتظار کرنے کو کہا گیا ۔( یاد رہے کہ یہاں کسی کو غیر ضروری انتظار نہیں کرایا جاتا یہاں انتظار کے معاملے میں محمود و ایاز اور محتاج و غنی ایک ہیں ) تھوڑی دیر بعد ایک اسٹاف باہر آئے اور پکارنے لگا ’’ شمس الحق ولد شمسیار خان ‘‘ جب میں اُٹھنے لگا تو مارے ڈر کے میری ٹانگوں میں جیسے خون منجمد سا ہو گیا ۔ میں حیلے بہانے سے فرار کا راستہ ڈھونڈ تا رہالیکن میرے بھاگ جانے کے تمام راستے مسدود ہو گئے تھے کیوں کہ میرے پیچھے میری بیوی جو اسی کام کے لئے مجھے گھسیٹ کے یہاں تک لا چکی تھی اور آگے میڈیکل کا عملہ ۔ اسی حواس باختگی کے عالم میں جب میں ڈاکٹر کے دفتر میں داخل ہوا تو ڈاکٹر جیوا دفتری لباس میں ملبوس تھے ہلکے نیلے سوٹ اور سفید شرٹ پر ٹائی کے نازک گرہ میں سفید اور گندمی رنگ کا امتزاج موصوف کے گلے میں خوب جچتا تھا ۔ ان کے دفتر میں کوئی قینچی یا کوئی اور تیز دھار والا اوزار نظر نہیںآیا تو مجھے یک گونہ اطمینان سا ہوا بالکل ایسے جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے ۔ اس قرار کی بنیادی وجہ ڈاکٹر عرفان جیوا کی گفتگو کا دل کو بھانے والاانداز تھی ۔مجھے اتنے تپاک سے ملے کہ میری ساری تھکاوٹ دور ہو گئی ۔ اپنے سامنے ایک بے انتہا مشفق انسان کو دیکھ کر نقوی صاحب کا یہ شعر یا دآ یا ؂ اے ناز پرور ناز آفریں، لاکھوں حسین ہیں تجھ سا نہیں، خندہ جبیں شیریں سخن اے جان من جان بہاراں ۔ ڈاکٹر جیوا کی ہر بات میرے لئے اُمید کی کرن تھی۔ ڈاکٹر نے اپنے انداز سخن سے مجھے اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا ۔ اِس وقت آپ کے سامنے ایک مشین اور ایک کمپوٹر رکھا ہوا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے اور مجھے اپنی ٹھوڑی مشین پر پیوست کرنے کو کہا ۔ یہی کوئی ایک منٹ تک میری آنکھوں کا معائنہ کیا مشین کا ایک بٹن دبایا کمپیوٹر کے سامنے ڈاکٹر زبیدہ اسیر ؔ کھڑی تھیں ، ڈاکٹر جیوا نے بٹن دبانے کے بعد ڈاکٹر زبیدہ سے میڈیکل کی زبان میں کچھ پوچھا اور کہا کہ آپ کی آنکھیں ماشا اللہ بہت بہترین ہیں بس ایک ہلکا سا پروسیجر کرنا ہو گا اور آپ اسی دن فارغ ہو جائیں گے ۔ لفظ’’ پروسیجر‘‘ بہ نسبت’’ اپریشن ‘‘کے قدرے حوصلہ افزا تھا ۔ میں نے بلاوجہ اپنا تعارف کیا اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ میں دنیا میں انجکشن کے علاوہ کسی بھی خطرناک چیز سے نہیں ڈرتا ۔ ڈاکٹر عرفان جیوا کو ہنسی تو آئی لیکن مریض کی دلجوئی کی خاطر معنی خیز تبسم فرماتے ہوئے بولے ’’ نہیں ، نہیں ، انجکشن نہیں لگائیں گے ‘‘ ڈاکٹر جیوا کی اس تسلی سے ڈھارس بندھ گئی ۔ڈاکٹر عرفان جیوا سے میری یہ ملاقات 22 جنوری 2018 ؁ کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں اُ ن کی کلینک میں ہوئی ۔ میں ایک غیر یقینی صورت حال سے دوچار تھا ۔ لیکن ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک محفوظ ہاتھ میں ہوں ۔ اپنی آنکھوں کے علاج سے پہلے میں نے بہت سارے لوگوں سے مشورہ کیا ہوا تھا کیوں کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ایک سال کے اندر اندر بڑی حد تک مدہم پڑ گئی تھی ۔پروسیجر کی کہانی بڑی دلچسپ ہے لیکن اس وقت میں صرف اپنے مسیحا کو خراج تحسین کے دو جملے لکھ رہا ہوں لہذا اپریشن والی کہانی اس کے بعد آپ سے بانٹوں گا ۔ اپریشن کے دوسرے دن میں دوبارہ ڈاکٹر کے پاس گیا اب کی بار میں کچھ زیادہ ہی بولنے لگا تھا مجھے ایسا لگتا تھاکہ جاکے ڈاکٹر کو گلے لگاؤں ۔ ایسا ہی ہوا میں ڈاکٹر سے لپٹ گیا میرے منہ سے یہ جملہ نکلا ’’ ڈاکٹر صاحب اب میں آپ کو روشن آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں آپ بہت خوبصورت ہیں ۔ ‘‘ ٹھیک تیرہ دنوں کے بعد دوبارہ معائنے کا حکم ملا ۔ ٹھیک تیرہ دنوں کے بعد دوبارہ حاضر ہوا ۔ ڈاکٹر صاحب حسب معمول تپاک سے ملے ۔ اُس سے ہاتھ ملاتے ہوئے مجھے بار بار محسوس ہو رہا تھا کہ میں واقعی کسی مسیحا سے مصافحہ کر رہا ہوں کیوں کہ مجھے ایک روحانی آسودگی ہور ہی تھی ۔ ڈاکٹر نے دوبارہ مجھے اپنی ٹھوڑی مشین پر رکھنے کو کہا ، آنکھ کا معائنہ کیا اور کہا ’’بالکل بہترین ، زبردست ، پرفیکٹ ، کنگریٹولیشن ۔ ‘‘ میں نے اپنی ٹھوڑی مشین سے ہٹا دی ، ڈاکٹر میرے بالکل روبرو تھے ، انہوں نے کہا ’’ہمارا سفر یہیں ختم ہوتا ہے آپ خوش رہیں اورآپ کو آپ کا کامیاب اپریشن مبارک ہو ، آپ کسی بھی وقت مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ میں نے دل میں کہا ’’ سفر ختم نہیں ہوا بلکہ ہماری محبت کا سفر ابھی شروع ہوا ‘‘ ڈاکٹر جیوا آپ ہمیشہ خوش رہیں اور آپ کے ہاتھ سے سب کو شفا ملتی رہے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق