احسان الحق اور اُن کے حواریوں کی طرف سے رائیلٹی کی تقسیم میں امتیاز برتنے کے الزامات بالکل بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں ۔معتبرات شیشی کوہ کی پریس کانفرنس – Chitral Express

Premier Chitrali Woolen Products

احسان الحق اور اُن کے حواریوں کی طرف سے رائیلٹی کی تقسیم میں امتیاز برتنے کے الزامات بالکل بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں ۔معتبرات شیشی کوہ کی پریس کانفرنس

چترال ( محکم الدین ) کالاس شیشی کوہ کے معتبرات نے کچھ شر پسند عناصر کی طرف سے خود کو کالاس گاؤں کے رہائشی قراردے کر جے ایف ایم سی کے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ محکمہ تعلیم سے وابستہ احسان الحق نامی شرپسند شخص جس کا کالاس گاؤں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کارائیلٹی سے متعلق بات کر نا ہی باعث تعجب ہے ۔ چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی بُرہان الدین ، حاجی شیر دولہ خان ، صمد خان ، رحمت کریم ، عبد الستار ، پنجرش خان اور شیر فراز خان نے کہا ۔ کہ موصوف احسان الحق کی پوری زندگی مجرمانہ کاموں میں گذری ہے ، تھانہ دروش میں شرپسندی کے مختلف کاموں کی وجہ سے مبلغ 80ہزار روپے جرمانہ اور کئی مہینوں تک سروس سے معطلی کی سزا بھگتنے کا ریکارڈ موجود ہے ۔ اس لئے وہ اپنے مجرمانہ خصائل کی وجہ سے لوگوں کو آپس میں لڑانے کی پالیسی پر ہنوز گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاس میں 1982سے رائیلٹی خاندان کے ہر فرد کی بنیاد پر تقسیم ہوتی رہی ہے ۔ اور گاؤں کے کسی بھی مردو عورت کو اس حوالے سے تاحال کوئی شکایت نہیں رہی ہے ۔ اسلئے احسان الحق اور اُن کے حواریوں کی طرف سے رائیلٹی کی تقسیم میں امتیاز برتنے کے الزامات بالکل بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ رائیلٹی کی تقسیم میں جے ایف ایم سی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اور اب بھی رائیلٹی کی تقسیم اُنہیں کے ہاتھوں ہونے چاہیں۔ بصورت دیگر بہت سے مسائل کھڑے ہوں گے ۔ جو کہ عوام اور حکومت دونوں کیلئے پریشانی کے باعث ہوں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ۔ کہ جنگل کی کٹائی ، ڈھلائی اور لکڑی کو مارکیٹ تک پہنچاکر فروخت کرنے تک یہ طویل مراحل ہیں ، جس میں بڑے پیمانے پر رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لئے ان امور کی انجام دہی کیلئے جو رقم خرچ کی جاتی ہے ۔ اُس کی ادائیگی بھی ضروری ہوتی ہے ۔ اور موجودہ رائیلٹی کی رقم بھی ان تمام ضروری اخراجات کے نتیجے میں ٹمبر کے فروخت کے بعد ڈپٹی کمشنر کے پا س آئے ہیں ۔ اب اس طریقہ کار کو بائی پاس کرنے کی صورت میں خرچ شدہ رقوم کی آدائیگی کون کرے گا ۔ اس لئے ڈپٹی کمشنر چترال کو چاہیے ۔ کہ وہ 1982سے جاری جے ایف ایم سی کے طریقہ کار کے تحت رائیلٹی تقسیم کرے ۔ آیندہ اگر مارکنگ ہو جاتی ہے ۔ تو ان اخراجات کیلئے خود رقم خرچ کرے ۔ اُس کے بعد اپنے طریقہ کار کے تحت رائیلٹی کی رقم تقسیم کرے ۔ ہمارا اُس سے کوئی سروکار نہیں ہو گا ۔ مگر موجودہ وقت میں اُن کا طریقہ جنگلاتی علاقے کے لوگوں اور انتظامیہ کو پریشانی اور مشکلات سے دوچار کرے گا ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

پرویز مشرف الیکشن 2018میں چترال سے قومی اسمبل کی نشست کے امیدوار ہونگے کاغذات نامزدگی مکمل، بیان حلفی کا انتظار

چترال ( محکم الدین ) سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سابق صدر پاکستان ...


دنیا بھر سے