تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان……..’’شاید میری تلخ نوائیاں‘‘

میری ایک ارٹیکل ’’کیا تعلیم عام ہو رہی ہے ‘‘ کے نام سے مختلف اخباروں میں شایع ہوئی ۔۔ارٹیکل کیا ہے ایک معمولی سی تحریر ہے اس میں میں نے تعلیم سے زیادہ تربیت کو اہم قرار دیا تھا ۔۔تربیت کو اسلام اور انسانیت کی روح قرار دیا تھا ۔۔اسلام نے انسانیت کی جو تربیت کی ۔اس کے پیروکار میدان جنگ میں بھی اس پر کار بند رہے ۔۔اسی تربیت کی بنیاد پر گھر انگن ،خاندان ،نسل ،قوم اور معاشرے کی تربیت ہوتی ہے اور اس کی بنیاد پڑتی ہے ۔۔اگر اس تربیت میں فرق ہو تو جس کو ہم تعلیم کہتے ہیں وہ کام نہیں آتی ۔۔سچ بولنے کے لئے بہت بڑی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔لیکن جو کھرا سچا ہے وہ قوم کے لئے بڑے ڈگری ہولڈر سے کار آمد ہوتا ہے ۔۔اسی طرح سب اچھائیوں کی کوئی ڈگری نہیں ہوتی اور نہ برُایوں کا کوئی ادارہ ہوتا ہے ۔۔ایک مہذب معاشرہ۔۔ ایک غیرت مند نسل اور ایک تربیت یافتہ قوم ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتی ہے ۔۔فرد پہچانا جاتا ہے کہ یہ فلان قوم اور فلان ملک کا باشندہ ہے ۔۔چترال ٹوڈے میں میری یہ ارٹیکل چھپی تو میرے ایک بہت ہی تعلیم یافتہ اور محترم قاری نے اس پہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جاوید صاحب کئی سالوں سے کسی بھی مسئلے کے منفی پہلووں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔سیف الدین سیف صاحب آگے لکھتے ہیں کہ اصل مسئلے کو چھوڑ کر اپنے قاری کو تشنہ چھوڑتا ہے ۔۔تربیت میں بڑا کردار والدین اور اساتذہ کا ہے ۔۔میری بھی اپنے پیارے سیف صاحب سے گذارش یہ ہے کہ اس تربیت میں والدین اور اساتذہ کا کردار مثبت نہیں جارہا ۔۔ایک اعلی تعلیم یافتہ اعلی آفیسر بنتا ہے مگر معاشرے میں غرور کا بت بن کر داخل ہوتا ہے ۔۔اس کو اکیڈیمی میں سیکھایا جاتا ہے کہ تم عام لوگوں سے الگ کوئی مخلوق ہو ۔۔اپنے اور ان کے درمیان فاصلہ رکھیں ۔۔اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو آپ کسی آفیسر کے دفتر میں بیٹھ کر ان کا عام پبلک کے ساتھ سلوک دیکھو ۔۔ڈاکٹر ،انجینئر، وکیل ،سیاست دان انتظامیہ کے آفیسرز سب تعلیم یافتہ ہیں لیکن ان میں کتنے شریف ترین ہیں ۔کتنوں کا رویہ نرم ہے۔۔ کتنے سچے کھرے ہیں۔۔۔ کتنوں کو ملک و قوم سے محبت ہے ۔۔کتنے ہیں جو اس ملک کی دولت کی حفاظت کر رہے میں ۔۔کتنوں کے اجتماعی مفادات ہیں ۔۔کتنے قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں ۔۔کتنے گینگ اور دھندوں سے پاک ہیں ۔۔ شاید گنتی کے ہوں ۔۔مجھے یقین ہے کہ اگر میں بھی کوئی بڑا آفیسر ہوتا تو ایسا ہی ہوتا ۔۔اس لئے میں افسوس سے کہتا ہوں کہ تعلیم اور ہنر بیشک عام ہو رہے ہیں مگر تربیت نہیں ۔۔ اگر باپ کی بات بیٹے کو ناگوار لگے۔۔ اگر ماں کی نصیحت پہ بیٹی ناک بھون چڑائے ۔اگر بزرگوں کی صحبت فضول سی نشست لگے ۔۔عریبوں سے نفرت ہو ۔۔اگر ثقافت و تہذیب اور روایات کسی کو ایک آنکھ نہ بھائے تو کیاآپ اس معاشرے کو ’’تعلیم یافتہ‘‘ کہیں گے؟۔۔۔اقبال نے ایسے ’’سبق‘‘ کو ’’خاک بازی ‘‘ کا سبق کہا تھا ۔۔میں ان پہلووں کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں ۔۔اگر یہ میری نگیٹیوٹی ہے تو میں اس سے مطمین ہوں ۔۔اگر آپ ا ٹم بم کے خالق عبد القدیر خان سے بھی اسلام کے بارے میں پوچیں گے تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اسلامی تربیت میں ہماری احیا ہے ۔۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم تربیت میں دوسروں کی نقل کرتے ہیں حلانکہ ہمیں تعلیم اور ہنر میں دوسروں کی نقل کرنی چاہیے ۔۔تربیت ہماری دوسروں کے لئے قابل تقلید ہو ۔۔ماننے کی چیز ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہم بہت پیچھے ہیں ۔۔ہم تقسیم در تقسیم ہیں ۔۔ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی سے منہ موڑا اور صرف ادب اور مذہب کو تعلیم کہا تو ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ۔۔حالانکہ ہما را شیوا یوں نہ تھا ۔۔مشہور سائنسدان جابر بن حیان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ جب مریض کی طرف مسکرا کر دیکھتا تھا تو مریض کا نصف مرض جاتا رہا ہوتا ۔۔یہ ان کا اعلی کردار اور بہترین تربیت تھی ۔۔انسانوں میں یہ فاصلے اسلام ہی نے مٹا دیا تھا ۔۔آج وہ فاصلے خلیج بنتے جارہے ہیں ۔میں اس بات پہ کڑتا ہو ں کہ چترال کی نرالی تہذیب کہیں ہمارے ہاتھوں معدوم نہ ہو جائے ۔۔میں اس کو سب سے پہلے تعلیمی اداروں ،صحت کے مراکز ، بازاروں اور شادی بیاہ کی محفلوں میں معدوم ہوتے دیکھ رہا ہوں ۔۔چلو یہ میری منفی سوچ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔تعلیم سے کسی کو انکار نہیں ۔۔ٹیکنالوجی سے کوانکار نہیں ۔۔سائنسی ترقی سے کسی کو انکار نہیں ۔۔دنیا کی قوموں کی دوڑ میں شامل ہونے اور اپنا مقام بنانے سے کسی کو انکار نہیں ۔۔مگر جس نہج میں ہم اگے بڑھ رہے ہیں ۔۔یہ ہمارے لئے موزون نہیں ۔۔اس پہ چل کے ہم اپنی پہچان کھو دینگے ۔۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق