تازہ ترین

ڈی سی کا دفتر اور رہائش گاہ چلڈرن ہسپتال کے قریب ہونے کے باوجود ڈی سی ہسپتال کی بدتریں بدانتظامی سے بے خبر ہیں۔وقاص احمدایڈوکیٹ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کے معروف وکیل وقاص احمد خان نے کہاہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے ژانگ بازار میں واقع ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے عوام کو انتہائی مایوسی کا سامنا ہے اور یہ سب کچھ پی ٹی آئی حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہسپتال کے وارڈوں میں ایک چار پائی پر تین تین بچوں کو رکھے جاتے ہیں جس سے نہ صرف تیمارداروں کو مشکل کا سامنا ہوتا ہے بلکہ اس سے مرض ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پوری ہسپتال میں مریضوں کے لئے صرف ایک نیبولائزر ماسک موجود ہے جس کی قیمت ایک ہزار روپے ہے اور یہ بھی امراض کو ایک دوسرے میں منتقل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہاکہ ہسپتال میں تمام پرائیویٹ رومز کو ہسپتال کے اسٹاف ذاتی استعمال میں لارہے ہیں اور یہ بھی ایک کرپشن ہے جس کی انکوائری کے لئے نیب اور انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے درخواست کی ہے کیونکہ ہسپتال کے کمروں کو ذاتی رہائش کے لئے استعمال کرنا کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ڈی سی کا دفتر اور رہائش گاہ ہسپتال سے چند قدم کے فاصلے پر موجود ہونے کے باوجود وہ ہسپتال کی اس بدتریں بدانتظامی سے بے خبر ہیں یا شاید وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو پروٹوکول ہسپتال کا عملہ خود انہیں دیتا ہے ، وہ عوام کو بھی دستیاب ہیں۔ انہوں نے ہسپتال کے نرس اسٹاف کے روئیے کو بھی مریضوں اور ا ن کے تیمارداروں کے ساتھ ہتک امیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ یونیفارم پہننے سے بھی احتراز کررہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت بھی نہیں ہوسکتی ہے۔وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ پورا چترال جو تقریباً پانج لاکھ آبادی کے برابر ہے لیکن چترال میں ایک آئی سپیشلٹ اور ایک کاڈیالوجسٹ نہیں،عوامی نمائندگان اپنے حیثیت سے زیادہ فیس بک میں سی پیک پر تبصرہ کرتے ہیں جبکہ ہسپتالوں کی حالات کو ٹھیک نہیں کرسکتے تو کیا خاک سی پیک کا منصوبہ لائینگے یہ صرف عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری سے بھی اس ہسپتال میں بدانتظامیوں کا سخت نوٹس لے کر انکوائری کا مطالبہ کیاجہاں مفت ادویات بھی غریب مریضوں کو دستیاب نہیں۔ بعدازاں صحافیوں کی ایک ٹیم نے جب ہسپتال کا وزٹ کیا تو ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر نے ہسپتال میں صرف ایک نیبولائزر کی دستیابی اور پرائیویٹ رومز کی پرائیویٹ استعمال کی تصدیق کی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق